انفارمیشن ٹیکنالوجی: پاکستان کا آئی ٹی شعبہ برآمدات میں اضافے کے باوجود ہنرمند افرادی قوت کی کمی کا شکار

’جب 2004 میں میں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں قدم رکھا تو اس وقت خواتین کے لیے یہ شعبہ اجنبی سمجھا جاتا تھا۔ میں نے فری لانسر کے طور پر انفرادی طور پر کام شروع کیا اور جب کام بڑھنے لگا تو میں نے ایک چھوٹی سی کمپنی قائم کی جو پندرہ سے بیس افراد پر مشتمل تھی مگر اب میری کمپنی میں ملازمین کی تعداد 80 سے تجاوز کر چکی ہے۔‘

’گذشتہ چند سالوں میں کمپنی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ مصنوعات میں بھی اضافہ ہوا اور آمدن بھی بڑھی۔ اگر صرف گذشتہ سال کے ریونیو کو ہی لیا جائے تو اس میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا۔‘

کراچی میں کام کرنے والی آئی ٹی کمپنی جین ٹیک کی مینجنگ ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر شمیم راجانی نے اپنی کہانی سُنانے کی ابتدا کچھ اس طرح کی۔

راجانی کی کمپنی بیرونی دنیا میں آئی ٹی کی خدمات فراہم کرتی ہے اور اس کے عوض انھیں ڈالروں کی صورت میں ایکسپورٹ ریونیو حاصل ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے فری لانسر کے طور پر کام شروع کیا تھا تو مقامی مارکیٹ میں صرف خاتون ہونے کی وجہ سے انھیں آرڈرز نہیں ملتے تھے جس کی وجہ سے میں نے امریکہ اور یورپ میں اپنے کلائنٹ ڈھونڈے۔‘

اور آج ان کی قائم کردہ کمپنی امریکہ اور یورپ میں سب سے زیادہ آئی ٹی خدمات برآمد کر کے ایکسپورٹ ریونیو کما رہی ہے۔

شمیم راجانی پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں جہاں ایک کامیاب خاتون کے طور پر ملک کی آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافے میں حصہ ڈال رہی ہیں تو وہیں پورے پاکستان میں اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کمپنیاں اس شعبے میں برآمدات میں اضافے کی جدوجہد میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

آئی ٹی

رواں برس حکومت پاکستان نے آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی آئی ٹی برآمدات کا حجم 635 ملین ڈالر یعنی 63.50 کروڑ ڈالر رہا۔

آئی ٹی مصنوعات کا موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا حجم گذشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے حجم سے 42 فیصد زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات دو ارب ڈالر سے تجاوز کی تھیں۔

مگر اس شعبے سے منسلک برآمدات میں اضافے کے باوجود اس شعبے سے منسلک افراد کچھ مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں سب سے بڑا مسئلہ ہنرمند افرادی قوت کی کمی ہے۔

اس شعبے سے منسلک ماہرین کے مطابق تعلیمی اداروں سے نکلنے والے ہنرمند آئی ٹی افراد کی تعداد طلب کے مقابلے میں کم ہے تو اس کے ساتھ ان میں سے اکثریت اس استعداد سے عاری نظر آتی ہے جو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی کیا وجہ ہے؟

آئی ٹی

ملک میں آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم 'پاکستان سافٹ وئیرہاوسز ایسوسی ایشن' کی سینیئر وائس چیئر پرسن عمارہ مسعود بتاتی ہیں کہ دنیا اب ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی طرف جا رہی ہے اور کورونا وائرس کے بعد اس عمل میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کورونا وارئرس کی وجہ سے دنیا بھر میں آن لائن سروسز اور ایپس کا استعمال بڑھا تو اس کا مثبت اثر آئی ٹی مصنوعات اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر بھی پڑا اور پاکستان نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کسی بھی شعبے میں ترقی کیلئے ضروری ہے کہ آپ اس کی بنیاد، اس کے انفراسٹرکچر اور اس کے مسائل سے مکمل آگاہی رکھتے ہوئے اس میں بہتری کے لیے اقدامات کریں۔ انھوں نے کہا پاکستان میں آئی ٹی ایکسپورٹ کو ماضی میں کوئی خاص اہمیت نہیں گئی یا یوں کہہ لیں کہ اسے منافع بخش شعبہ سمجھا ہی نہیں گیا۔

امین الحق نے کہا پاکستان سستی لیبر، آئی ٹی ایکسپرٹس، انگلش بول چال، ٹائم زون اور ہنر مندی کے لحاظ سے دنیا کے ٹاپ فائیو میں شمار ہوتا ہے لیکن اپنی اس خوبی کو دنیا میں کبھی مارکیٹ نہیں کیا گیا مگر اب ایسا کیا جا رہا ہے جس کے اثرات بھی سب کے سامنے ہیں۔

آئی ٹی برآمدات کے حجم میں کیا مزید اضافہ ہو سکتا ہے؟

اگرچہ آئی ٹی مصنوعات کا موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا حجم گذشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے حجم سے 42 فیصد زیادہ ہے مگر اس شعبے سے منسلک افراد کے مطابق یہ حجم ابھی بھی بھی بہت کم ہے۔

شمیم راجانی نے بتایا کہ اگر صرف انڈیا کی آئی ٹی برآمدات کو لیا جائے تو گذشتہ برس اس کا حجم 200 ارب ڈالر تک رہا۔ انھوں نے کہا اگرچہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈیا اس شعبے میں پاکستان سے بہت پہلے داخل ہوا اور نوے کی دہائی کے شروع میں ہی انڈیا میں اس شعبے کے فروغ کے لیے کام شروع ہو چکا تھا مگر دوسری جانب پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں کام میں اضافہ سنہ 2000 کے بعد نظر آیا۔

عمارہ مسعود کے مطابق انڈیا میں کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے مضامین پڑھنے کا بہت زیادہ رجحان ہے اور یہی چیز پڑوسی ملک کو اس شعبے میں پاکستان پر سبقت دلوا رہی ہے۔

پاکستان سافٹ وئیرہاوسز ایسوسی ایشن کی سیکریٹری جنرل حرا زینب نے بتایا کہ انڈیا عالمی سطح پر اس شعبے میں نوے کی دہائی میں آ چکا تھا مگر پاکستان میں اس حوالے سے کافی تاخیر ہوئی۔

انھوں نے کہا ہم پالیسی کی سطح پر ابھی آ رہے ہیں کہ ملک اس شعبے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی کیا ہوگی اور اسے کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

آئی ٹی

حرا زینب نے اس سلسلے میں کہا موجودہ دور میں پالیسی کے لحاظ سے بہت مثبت پیش رفت ہوئی ہے تاہم گروتھ کے رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی میں تسلسل ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا بتایا کہ پہلے آئی ٹی سیکٹر کو 2025 تک ٹیکس کی چھوٹ دی گئی لیکن پھر ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اس چھوٹ کو ختم کر دیا گیا۔ انھوں نے کہا ایسے اقدامات سے مستقبل کی گروتھ پر سوالیہ نشان اٹھتے ہیں۔

آئی ٹی انڈسٹری کن مسائل کا شکار ہے؟

عمارہ مسعود کہتے ہیں کہ اس وقت ملک میں تین ہزار سے زائد کمپنیاں لارج، میڈیم اور سمال سطح پر اس شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا ان میں سے صرف 200 سے 300 کمپنیاں ہی اُن کی ایسوسی ایشن کی رکن ہیں۔

عمارہ نے کہا اس شعبے کو سب سے بڑا مسئلہ سپلائی سائیڈ کا ہے۔ انھوں نےکہا آئی ٹی کی خدمات کی ڈیمانڈ اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ ہم اسے پورا ہی نہیں کر پا رہے، پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ آئی ٹی گریجویٹس کی ضرورت ہے لیکن تعلیمی اداروں سے صرف 25 ہزار لوگ ہی نکل رہے ہیں۔

حرا زینب نے اس سلسلے میں بتایا کہ اگر 25 ہزار طلبا تعلیمی اداروں سے پاس آوٹ ہو بھی رہے ہیں تو ان میں سے صرف 2500 ایسے ہیں کہ جن کے اندر وہ مہارت اور ہنر ہے جو کہ آئی ٹی کے شعبے میں درکار ہوتی ہے۔ حرا نے کہا اس شعبے میں طلب اتنی زیادہ ہے کہ ایک لاکھ قابل گریجویٹس دو مہینوں میں ملازمتوں پر لگے ہوں گے۔

پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر عثمان نثار نے بھی سپلائی سائیڈ پر مسائل کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا ہم اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں اور مختلف منصوبے لا رہے ہیں جن کے تحت ہم گریجویٹس کے ساتھ ساتھ یہ مضامین پڑھانے والے اساتذہ کی استعداد بڑھانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

حرا زینب کے مطابق اس شعبے کو انفراسٹرکچر کی نہیں بلکہ پالیسی سطح پر مدد چاہیے اور اسے حکومت کی ترجیحات میں زیادہ جگہ ملنی چاہیے جیسے کہ حکومت ٹیکسٹائل کے شعبے کو دیتی ہے۔

انھوں نے کہا اگر اس شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے تو یہ پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے نکال سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے کو انفراسٹرکچر کی ضرورت نہیں بلکہ صرف پالیسی کی ضرورت ہے جس میں کاروبار میں آسانی جییسے مسائل شامل ہیں۔

انھوں نے کہا اگر حکومت کی جانب سے موجودہ پالیسی جاری رہتی ہے اور مزید معاونت ملتی ہے تو اس شعبے کی برآمدات 2025 تک دس ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر امین الحق کہتے ہیں کہ پالیسی سازی اور فری لانسرز کو سہولیات کی فراہمی کے لیے وزارت آئی ٹی اقدامات کر رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں فری لانسرز کو بینک اکاؤنٹ کھولنے سے لے کر ایف بی آر کے نوٹسز تک کئی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا ہے اور اس ضمن میں فری لانسرز پالیسی بھی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی مراحل میں ہے۔

اسی طرح آئی ٹی ایکسپورٹ میں نمایاں کارکردگی کے حامل فرد یا کمپنی کو نقد انعامات دینے کے لیے حکومت نے وزارت کی تجویز پر چار ارب روپے کا فنڈ مختص کیا ہے جو ایکسپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ کام کرنے اور زرمبادلہ پاکستان لانے کی جانب ترغیب دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

error: