Dunya Pakistan

انڈیا کی نامورخاتون صحافی کے ساتھ ہارورڈ میں نوکری کے نام پر دھوکہ

انڈیا کی نامور صحافی ندھی رازدان گذشتہ روز جمعہ سے سوشل میڈیا سے لے کر مین اسٹریم میڈیا تک ہر جگہ سرخیوں میں ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی سابق صحافی اپنی ایک ٹویٹ کی وجہ سے شہ سرخیوں میں ہیں۔

ندھی رازدان نے جمعے کو اپنی ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ان کے ساتھ آن لائن دھوکہ ہوا ہے جس کے تحت انھیں ہارورڈ یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی نوکری کی پیش کش کی گئی تھی۔

لیکن وہ ایک بڑا فریب ثابت ہوا سب ایک دھوکہ تھا۔ اسی کام کے لیے انھوں نے این ڈی ٹی وی سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا: 'میں انتہائی سنگین فشنگ اٹیک کا شکار ہوئی ہوں۔'

اس طرح کے فشنگ حملے کا دوسرے افراد بھی وقتاً فوقتاً شکار ہوتے رہتے ہیں۔

تو آخر کار یہ فشنگ کیا ہے؟

فشنگ ایک طرح کی آن لائن دھوکہ دہی ہے جس کے ذریعے لوگوں سے ان کی ذاتی معلومات جیسے بینک کی تفصیلات یا پاس ورڈ شیئر کرنے کو کہا جاتا ہے۔

اس جعلسازی میں ملوث افراد اپنے آپ کو صحیح اور معروف کمپنی کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اپنے شکار کا یقین حاصل کرکے ان کی ذاتی معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ایسے آن لائن حملہ آور آپ کو ٹیکسٹ مسیج بھیجتے ہیں یا پھر ای میل کے ذریعے آپ سے رابطہ قائم کرتے ہیں یا وہ آپ کو براہ راست فون بھی کرسکتے ہیں۔

فشنگ کے شکار افراد محسوس کرتے ہیں کہ یہ پیغام، میل یا فون کال ان کے اپنے بینک یا خدمت فراہم کنندہ کی طرف سے آیا ہے۔

اکثر اس کے متاثرین کو بتایا جاتا ہے کہ انھیں اپنے بینک اکاؤنٹ کے ایکٹیویشن یعنی انھیں شروع کرنے یا سکیورٹی چیک کے لیے کچھ معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔

انھیں بتایا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ معلومات فراہم نہیں کرتے ہیں تو آپ کا اکاؤنٹ بند کیا جاسکتا ہے۔

زیادہ تر معاملات میں اس دھوکہ دہی میں پھنس کر لوگ نامعلوم افراد سے اپنی ذاتی تفصیلات کا اشتراک کرتے ہیں۔

اس قسم کی آن لائن جعلسازی میں لوگوں کو ایک جعلی ویب سائٹ پر لے جایا جاتا ہے جو کہ بالکل اصلی نظر آتی ہے۔

ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس ویب سائٹ پر اپنی ذاتی معلومات داخل کریں۔

جیسے ہی لوگ ذاتی معلومات داخل کرتے ہیں، سائبر مجرمان ان کا استعمال کر کے انھیں بہ آسانی لوٹ لیتے ہیں۔ ان جعلی ویب سائٹوں میں مال ویئر یعنی خراب سافٹ ویئر جو آپ کی ذاتی معلومات کی چوری کا سبب بنتا ہے۔

پیناسونک انڈیا کے سابق اعلی عہدیدار محمد عبد الحفیظ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بھی اس کا ایک بار شکار ہونے سے بچے۔ انھیں انگلینڈ کی ایک کمپنی آرسیلور متل گروپ سے نوکری کی پیشکش ہوئی تھی۔ اور انھوں نے اس کے باضابطہ لیٹر ہیڈ پر ان سے نوکری کی پیشکش کی تھی۔

انھیں جب شک ہوا تو انھوں نے لندن میں مقیم اپنے بھائی سے کہا کہ اس کے متعلق معلومات فراہم کریں۔ جب انھوں نے کمپنی سے رابطہ کیا تو کمپنی نے بتایا کہ انھیں اس قسم کی اور بھی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔

محمد حفیظ نے بتایا کہ وہ اپنے میلز کے ذریعے سپائی ویئر کا بھی استعمال کر سکتے ہیں جو ان مجرموں تک یہ خبر تک پہنچا سکتے ہیں کہ ان کے شکار نے کون سے بٹن دبائے۔

لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس طرح سے پاس ورڈ اور ذاتی معلومات حاصل کرنا پوری دنیا میں سائبر مجرموں کا آسان ترین طریقہ رہا ہے۔

آن لائن دھوکہ دہی سے کیسے بچیں؟

لیکن آپ کے پاس اس قسم کی دھوکہ دہی سے بچنے کا راستہ بھی ہوتا ہے۔

نامعلوم مقامات سے آنے والی فون کالز، ای میلز اور ٹیکسٹ پیغامات کے متعلق ہمیشہ چوکس رہیں، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں آپ سے رابطہ کرنے والا شخص آپ کے نام سے آپ کو مخاطب نہیں کرتا ہے۔

بڑی کمپنیاں آپ سے کبھی بھی فون یا ای میل کے ذریعہ آپ سے ذاتی معلومات نہیں پوچھتی ہیں۔

ان ای میلز اور ٹیکسٹ میسجز سے بھی زیادہ محتاط رہیں جس میں آپ سے کسی لنک پر کلک کرنے کو کہا گیا ہے۔

لیکن اگر آپ کو یہ یقین نہیں ہے کہ آیا آپ کو میل بھیجنے والا یا کال کرنے والا شخص حقیقی ہے کہ نہیں تو بہتر ہے کہ آپ خود کمپنی سے رابطہ کریں اور اس کے لیے وہی فون نمبر استعمال کریں جو آپ کے بینک اسٹیٹمنٹ، فون کے بل یا ڈیبٹ کارڈ کے پیچھے لکھا ہوا ہو نہ کہ ان کے فراہم کردہ نمبر پر رابطہ کریں۔

محمد حفیظ کاکہنا ہے کہ 'آن لائن فریب سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ چوکس رہیں اور احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔'

بہر حال ندھی رازدان نے اب ہارورڈ یونیورسٹی کو اور دوسرے اداروں کو بتا دیا ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے تاکہ وہ ادارے بھی محتاط ہو جائیں کہ ان کے نام پر فریب دیا جا رہا ہے۔

Exit mobile version