انڈیا کے لیے اولمپکس میڈلز جیتنے والے ریسلر سشیل کمار قتل کے مقدمے میں گرفتار

دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے اولمپکس میڈل جیتنے والے ریسلر سشیل کمار کو ایک قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔

کُشتی کے مقابلے میں دو بار اولمپکس میڈل جیتنے والے سشیل کمار اپنے حریف پہلوان ساگر دھنکھر کے ساتھ چار مئی کو ہونے والی ایک مبینہ لڑائی میں ملوث تھے۔ اس لڑائی میں زخمی ہونے والے ساگر ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کے مطابق سشیل کمار کو نیو دہلی کے علاقے منڈکا سے گرفتار کیا گیا ہے۔ پہلوان ساگر دھنکھر کے قتل کے معاملے میں سشیل کمار کے خلاف اغوا، قتل، غیر ارادی قتل کی دفعات کے ساتھ دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔

کمار کی عمر 37 برس ہے اور ان پر الزام ہے کہ وہ فرار کے بعد انڈیا بھر میں ایک سے دوسری جگہ سفر کرتے رہے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق کمار کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انھوں نے پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک اور ریسلر جو کہ چتراسال سٹیڈیم کی لڑائی میں ملوث تھے وہ زخمی ہوئے اور ان کا علاج بھی ہو رہا ہے انھوں نے ایک افسر کے سامنے مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کی۔

پولیس نے اس کے بعد دہلی کے علاقے میں چھاپے مارنے کا آغاز کیا اور ایک ہزار تین سو پچاس امریکی ڈالر کا انعام اس شخص کے لیے رکھا جو کمار کی گرفتاری میں مدد کے لیے کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے گا۔

کمار نے سنہ 2012 کے لندن اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا اور اس سے چار سال پہلے بیجنگ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ انھوں نے کامن ویلتھ گیمز میں عالمی ٹائٹل اور گولڈ میڈل جیتا تھا۔

सुशील कुमार

ایک سینیئر پولیس افسر گریقبال سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے تمام متاثرین کے بیانات ریکارڈ کی ہیں اور ان سب نے سشیل کمار کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں۔

بی بی سی کے معاون صحافی رویندر سنگھ رابن کے مطابق اے سی پی اتر سنگھ کی نگرانی اور انسپکٹر شیو کمار اور انسپکٹر کرمبیر سنگھ کی سربراہی میں نیو دہلی پولیس کی خصوصی ٹیم نے سشیل کمار کو گرفتار کیا ہے۔

پولیس نے 38 برس کے پہلوان سشیل کمار کے علاوہ 48 برس کے اجے کو بھی گرفتار کیا ہے۔ سشیل کمار پر ایک لاکھ اور اجے پر 50 ہزار روپے کا انعام تھا۔

بطور نامہ نگار انڈیا کے سب سے بڑے پہلوان سمجھے جانے والے سشیل کمار کے ساتھ میرے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ پہلے ان کا برتاؤ ہمیشہ مہذب رہا تھا۔ وہ سنہ 2010 میں میری دعوت پر بی بی سی کے دفتر آئے تھے لیکن اس کے بعد وہ تنازعات میں گھرتے چلے گئے۔

پہلے پہلوان پروین رانا اور ان کے حامیوں کے ساتھ دہلی کے ایک سٹیڈیم میں مار پیٹ، پھر اولمپکس میں جانے کے معاملے پر نرسنگھ پنچم یادو کے ساتھ تنازع اور پھر ساگر دھنکھر کے قتل کے معاملے میں ان کا نام آیا ہے۔

दिल्ली पुलिस ने अजय को भी गिरफ़्तार किया है.

اکھاڑوں پر اٹھنے والے سوالات

ساگر دھنکھر قتل کیس میں ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔

گذشتہ تین چار مہینوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس نے کشتی کے اکھاڑوں پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔

فروری میں روہتک کے جاٹ کالج کے میدان میں گولیاں چلیں، جس میں دو خواتین پہلوانوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں کوچ اور ان کی خاتون پہلوان بیوی بھی شامل تھیں۔

انڈیا کو بین الاقوامی سطح پر دولت مشترکہ، ایشیئن، ورلڈ چیمپیئن شپ اور اولمپکس میں تمغے دلانے میں ان اکھاڑوں نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ خواتین پہلوانوں نے بھی ان اکھاڑوں کی بدولت کامیابی کے پرچم لہرائے ہیں۔

حالیہ واقعات سے انکشاف ہوتا ہے کہ ان اکھاڑوں میں استاد شاگرد کی روایت، پہلوانوں کی گروہ بندی، دباؤ اور مال و دولت تنازعات کا باعث ہیں۔

پہلے اکھاڑے تنازعات سے دور تھے

پچھلے 20-25 برس میں مشہور اکھاڑے اور پہلوان تنازعات سے پاک رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تمغے حاصل کرنے کے بعد پہلوانوں کو آسانی سے ریلوے، پولیس اور دیگر محکموں میں ملازمت مل جاتی تھی، جس سے ان کی ذاتی اور معاشرتی زندگی میں بڑی تبدیلی آتی تھی۔

اگر کوئی پہلوان غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا تو بین الاقوامی سطح پر تو دور وہ قومی سطح کے کھیلوں میں بھی حصہ لینے کا سوچ نہیں سکتا تھا۔

पहलवान सागर राणा

وہ دور چلا گیا جب لوگ گلی محلوں کے لڑکوں پر رُعب جمانے کے لیے کُشتی لڑتے تھے۔

سشیل کمار کے کوچ اور دروناچاریہ ایوارڈ جیتنے والے ستپال سنگھ قصہ سناتے تھے کہ کچھ بچے انھیں بچپن میں پیٹ دیتے تھے جس کے بعد ان کے والد نے انھیں پہلوانی کے فن سیکھنے کے لیے ہنومان کے پاس چھوڑ دیا۔

کچھ دنوں کے بعد ان کو پیٹ دینے والے گلی محلوں کے لڑکے ان کی دوستی کے لیے ان کے پیچھے گھومنے لگے۔

دہلی کے ڈپٹی کمشنر چنموئے بسوال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے پہلے روز ہی کہا تھا کہ کمار کو اپنے کیس کی پیروی کرنی چاہیے اور پولیس کی تحقیقات کا حصہ بننا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ فرار نہ ہوتے تو نہ ان کے وارنٹ نکالے جاتے اور نہ ہی ان کی گرفتاری میں معاونت کرنے والے کے لیے انعام کا اعلان ہوتا۔ انھیں جو بھی کہنا ہے وہ اس کے لیے آگے آئیں۔

انڈیا کی ریسلنگ فیڈریشن نے کہا ہے کہ اس کیس سے کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

وینود کمار جو کہ فیڈریشن کے سیکریٹری نے رپورٹرز سے گفتگو میں بتایا کہ انڈین ریسلنگ اپنی ساکھ کی بہتری کے لیے کوشاں ہے بہت عرصے سے ریسلرز فقط غنڈہ گردی کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ادھر ریسلنگ کوچ سکھوندھر مور ہیں جو اس وقت فروری میں پانچ لوگوں بشمول اپنے حریف کوچ کے قتل کے مقدمے کی سماعت کی شروعات کا انتظار کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: