انعام الرحیم: حکومت کی لاپتہ افراد کے وکیل کی مشروط رہائی کی پیشکش

گمشدہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم کو رہا کرنے پر حکومت کی جانب سے کی مشروط طور پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے۔

بدھ کو عدالت کے سامنے ملزم کے وکیل نے شرائط تسلیم کرلیں تاہم ابھی یہ نہیں معلوم کہ انھیں کب تک رہا کرے گی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کی سماعت کے دوران وزارت دفاع کے ایک نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز کی موجودگی میں اٹارٹی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ کرنل انعام الرحیم شدید بیمار ہیں اور انھیں بار بار ہستال لے جانا پڑتا ہے۔ انھوں نے حکومت کی طرف سے ان کی مشروط رہائی کی رضامندی سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا۔

انعام الرحیم کو گذشتہ برس 17 دسمبر کو راولپنڈی میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے اپنے نو جنوری کے فیصلے میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو وزارت دفاع کے ماتحت اداروں کی حراست میں رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

وکیل

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے رہائی کی شرائط بتاتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملزم دوران تفتیش پورا تعاون کریں گے، اپنے لیپ ٹاپ کا پاسورڈ اور اپنا پاسپورٹ بھی جمع کرائیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزارت دفاع کے ماتحت اداروں کے اہلکاروں نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا تو کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے زیر استعمال لیپ ٹاپ سے بہت سا مواد ملا تھا جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ دشمن ملک کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ مذکورہ وکیل کے خلاف ابھی تحقیقات چل رہی ہیں اور ان کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک ہے اور ان سے تحقیقات کی روشنی میں متعدد لوگوں کی گرفتاریاں ہونی ہیں۔

گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل انور منصور نے ایک سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی جس کا بینچ میں موجود ججز نے مطالعہ کیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی اگر اس معاملے کی ان کیمرہ یا چیمبر میں سماعت کرلیں تو وہ تمام معلومات عدالت کو بتانے کے لیے تیار ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت جرم کی نوعیت کے بارے میں معلومات چاہتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا کہ زیر حراست وکیل کے پاس پاکستان کے جوہری ہتھیاروں، آئی ایس آئی اور کچھ دیگر افراد کے بارے میں معلومات تھیں۔

عدالت نے اس لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی اپیل کو میرٹ پر سننے کی فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان

کرنل انعام الرحیم کون ہیں؟

انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا تعلق پاک فوج کے 62ویں لانگ کورس سے ہے۔ یہ وہی کورس ہے جس سے موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا بھی تعلق ہے۔

آل پاکستان ایکس سروس مین لیگل فورم کے کنوینر انعام الرحیم ماضی میں لاپتہ اور فوج کے حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات لڑنے کے علاوہ فوجی عدالتوں اور فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔

انعام الرحیم پاک فوج کی لیگل برانچ جسے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ یا جیگ برانچ کہتے ہیں سے بھی منسلک رہے۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوج میں رہتے ہوئے پرویزمشرف کے ناقدین میں شامل تھے۔

انھوں نے اپنے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز ملٹری وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وہ لیفٹینینٹ کرنل کے عہدےسے آگے نہ جاسکے اور اکتوبر 2007 میں ریٹائر ہو گئے۔

2008 میں انعام الرحیم نے راولپنڈی میں قانون کی پریکٹس شروع کر دی۔ ان دنوں راولپنڈی میں پرویز مشرف پر حملہ کیس کے ملزمان رانا فقیرو دیگر اپنے لیے وکیل تلاش کررہے تھے مگر کوئی ان کا کیس لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ انعام الرحیم آگے بڑھے اور انہوں نے ملزمان کے وکیل کے طور پر خدمات پیش کیں۔

اس طرح وہ پہلی بار میڈیا کی نظروں میں بھی آئے۔

پرویز مشرف اوردیگر عسکری شخصیات کے اثاثوں سے متعلق انعام الرحیم نیب سے بھی رجوع کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے اثاثوں کے بارے میں انھوں نے مختلف فورمز پر درخواستیں بھی دیں۔

انعام الرحیم نے جنرل راحیل شریف کے دور میں پاک افغان سرحد پر انگور اڈہ چیک پوسٹ مبینہ طور پر افغانستان کے حوالے کرنے کے خلاف بھی ایک رٹ پٹیشن کررکھی تھی جس میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو بھی ملزم نامزد کر رکھا تھا۔

حال ہی میں عاصم سلیم باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر تعیناتی کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سامنے آیا تھا۔