انڈیا، پاکستان تجارت: ’تجارت پر پابندی کی خبر اتنی تباہ کُن تھی کہ لوگوں نے کئی دنوں تک کھانا نہیں کھایا‘

دھرمیندر سنگھ اور ان کا خاندان عرصہ دراز سے انڈیا اور پاکستان کے مابین ہونے والی تجارت پر انحصار کر رہا تھا مگر 16 فروری 2019 کو پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے نے اس خاندان کے لیے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔

اس حملے کے تناظر میں انڈیا نے پاکستان سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 200 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت لگ بھگ رُک گئی۔

دھرمیندر کے دادا بھی جوانی میں بطور قُلی سرحد پار تجارت سے منسلک تھے۔ اسی طرح ان کے والد نے بھی یہی کام شروع کیا اور دھرمیندر کو دونوں ملکوں کے مابین تجارت کرنے والی ایک کمپنی میں کلرک کی ملازمت دلوا دی۔

جب دھرمیندر کو نوکری مل گئی تو اُنھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی وہیں کام پر لگوا دیا۔

ان کا کنبہ خوشحال تھا اور معاشی بہتری کی جانب گامزن تھا۔ اپنی کمائی سے اُنھوں نے ایک اچھا مکان بھی تعمیر کر لیا تھا اور اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بہتر سکولوں میں بھیجنا شروع کر دیا تھا۔

انڈیا کی جانب سے 200 فیصد کی کسٹم ڈیوٹی عائد ہونے کے بعد پاکستان نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں کی جانے والی تبدیلی کے جواب میں تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ دونوں ممالک کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں مستقبل میں تجارت کی تجدید کی تمام امیدیں ختم ہو کر رہ گئی تھیں۔

دھرمیندر نے تجارت دوبارہ شروع ہونے کے لیے چند ماہ انتظار کیا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آخر کار اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ روزی کمانے کے لیے دوسرے ذرائع کا استعمال کریں گے۔

دھرمیندر سنگھ کہتے ہیں کہ ’میں گربانی (سکھ مت کی مذہبی کتاب) بطور شوق پڑھتا تھا۔ لیکن پھر مجھے اپنے اس شوق کو پیشے میں تبدیل کرنا پڑا۔‘

ساتھ ہی ان کے بے روزگار والد نے گھر میں پالے ہوئے مویشیوں کا دودھ فروخت کرنا شروع کر دیا لیکن کورونا وبا نے ان کی زندگی کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ اب اُنھیں ایک مہینے میں گربانی پڑھنے کے لیے بمشکل پانچ سے چھ دعوت نامے موصول ہوتے ہیں۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشندھرمیندر نے تجارت دوبارہ شروع ہونے کے لیے چند ماہ انتظار کیا، لیکن ایسا نہیں ہوا

انڈیا پاکستان تجارت پر انحصار کرنے والے امرتسر جیسے دیگر سرحدی علاقوں میں دھرمیندر اور اُن کے کنبے جیسی کہانیاں عام ہیں۔

تاہم گذشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت نے ان خاندانوں کے لیے امید کی نئی شمع روشن کی ہے۔

حالیہ دنوں میں انڈیا اور پاکستان نے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے باہمی دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے سینیئر رہنماؤں نے عوامی سطح پر تعلقات کو بہتر بنانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پاکستان نے گذشتہ روز انڈیا سے چینی، کپاس اور دھاگے کی برآمد کا اعلان کیا ہے۔

ان سرگرمیوں سے انڈین پنجاب کے سرحدی علاقے کے لوگ پُرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت جلد بحال ہونی چاہیے۔

تاہم 2019 سے شروع ہونے والی تجارتی پابندیوں نے ان خاندانوں کو معاشی سطح پر بہت حد تک متاثر کیا ہے۔

’بریف‘ نامی ایک انڈین تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق تجارت پر پابندی نے پنجاب اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں لگ بھگ 75 ہزار افراد کو متاثر کیا ہے۔

امرتسر کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے پنجاب میں تقریباً 80 سرحدی گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔

اٹاری ٹرک یونین، جس کے ممبران انڈیا پاکستان تجارت پر کافی انحصار کرتے تھے، کے بانی ممبر کلویندر سنگھ سندھو کہتے ہیں کہ ’تقریباً 80 گاؤں اور ہر گاؤں میں اوسطاً 50 سے 60 افراد‘ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق جب دونوں ممالک کے درمیان تجارت اپنے عروج پر تھی تو سرحد سے صرف کچھ ہی فاصلے پر قائم اس یونین میں 517 ٹرک رجسٹرڈ تھے لیکن اب تک تقریباً آدھے ٹرک فروخت ہو چکے ہیں۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشنکلویندر سنگھ سندھو کہتے ہیں کہ 'تقریباً 80 گاؤں اور ہر گاؤں میں اوسطاً 50 سے 60 افراد' اس تجارت پر پابندی سے متاثر ہوئے

سندھو خود چھ ٹرکوں کے مالک تھے۔ کچھ عرصہ قبل اُنھوں نے کام کی کمی کی وجہ سے چار ٹرک خسارے میں فروخت کیے ہیں۔ اُنھوں نے اپنے بیٹے کے لیے ٹائلوں کی فیکٹری شروع کی تھی لیکن اب وہ بھی بند ہے اور فیکٹری کا کوئی مناسب خریدار نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ تجارت بند ہونے کی خبر سے یہاں ’سبھی سُن ہو گئے۔‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ خبر اتنی تباہ کن تھی کہ تجارت پر انحصار کرنے والے بہت سے لوگوں نے کئی دنوں تک کھانا نہیں کھایا۔

تجارت پر پابندی سے قبل سرحدی تجارت کے لیے نامزد مرکز (انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ) میں رش لگا رہتا تھا۔

پاکستان سے یہاں ٹرک آتے تھے اور بڑی تعداد میں انڈیا سے بھی پاکستان کی طرف جاتے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان جپسم، کپاس، میوہ جات اور سبزی جیسی اشیا کا تبادلہ ہوتا تھا۔ بالواسطہ یا بلاواسطہ، یہ سرحد پر تجارت سے منسلک سینکڑوں خاندانوں کے خوشی کی وجہ تھی۔

انڈیا، پاکستان، تجارت

آج یہ مرکز پہلے کے مقابلے میں ویران ہے۔ آپ کو چند قلی کام کے انتظار میں نظر آئیں گے۔ پہلے سبھی قلیوں کی روزی روٹی یقینی بنانے کے لیے سبھی آپسی اتفاق سے ایک روز ناغہ کر کے کام پر آتے تھے اور جب تجارت اچھی ہوتی تھی تو وہ روزانہ بھی آتے تھے اور اپنے ساتھ ہیلپر (مددگار) بھی لے کر آتے تھے۔

انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ میں سینٹرل ویئر ہاؤسنگ کارپوریشن کے مینیجر سکھرام چوہان کا کہنا ہے کہ ’اب صرٖف افغانستان سے دس، پندرہ ٹرک آتے ہیں جن میں خشک میوہ جات اور سیب جیسی اشیا ہوتی ہیں۔‘

افغانستان سے آنے والے ٹرک پاکستان اور افغانستان کے مابین الگ معاہدے کے طور پر آتے ہیں لیکن چونکہ پاکستان انڈیا سے درآمد کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے افغانستان سے آنے والے ٹرک خالی لوٹ جاتے ہیں۔

اس خطے میں تجارتی پابندی کا اثر اس قدر وسیع ہے کہ امرتسر کے سرحدی گاؤں میں تقریباً ہر ایک شخص اس سے متاثر ہے۔

کورونا وائرس کی وبا نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ اس وبائی مرض کی وجہ سے انڈین حکومت واہگہ میں پرچم اتارنے کی تقریب میں لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دے رہی جسے ہزاروں لوگ دیکھنے آتے تھے۔

اٹاری گاؤں کے رہنے والے ایک شخص جو سرحد پر واقع ایک ڈھابہ چلاتے تھے، بتاتے ہیں کہ ان کے ڈھابے میں 10 لوگ ملازم تھے۔ ’اب میں صرف اکیلے سارے کام کرتا ہوں۔ پراٹھا بناتا ہوں، پروستا ہوں، سب کچھ میں ہی کرتا ہوں۔‘

وہ فخر کے ساتھ بتاتے ہیں کہ اس سرحد پر ان کا ڈھابہ انڈیا کا آخری ڈھابہ ہے، اسی وجہ سے ان کے ڈھابے میں سرحد پر سیاحت کرنے آنے والوں کے ساتھ ساتھ قلی بھی آتے تھے۔

اٹاری گاؤں کے دوسرے تاجر بھی یہی دہراتے ہیں کہ یہ ساری مشکلات تجارت پر پابندی کی وجہ سے ہیں۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشناٹاری گاؤں کی ایک دکاندار سمرن کور

اٹاری گاؤں کی ایک دکاندار سمرن کور کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اپنے شوہر پر کنبے کی معاشی پریشانی کا حل تلاش کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ’جب میں نے دباؤ ڈالا تو وہ کچھ کہے بغیر ہی گھر سے غائب ہو گئے۔‘

اب وہ اپنی کاسمیٹکس کی دکان چلا رہی ہیں لیکن سرحد پر تجارت بند ہونے کی وجہ سے بمشکل ہی کوئی گاہک ان کی دکان کی طرف آتا ہے۔

’میں پڑھی لکھی ہوں۔ میں نے بی اے کیا ہے۔ کیا مجھے یہ سب کرنا چاہیے؟‘

ان کی دکان کے سامنے ہی جوہری ستنام سنگھ کی دکان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی پابندی نے سب کچھ بدل دیا۔ ’میرا ایک بیٹا گھر پر بیٹھا ہے۔ دوسرے کی سکول فیس نہیں دے پایا۔ بائیس سو روپے داخلہ فیس نہیں دے پائے، تو وہ بھی گھر پر بیٹھا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے 50 سال میں پہلی بار ایسی صورتحال دیکھی ہے۔ ’میں نے اپنے مصنوعی زیورات فروخت کے لیے رکھ دیے ہیں لیکن یہ بھی فروخت نہیں ہو رہے۔‘

یہاں گاؤں میں ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد سرحدی تجارت پر انحصار کرتا تھا اور ایسی مایوسی کی کہانیاں اب ان میں عام ہو گئی ہیں۔

حلوائی وجے کمار کی گاؤں کے بازار میں ایک دکان تھی جو سرحدی تجارت بند ہونے کے بعد کافی متاثر ہوئی۔ اُنھوں نے گاؤں کے ایک مصروف چوراہے پر نئی دکان کھولی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جب سے ہوش سنبھالا ہے، تب سے ہمارے کاروبار کا دارومدار سرحد پر ہے۔ جب بھی سرحد پر کشیدگی ہوتی ہے، ہمارا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے۔‘

گاؤں کا پیٹرول پمپ بھی کافی منافع میں تھا لیکن آج تقریباً اپنی صلاحیت سے ایک چوتھائی کاروبار دیتا ہے۔ یہ گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ پر سرحد کے قریب ہے اور انڈیا کی تقسیم کے پہلے سے چل رہا ہے جہاں امرتسر سے لاہور جانے والے ایندھن لیا کرتے تھے۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشنگوردیپ کمار بتاتے ہیں کہ 'ٹرانسپورٹ بند ہونے سے پہلے چار سے پانچ ہزار لیٹر تیل بکتا تھا جبکہ اب صرف 1000 لیٹر بکتا ہے‘

گوردیپ کمار جو کہ تین دہائیوں سے اس پمپ پر کام کر رہے ہیں بتاتے ہیں کہ ’ٹرانسپورٹ بند ہونے سے پہلے چار سے پانچ ہزار لیٹر تیل بکتا تھا جبکہ اب صرف 1000 لیٹر بکتا ہے۔‘

گوردیپ کمار کہتے ہیں، ’ایک آرڈر سے اگر پابندی لگا سکتے ہیں تو ایک آرڈر سے دوبارہ شروع بھی کر سکتے ہیں۔‘

سندھو کا کہنا ہے کہ تجارتی پابندی ایک ’بم گرنے جیسا ہے۔‘ وہ متنازع سرحدی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ وہاں نہیں گرا بلکہ یہاں گرا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’تجارت چلتی رہے تو ہمارے رشتے بھی بہتر ہوں گے اور دوسرے مسئلے بھی کم ہوں گے۔ جھگڑا ہے تو بیٹھنے سے ہی تو سلجھے گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: