انکل سرگم: معروف ٹی وی کردار کے خالق فاروق قیصر چل بسے

اگر آپ پاکستان میں 1970 سے 1990 کی دہائیوں میں بڑے ہوئے ہیں تو آپ یقیناً انکل سرگم سے ضرور واقف ہوں گے۔ جب کیبل ٹی وی اور کارٹون نیٹ ورک کا دور نہیں تھا تب انکل سرگم ہی تھے جنھیں ٹی وی پر دیکھنے کے لیے بچے بے تاب رہتے تھے۔

اس پتلی تماشے کے خالق اور اس میں انکل سرگم کو آواز دینے والے فاروق قیصر جمعے کے دن اپنے مداحوں کو چھوڑ گئے ہیں۔

اور اُنھوں نے اپنے پرستاروں سے منھ کیا موڑا، ہر کسی کے ذہن میں اپنے بچپن کا وہ وقت گھوم گیا جب پڑھائی اور کھیل کود سے فارغ ہونے کے بعد گھر والوں کے ساتھ مزے سے اُن کے شو سے لطف اندوز ہوا جاتا تھا۔

کلیاں نامی یہ شو ویسے تو بچوں کے لیے تھا لیکن اس میں موجود ہلکا پھلکا طنز و مزاح بڑوں کی بھی توجہ حاصل کیے رکھتا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔

اُنھوں نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) سے تعلیم حاصل کی اور پھر کئی جامعات میں پتلی کے آرٹ فارم کے بارے میں پڑھایا۔

اُنھیں بچوں کے ٹی وی شو کلیاں میں سنہ 1976 میں انکل سرگم کو متعارف کروانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

انکل سرگم کے علاوہ اُن کے مشہور پتلی کرداروں میں ماسی مصیبتے، ہیگا، شرمیلی، رولا، اور نونی پا شامل ہیں۔

پی ٹی وی کے ساتھ اُنھوں نے مزید پروگرام کیے مگر سب سے مشہور پروگرام کلیاں ہی رہا۔

تمام کرداروں کی ڈیزائننگ اُنھوں نے خود ہی کی تھی اور انکل سرگم کا وائس اوور بھی وہ خود کرتے تھے۔

وہ کارٹونسٹ بھی تھے اور زندگی کے آخری دنوں تک مختلف اخبارات کے لیے کارٹونز بھی بناتے رہے۔

اس کے علاوہ اُنھوں نے کالم نگاری اور مکالمہ نگاری بھی کی اور دستاویزی فلمیں بھی بنائیں۔

اُنھیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُن کی خدمات کے اعتراف میں تیسرے اعلیٰ ترین سول اعزاز ستارہِ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا جا چکا ہے۔

اینٹرٹینمنٹ صحافی اور مصنف خرم سہیل کے مطابق کلیاں پی ٹی وی کا وہ پہلا پروگرام تھا جس میں پتلی تماشہ شروع ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹی وی کے میڈیم میں یہ کام فاروق قیصر نے شروع کیا اور اُنھیں معروف شاعر فیض احمد فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے متعارف کروایا تھا۔

کلیاں کا پاکستان معاشرے پر اثر

خرم سہیل فاروق قیصر کا ایک انٹرویو بھی کر چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انٹرویو کے سلسلے میں وہ اسلام آباد میں فاروق قیصر کا گھر ڈھونڈ رہے تھے مگر اُنھیں گھر مل نہیں رہا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک پارک میں پہنچ گئے جو گلی کے پاس ہی تھا۔

’پارک میں انکل سرگم اور ماسی مصیبتے کے دو دیو قامت مجسمے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ میں صحیح جگہ ہوں، پھر کسی سے پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ فاروق قیصر پاس میں ہی رہتے ہیں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ اُن دنوں فاروق قیصر کے گھر میں نئی نئی ڈکیتی ہوئی تھی۔

’انٹرویو کے دوران اُنھوں نے محسوس نہیں ہونے دیا کہ اُنھیں اس بات پر غصہ ہے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا آپ کو غصہ نہیں آتا؟ اس بات پر فاروق قیصر نے کہا کہ ہم سارا غصہ لکھ کر نکال دیتے ہیں۔‘

خرم سہیل بتاتے ہیں کہ انٹرویو کے دوران اُنھوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے کالم اپنی اہلیہ کو سب سے پہلے پڑھاتے ہیں۔

’بیگم صاحبہ ہی کالم پاس کرتی ہیں اور اگر وہ کہہ دیں کہ ٹھیک ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ منع کر دیں تو میں اس کالم کو رد کر دیتا ہوں۔‘

خرّم سہیل کے مطابق کلیاں جس دور میں شروع ہوا، اس وقت ایک ہی چینل ہوا کرتا تھا اور بہت سی باتیں کہنے پر پابندی ہوا کرتی تھی، مگر چونکہ فاروق قیصر بین السطور گفتگو کرنے کے ماہر تھے، اس لیے وہ باریک بینی سے ہنستے ہنستے بھی تلخ بات کر دیتے تھے۔

’بظاہر یہ پروگرام بچوں کی دلچسپی کا تھا لیکن اس کا حقیقی ہدف وہ لوگ تھے جو سیاست اور ملکی حالات میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘

اُن کی وفات پر سوشل میڈیا صارفین اُس دور اور اُس پروگرام کے بارے میں اپنی یادیں اور تاثرات کا تبادلہ کرتے نظر آئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے ٹویٹ میں لکھا کہ اُنھیں فاروق قیصر کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ صرف ایک فنکار نہیں تھے بلکہ سماجی مسائل اور ناانصافیوں کے خلاف بھی مسلسل آگاہی پھیلاتے تھے۔

سرگم

صارف یوسف ملک نے لکھا کہ آج کی نسل تصور بھی نہیں کر سکتی کہ انکل سرگم کا 70، 80 اور 90 کی دہائی کے بچوں پر کیا اثر ہوا کرتا تھا۔

سرگم

ایک صارف عمر حسن نے لکھا کہ ایک عہد کا اختتام ہوا، اُن کا شو کلیاں، بالخصوص اس میں سائنس بڑی یا بھینس کا سیگمینٹ 'طنز برائے اصلاح' کا صحیح نمونہ تھا۔

سرگم

صارف اسما نسیم نے لکھا کہ ہماری کئی مسکراہٹیں اور یادیں آپ کی وجہ سے ہیں۔

سرگم

معروف گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع نے لکھا کہ اُنھیں اپنے دوست فاروق قیصر کی وفات کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اُنھوں نے لکھا کہ وہ اُنھیں 40 سال سے جانتے تھے اور ساتھ مل کر کام بھی کیا۔

سرگم
error: