انڈیا کا ٹوئٹر پر اپنی شرائط کے ذریعے ملک کے نظام قانون پر اثر انداز ہونے کا الزام

انڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کا مقبول بین الاقوامی مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر دنیا کی سب سے بڑی جہوریت پر اپنی شرائط کے ذریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر اپنے اقدامات اور ’دانستہ خلاف ورزیوں‘ سے ملک کے نظام قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انڈیا کی حکومت نے یہ بیان ٹوئٹر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے ردعمل میں جاری کیا ہے جس میں ٹوئٹر نے انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کے بارے میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے کو انڈیا میں اپنے ملازمین کے بارے میں فکر ہے۔

واضح رہے کہ دلی پولیس کے تفتیش کار بدھ کی رات انڈیا میں ٹوئٹر کے دفاتر پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ’ٹول کِٹ‘ کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے وہاں گئے تھے۔

یاد رہے کہ انڈین حکومت اور ٹوئٹر کے درمیان یہ تناؤ اس وقت پیدا ہوا تھا جب چند دن قبل بی جے پی کے ایک سینیئر ترجمان سمبت مہاپاترا نے ایک ٹول کٹ کے بارے میں ایک پیغام پوسٹ کیا تھا جس میں اپوزیشن کانگریس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے ’مودی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے یہ ٹول کٹ بنایا ہے‘۔

کانگریس نے اس کی تردید کی ہے اور خود بی جے پر جعلی ٹول کٹ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ٹوئٹر

اس دوران ٹوئٹر نے بی جے پی کے رہنما کے اس پیغام کے ساتھ ’ Manupilated Media‘ کا ٹیگ لگا دیا تھا جس پر حکمراں بی جے پی شدید برہم ہے۔

دلی پولیس نے ٹوئٹر کو نوٹس بھیجا کہ وہ یہ بتائے کہ یہ ٹول کٹ اصل میں کس نے بنایا ہے اور وہ اس کی پوری تفصیل پولیس کے حوالے کرے۔ پولیس کا کہنا ہے ٹوئٹر کی جانب سے کوئی جواب نہ آنے کے بعد اس کی ٹیم اس کے دفتر پر نوٹس دینے گئی تھی۔

ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ واقعات کے پس منظر میں ہمیں انڈیا میں اپنے ملازمین اور اظہار رائے کی آزادی کو درپیش ممکنہ خطرے کے بارے میں تشویش ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’انڈیا اور پوری دنیا میں ہمیں اور سول سوسائٹی کو ہماری پرائیویسی کی عالمی پالیسی کے جواب میں پولیس کی جانب سے دھمکانے کا حربہ استعمال کیے جانے پر بھی تشویش ہے۔ ہم ان ضابطوں میں تبدیلی کی پر زور مخالفت کریں گے جو اظہار کی آزادی میں حائل ہوں گے۔‘

انڈیا کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے ایک طویل اور سخت بیان میں کہا ہے کہ ٹوئٹر نے جو بیان دیا ہے وہ ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت پر شرائط مسلط کرنے کی ایک کوشش ہے‘۔

’ٹوئٹر ادھر ادھر کی بات کرنے کی بجائے ملک کے قوانین کا احترام کرے۔ صرف ملک کا اقتدار اعلیٰ ہی قانون اور پالیسی سازی کا مجاز ہے۔ ٹوئٹر سوشل میڈیا کا محض ایک پلیٹ فارم ہے۔ اسے کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ انڈیا کا قانونی ڈھانچہ کیسا ہوگا۔‘

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا ہے جب انڈین حکومت فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر، گوگل اور سوشل میڈیا کے دیگر بڑے پلیٹ فارمز کو انڈیا کے قانون کے دائرے میں لانا چاہتی ہے۔ اس کے تحت ان پلیٹ فارمز کو انڈیا کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کسی کے بھی بارے میں مانگی گئی تمام تفصیلات دینا ہوں گی۔

ٹوئٹر

سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ان نئے ضابطوں سے اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی قطعی نہیں بلکہ بعض ذمے داریوں سے مشروط ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ قومی سلامتی کا تحفظ اس کی ذمے داری ہے۔

حکومت اور سوشل میڈیا کے اس ٹکراؤ کے درمیان امریکہ کے چیٹ میسینجر واٹس ایپ نے بدھ کو دلی ہائی کورٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے ضوابط کے خلاف ایک درخواست جمع کروائی ہے۔

ان ضابطوں کے تحت واٹس ایپ کو تفتیش کاروں کو ’غیر قانونی پیغامات‘ بھیجنے والے اصل صارف کی تفصیل فراہم کرنا ہو گی اور پیغامات کی انکرپشن یعنی خفیہ کوڈنگ کو بھی توڑ کر پیغامات تک رسائی دینا ہو گی۔

واٹس ایپ نے اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ ان ضابطوں سے شہریوں کے بنیادی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے اس لیے انھیں عیر آئینی قرار دیا جائے۔