'انڈین گرانڈ ماسٹر وشوناتھ آنند: شطرنج ذہنی کے ساتھ ساتھ جسمانی کھیل بھی ہے'

انڈیا میں پہلی بار شطرنج کا گراں قدر مقابلہ ‘شطرنج اولمپیاڈ‘ منعقد ہو رہا ہے۔

یہ شطرنج کا 44 واں اولمپیاڈ ہے اور یہ انڈیا کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی کے قریب مہابلی پورم شہر میں منعقد ہو رہا ہے۔

28 جولائی سے 10 اگست تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں 186 ممالک کے 2000 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت متوقع ہے۔

رواں سال کے شطرنج اولمپیاڈ کے لیے مشعل ریلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس مشعل ریلے کا افتتاح ایک تقریب میں کیا تھا۔

اس پروگرام کے دوران شطرنج کی بین الاقوامی تنظیم ایف آئی ڈی ای کے صدر آرکڈی دوارکووچ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشعل پیش کی جس کے بعد انھوں نے یہ مشعل انڈیا میں شطرنج کے مایہ ناز کھلاڑی گرینڈ ماسٹر وشواناتھن آنند کے حوالے کی۔

یہ مشعل 75 شہروں سے ہوتی ہوئی بالآخر مہابلی پورم پہنچے گی جہاں یہ ٹورنامنٹ منعقد ہونا ہے۔ اس بار انڈیا اس ٹورنامنٹ میں شطرنج کے کھلاڑیوں کی اپنی سب سے بڑی کھیپ بھیج رہا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار سرنیا ناگارجن نے گرینڈ ماسٹر وشواناتھن آنند سے شطرنج کی دنیا میں ان کے سفر اور شطرنج کے کھیل کے مستقبل کے بارے میں بات کی۔

مشعل

آپ نے انٹرویوز کے دوران کئی بار کہا ہے کہ آپ کی والدہ نے آپ کو شطرنج سے متعارف کرایا۔ کیا آپ ہمیں اپنے سفر کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟

جب میں چھ سال کا تھا تو میرے بڑا بھائی اور بڑی بہن شطرنج کھیل رہے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ مجھے شطرنج سکھائیں۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے شطرنج سکھائی۔ شروع میں بہت سی چیزیں سیکھنا مشکل تھا۔ لیکن میں کوشش کرتا رہا۔ جب میری والدہ کو معلوم ہوا کہ میں اس کھیل میں دلچسپی رکھتا ہوں تو انھوں نے چینئی شطرنج کلب میں میرا داخلہ کرا دیا۔

میں تربیتی مقابلوں میں شرکت کرتا تھا۔ اگر مجھے اگلے دن ٹریننگ پر جانا ہوتا تو میں شام سے پہلے ہی اپنا ہوم ورک ختم کر لیتا تھا۔ ادھر میرے والد کو کام کے سلسلے میں ایک سال کے لیے فلپائن جانا پڑا۔ فلپائن کے قیام نے شطرنج میں میری دلچسپی بڑھا دی کیونکہ ان دنوں فلپائن میں شطرنج بہت مقبول کھیل تھا۔

شطرنج سے متعلق بہت سے پروگرام ٹی وی پر آتے تھے۔ میری والدہ ٹی وی پر بتائی گئی شطرنج کی پہیلیاں لکھتی تھیں۔ سکول سے آنے کے بعد میں اپنی والدہ کے ساتھ بیٹھ کر شطرنج کے وہ معمے حل کرتا تھا۔ شطرنج کے مقابلے بھی ہوتے تھے جس کی وجہ سے میری دلچسپی اور توجہ اس کھیل میں بڑھتی گئی۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد، میں نے تمل ناڈو میں جونیئر ڈویژن کی سطح پر کھیلنا شروع کیا۔

دو بار عالمی چیمپیئن یوکرین کی 27 سالہ انا میزیچک

لوگ کہتے ہیں کہ شطرنج ایک ذہنی کھیل ہے کیا اس گیم کا تعلق دماغی طاقت سے ہے؟

ہاں، بلاشبہ، یہ دماغ کا کھیل ہے۔ ایک جگہ بیٹھ کر دو تین گھنٹے سوچتے ہوئے منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ ایک جسمانی کھیل بھی ہے کیونکہ یہ جسمانی طور پر بہت تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔ تھکاوٹ آپ کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے کہ کہ کب کون سی چال چلنی ہے۔ ہمیں اس چال کو یاد رکھنا ہوتا ہے تاکہ اسے صحیح وقت پر کھیلا جا سکے۔ ہمیں اس کے لیے تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے شطرنج کا کھلاڑی دوسرے شعبوں میں بھی اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔

آپ نے بچپن میں اپنی توجہ میں اضافے کے لیے کیا کیا؟

میں مشق کرتا تھا۔ شطرنج کھیلنے سے ذہنی توجہ کا بڑھنا فطری عمل ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے بھی میرے ذہن میں ایک بات چلتی رہتی تھی کہ دوسرے لوگ اپنا کھیل کیسے کھیلتے ہیں؟ وہ اپنے مہروں کو کیسے چلتے ہیں؟ میں کیوں ٹھیک سے نہیں چل سکتا؟ میں اپنے کھیل کو کیسے بہتر بنا سکتا ہوں؟ وغیرہ۔

ایسے خیالات میرے ذہن میں آتے رہتے۔

میں سوچتا تھا کہ میں شطرنج میں کس طرح بہتر ہو سکتا ہوں اور کیا دوسرے کھلاڑیوں نے بھی اسی طرح کی چالیں چلی ہیں۔

مسلسل سوچنے اور سوچتے رہنے کی وجہ سے میں مشق کے دوران یہ چالیں چلنے میں کامیاب رہا۔

R PRAGGNANANDHAA

تمل ناڈو میں پہلی بار شطرنج اولمپیاڈ ہونے جا رہا ہے، اس ٹورنامنٹ کی کتنی اہمیت ہے؟

یہ کافی اہم ہے۔ انڈیا پہلی بار اس مقابلے کو منعقد کرنے جا رہا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ یہ تمل ناڈو میں منعقد ہو رہا ہے۔ ہم اسے اپنا مقابلہ کہہ سکتے ہیں۔ ایشیا میں طویل عرصے سے اتنے بڑے ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہوئے۔ یہ ایک بہت ہی خاص موقع ہے۔

یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہو گا کہ بہت سے لوگ بہت کم وقت میں شطرنج سیکھیں گے۔ اس تقریب کے انعقاد کا وقت بھی بہت اہم ہے۔ ہمارے پاس بہت اچھے اچھے کھلاڑی ہیں۔

انڈیا میں شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں اور 73 گرینڈ ماسٹرز ہیں۔ اس لیے ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تمل ناڈو حکومت اس تقریب کے انعقاد کی ذمہ داری پوری کرکے ایک اہم کام انجام دے رہی ہے۔

عام طور پر اس طرح کے انعقاد میں تقریباً دو سال لگتے ہیں۔ لیکن تمل ناڈو حکومت نے یہ کام بہت کم وقت میں کیا ہے۔ ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ شطرنج اور تمل ناڈو دونوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔

آپ نے نوجوان کھلاڑیوں کا ذکر کیا، ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے لانے کے لیے حکومت کی طرف سے کس قسم کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے؟

اگر سپورٹس اتھارٹیز دیہی کھلاڑیوں کو ٹریننگ اور ٹورنامنٹس میں شرکت کے لیے لاجسٹک اور مالی مدد فراہم کر سکے تو یہ کافی ہو گا۔ میرے خیال میں تمل ناڈو میں پہلے سے ہی عام سطح کی سہولیات موجود ہیں۔

آنند

تمل ناڈو میں بچوں کو پہلے سے ہی تربیت دی جا رہی ہے۔ آر بی رمیش اس کی ایک مثال ہیں۔ اگر تمل ناڈو حکومت آر بی رمیش جیسے لوگوں کی حمایت کرتی ہے تو ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

کرکٹ یا بیڈمنٹن کی بات کریں تو ہم جانتے ہیں کہ کس طرح ٹریننگ کرنی ہے اور پھر کھلاڑیوں کو آگے کیسے لے جانا ہے۔ آپ کی نظر میں کیا شطرنج کے بارے میں بھی لوگوں میں اس قسم کی سمجھ ہے؟

ہاں، بلاشبہ ہم جانتے ہیں کہ اس میدان میں کیسے آگے بڑھنا ہے۔ اس وقت شطرنج کے کھیل میں کمپیوٹر کی بہت ضرورت ہے۔ کسی کھلاڑی کے انٹرنیشنل ماسٹر یا گرینڈ ماسٹر بننے کے بعد آگے کا راستہ خود بخود واضح ہو جاتا ہے۔

ہم اس کے ذریعے عالمی چیمپئن شپ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ شطرنج کی دنیا میں یہ سفر فطری ہے۔ چیمپئن شپ میں حصہ لیتے ہوئے ہم بہت سی چیزیں سیکھتے ہیں۔ میں نے اسی طرح سیکھا ہے۔

سکول کے بچوں کو شطرنج کھیلنے کی ترغیب دے کر ہم نوجوان کھلاڑی پیدا کر سکتے ہیں۔

ریاستی سطح پر کھیلوں کی موجودہ سہولیات کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

فریڈی

آپ تامل ناڈو حکومت کی تعلیمی پالیسی ٹیم کے رکن ہیں۔ کھیلوں کے حوالے سے آپ نے اس ٹیم کو کیا تجاویز دیں؟

میرا مشورہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو سفر اور مالی چیلنز سے متعلق مدد ملنی چاہیے۔

جو طلبا شطرنج سیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ پڑھائی میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ شطرنج کو تعلیم کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔

کیونکہ جب یہ بچے شطرنج کی باریکیوں کے بارے میں سوچیں گے تو ان کی یہ ذہانت نصاب کی چيزیں سیکھنے میں بھی کام آئے گی۔

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ شطرنج کی دنیا پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ کیا آنے والے دنوں میں لوگ ایک دوسرے کے بجائے مصنوعی ذہانت سے کھیلنے کو ترجیح دیں گے؟

جب بات شطرنج کے میچ کی ہو تو لوگ دو انسانوں کے درمیان میچ دیکھنا چاہتے ہیں۔ دو کمپیوٹرز کو ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے دیکھنا سنسنی خیز اور دلچسپ نہیں ہے۔

تجربہ کار کھلاڑی شطرنج کی باریکیاں سیکھنے کے لیے ایسا میچ دیکھنا چاہیں گے لیکن ایسا میچ سنسنی خیز نہیں ہوگا۔ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کے کھلاڑی نے حریف کو کیسے شکست دی۔

لیکن مصنوعی ذہانت تربیت کے لحاظ سے بہت ضروری ہے۔ اس وقت ٹیکنالوجی گیم کی باریکیوں کو سیکھنے میں بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

یہ ایک نئی قسم کی چیز ہے۔ مجھے اپنا بھی پیٹرن بہت بدلنا پڑا۔ میں اب اپنا 20 سال پرانا گیم نہیں کھیل سکتا۔ ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کی ہے اور تمام فیصلے بدل گئے ہیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے ذریعے حاصل کردہ شطرنج کے علم کو ایک طرف رکھتے ہوئے، اس کھیل کا اصل سنسنی خیز لطف دو لوگوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔

اور میرے خیال میں یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

اینڈریو گرین

کرکٹ اور فٹ بال میں آئی پی ایل، آئی ایس ایل وغیرہ آ رہے ہیں۔۔۔ آپ کے خیال میں شطرنج میں کس قسم کی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے؟

شطرنج کی دنیا میں بھی لوگ ایسی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ کلاسک شطرنج کا فارمیٹ 5 سے 7 گھنٹے ہوتا تھا۔ ریپڈ چيس یا تیز رفتار شطرنج ایک گھنٹے میں ختم ہو جاتا ہے۔ ہم اس کا ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ سے موازنہ کر سکتے ہیں۔

شطرنج کے بلٹز فارمیٹ میں ایک کھلاڑی کو 5، 3 اور 1 منٹ ملتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کتنی جلدی اس کھیل کو ختم کر سکتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا، تناؤ بڑھتا جائے گا اور ہمارے خیالات دھندلے ہوتے جائیں گے۔ اور ہمیں ان چالوں پر عمل کرنا ہوگا جو قدرتی طور پر ہمارے ذہن میں آئیں گی۔

یہ وقت کے ساتھ ساتھ شطرنج کی مشق کرنے جیسا ہی ہے۔ جو لوگ بلٹز کھیلتے ہیں انھیں مسلسل پریکٹس کا موقع ملتا ہے اور وہ اسے کلاسک میچوں میں استعمال کرتے ہیں۔

پوائنٹس کے حوالے سے بھی کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے 1-1/2-0 ہوا کرتا تھا جس کا مطلب ہوتا تھا جیت، ہار یا ڈرا۔ اب پوائنٹس بھی 2-1-0، 3-1-0، 3-1/2-0 کے فارمیٹ میں آ گئے ہیں۔ ہم نمبروں کو اس طرح تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کھیل کی دلچسپیوں کو بڑھانے کے امکانات لامحدود ہیں۔

آپ پچھلے 25 سالوں سے یہ کھیل کھیل رہے ہیں، اور آپ کی عمر بالکل بھی بڑھی ہوئی نظر نہیں آتی ہے۔ آخر اس کا راز کیا ہے؟

میں خوش رہتا ہوں۔ اور میں اچھی طرح سوتا ہوں۔ میں روزانہ ورزش کرتا ہوں۔ میری عمر اب 50 سے زیادہ ہے، اس لیے میں کچھ چیزیں نہیں کر سکتا جیسا کہ میں کرتا تھا۔ میں بھی مسلسل کھیلنے کے بعد تھک جاتا ہوں۔ اس میں کوئی راز نہیں ہے۔

error: