انگلینڈ کا ون ڈے کرکٹ میں سب سے بڑے اسکور کا عالمی ریکارڈ، نیدرلینڈز کو شکست

انگلینڈ نے جوز بٹلر کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت ون ڈے کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑے اسکور 498رنز کا عالمی ریکارڈ بناتے ہوئے نیدرلینڈز کو پہلے ون ڈے میچ میں باآسانی 232 رنز سے شکست دے دی۔

نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹل وین میں کھیلے گئے میچ میں نیدرلینڈز نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ انگلینڈ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دینے کا یہ فیصلہ ایک عالمی ریکارڈ کو جنم دے گا۔

میچ کے دوسرے اوور میں جیسن روئے صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے تو کسی حد تک لگا کہ یہ درست فیصلہ کیا گیا ہے لیکن پھر ڈیوڈ ملان اور فل سالٹ نے جلد ہی نیدرلینڈز کے کپتان کو بآور کرا دیا کہ وہ ایک غلط فیصلہ کر چکے ہیں۔

دونوں کھلاڑیوں نے ابتدائی طور پر سنبھل کر بیٹنگ کرنے کے بعد جارحانہ انداز اپنایا اور دوسری وکٹ کے لیے 222رنز کی شراکت قائم کی۔

فل سالٹ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کیریئر کی پہلی سنچری اسکور کی اور 93 گیندوں پر 3 چھکوں اور 14 چوکوں کی مدد سے 122رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

سالٹ کی جارحانہ اننگز سے بھرپور طریقے سے محظوظ ہونے والے شائقین ان کے آؤٹ ہونے سے مایوس ہو گئے کیونکہ وہ وکٹ پر سیٹ ہو چکے تھے لیکن دیکھنے والوں کو معلوم نہ تھا کہ وکٹ پر آنے والے بلے باز جوز بٹلر کس موڈ کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔

جب بٹلر میدان میں آئے تو انگلینڈ کی اننگز کی صرف 122 گیندیں باقی تھیں لیکن جارح مزاج بیٹنگ کے لیے مشہور وکٹ بلے باز نے اپنی شہرت کا بھرم رکھتے ہوئے چھکوں اور چوکوں کی برسات کردی۔

دوسرے اینڈ پر موجود ڈیوڈ ملان 89 رنز پر بیٹنگ کررہے تھے جبکہ بٹلر ان کا ساتھ دینے کے لیے آئے اور ان کی سنچری مکمل کرنے سے قبل وہ اپنی نصف سنچری مکمل کر چکے تھے۔

بٹلر نے ڈیوڈ ملان کے ہمراہ 184 رنز کی ساجھے داری بنائی جس میں ملان کا حصہ صرف 37 رنز کا تھا اور بقیہ تمام رنز وکٹ کیپر بلے باز نے نیدرلینڈز کے باؤلرز کی پٹائی کر کے وصول کیے۔

ملان نے 109 گیندوں پر 3 چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 125 رنز کی اننگز کھیلی اور 45ویں اوور میں پیٹر ویلر کی وکٹ بن گئے۔

اگلی ہی گیند پر انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن بھی کھاتا کھولے بغیر ہی سیلر کی وکٹ بن گئے تو لگا کہ شاید انگلش ٹیم سب سے بڑے اسکور کا عالمی ریکارڈ نہ بنا سکے گی لیکن نیدر لینڈز کے باؤلرز کی یہ غلط فہمی بھی جلد ہوا ہو گئی۔

مورگن کی پویلین واپسی ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اور وکٹ پر آنے والے لیام لیونگسٹن نے آخری 5 اوورز میں میزبان باؤلرز کی ناتجربہ کاری کا خوب فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے ایک اوور میں 32 رنز بٹورنے کے ساتھ ساتھ6 چھکوں اور 6 چوکوں کی مدد سے 66 رنز بنائے جبکہ بٹلر بھی دوسرے اینڈ سے ان کا ساتھ نبھاتے رہے۔

انگلینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں 498رنز اسکور بورڈ کی زینت بنائے جو ون ڈے کرکٹ کی اننگز میں کسی بھی ٹیم کے سب سے بڑے اسکور کا ریکارڈ ہے اور اگر 49ویں اوور میں صرف 7رنز بنتے تو یقیناً انگلش ٹیم اس فارمیٹ میں 500رنز کا ہندسہ عبور کرنے والی پہلی ٹیم بن جاتی۔

جوز بٹلر نے ریکارڈ ساز اننگز میں 70 گیندوں پر 162رنز کی اننگز کھیلی جس میں 14 چھکے اور سات چوکے شامل تھے۔

انگلینڈ کی اننگز کے بعد ایک ناتجربہ نیدرلینڈز کی ٹیم سے کھیلے جا رہے اس میچ کے نتیجے کا اندازہ سب ہی کو ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود میزبان بلے بازوں نے بھرپور مزاحمت کی۔

وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے باوجود نیدرلینڈز کی ٹیم اسکاٹ ایڈورڈز اور میک او ڈاؤڈ کی نصف سنچریوں کی مدد سے 266 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

میکس او ڈاؤڈ نے 55 جبکہ اسکاٹ ایڈورڈز نے 56 گیندوں پر ناقابل شکست 72 رنز بنائے۔

انگلینڈ نے اننگز کے دوران مجموعی طور پر 26 چھکے لگائے اور اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا اپنا ہی سابقہ ریکارڈ توڑ دیا، اس سے قبل 25 چھکوں کا ریکارڈ بھی عالمی چیمپیئن ٹیم کے پاس تھا جو اس نے 2019 کے ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف بنایا تھا۔

انگلینڈ ون ڈے کرکٹ میں محض باؤنڈریز کی مدد سے ایک اننگز میں 300 رنز بنانے والی پہلی ٹیم بن گئی۔

ون ڈے کرکٹ کی عالمی چیمپیئن نے میچ میں 36 چوکے اور 26 چھکے لگائے اور یہ مجموعی طور پر 300 رنز بنتے ہیں۔

انگلینڈ نے اننگز کے آخری 100اوورز میں 164رنز بنائے جو اننگز کے اختتامی اوورز میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے بنائے گئے سب سے زیادہ رنز ہیں، اس سے قبل جنوبی افریقہ نے 2015 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اتنے اوورز میں 163رنز بنائے تھے۔

میچ میں لیام لیونگسٹن نے صرف 17 گیندوں پر نصف سنچری بنائی اور انگلینڈ کی جانب سے تیز ترین ففٹی اسکور کرنے والے بلے باز بن گئے۔

error: