انڈونیشیا میں کورونا ویکسین کیلئے انسٹاگرام انفلوئنسرز کو ترجیح

حال ہی میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں کورونا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کے استعمال کا شروع کیا گیا ہے۔

27 کروڑ سے زائد آبادی والے اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک انڈونیشیا میں 13 جنوری کو صدر جوکو ودود کو ویکسین لگانے سے مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔

تاہم یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انڈونیشیا میں سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام پر زیادہ فالوونگ رکھنے والوں کو ویکسین کے لیے ترجیح دی جارہی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں جب 13 جنوری کو صدر جوکو ودود کو ویکسین لگائی گئی تو اسی روز انڈونیشیا میں ٹی وی پر مقبول رفیع احمد نامی شخص کو بھی ویکسین لگائی گئی تھی۔‎

خیال رہے کہ رفیع احمد کے انسٹاگرام پر لگ بھگ 5 کروڑ فالوورز ہیں۔

ویکسین لگنے کے بعد 33 سالہ سیلیبریٹی نے ویکسین لگوانے کی ویڈیو شیئر کی اور کیپشن میں لکھا کہ 'الحمداللہ، ویکسین لگوانے سے خوفزدہ نہ ہوں'۔

محدود مقدار میں دستیاب کورونا وائرس کی ویکسین کسی پہلے لگائی جائے یہ فیصلہ کرنا دنیا بھر کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے اور کئی ممالک، طبی عملے اور معمر افراد کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے انڈونیشیا کی وزارت صحت کی سینئر عہدیدار ستی نادیہ ترمذی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 15 لاکھ ہیلتھ کیئر ورکرز کے علاوہ انفلوئنسرز کو سامل کرنے کا فیصلہ حکومت کی دانستہ مواصلاتی حکمت عملی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 8 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر جبکہ 25 ہزار انتقال کرچکے ہیں۔

وہاں ویکسین کے محفوظ اور مؤثر ہونے اور حلال ہونے سے متعلق بھی شکوک و شبہات موجود ہیں۔

—فائل فوٹو: اے پی
—فائل فوٹو: اے پی

چوں کہ انڈونیشیا کے شہری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور انسٹاگرام کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں اس لیے یہ حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔

تاہم وزارت صحت نے یہ نہیں بتایا کہ پہلے مرحلے میں کتنے انفلوئنسرز کو ویکسین لگائی جائے گی اور گزشتہ روز جن انسٹاگرام انفلوئنسرز کو ویکسین لگائی گئی ان میں موسیقار ایریل اور ریسا سرسوتی شامل ہیں۔

بندونگ شہر میں صحت ایجنسی کی سربراہ آہیانی رکسانگارا نے رائٹرز کو بتایا کہ فنکاروں کے ذریعے ویکسین سے متعلق مثبت تاثر اور پیغامات پہنچانے میں مدد ملنے کی امیدہے۔

—فائل فوٹو: اے پی
—فائل فوٹو: اے پی

گزشتہ ماہ کیے جانے والے ایک پول کے مطابق انڈونیشیا کے 37 فیصد شہری ویکسین کے خواہاں ہیں جبکہ 40 فیصد غور کررہے ہیں اور 17 فیصد اس سے انکاری ہیں۔

علاوہ ازیں کچھ ڈاکٹرز نے انڈونیشیا میں چینی کمپنی سائنو ویک بائیوٹیک کورونا ویک ویکسین کے ابتدائی استمال پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب عوامی سطح پر ویکسین کے فروغ کے لیے انڈونیشیا کی اسلامی کونسل اسے حلال قرار دے چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *