اوباما کی A Promised Land اور آصف زرداری

فخروانبساط کی بے کنار کیفیت کے ساتھ‘ صدر اوباما کو ایک مشکل بھی درپیش تھی۔ یہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو ٹیلی فون کال تھی جس میں امریکی صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایبٹ آباد آپریشن کی اطلاع دینا تھی۔ یکم اور دو مئی 2011 کی درمیانی شب نصف سے زیادہ بیت چکی تھی‘ جب چار امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور پاک افغان سرحد سے 160 کلومیٹر پر واقع ایبٹ آباد کا رخ کیا‘ جہاں شہر سے چار کلومیٹر شمال مشرق میں ایک وسیع و عریض حویلی ان کا ہدف تھی۔ یہ تین منزلہ حویلی 2004 میں تعمیر ہوئی تھی۔ دیگر گھروں سے کوئی8 گنا وسیع اس عمارت کو ''وزیرستان حویلی‘‘ کہا جاتا تھا۔ اڑوس پڑوس والوں کے خیال میں یہ کسی وزیرستانی کا گھر تھا جس کے مکینوں کا ان سے کہیں کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ دو بھاری بھرکم سکیورٹی گیٹ اور دیواروں پر خاردار تار اس کے محفوظ ہونے کی علامت تھے۔ یہ امریکہ کو سب سے ''زیادہ مطلوب‘‘ (Most wanted) اسامہ بن لادن کا مسکن تھا‘ امریکی برسوں سے (نائن الیون سے بھی پہلے سے) جس کے تعاقب میں تھے۔ اگست1998 میں افغانستان میں اسامہ کے ٹھکانے پر کروز میزائل حملہ بھی Get Osama operation کی کڑی تھا لیکن وہ تھوڑی دیر پہلے وہاں سے نکل گیا تھا۔
نائن الیون کے بعد امریکی کسی بھی قیمت پر اس کا سر چاہتے تھے۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے اپنے ''مہمان‘‘ کو امریکیوں کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ نے اقوام متحدہ سے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی کی منظوری لی اور اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہو گیا۔ تورا بورا اس کا خصوصی ہدف تھا۔ یہاں کے گہرے غار اسامہ اور اس کے ساتھیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا کام دے رہے تھے۔ امریکیوں نے یہاں بدترین بمباری کی۔ نیوکلیئر بم کے سوا ہر جدید اسلحہ استعمال کیا۔ اسامہ اور اس کے ساتھی20 روز تک انہی غاروں میں موجود رہے۔ امریکہ کے جدید ترین جاسوسی نظام‘ موسٹ ماڈرن سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور بدترین بمباری کے باوجود اسامہ اور اس کے ساتھی یہاں سے کیسے بچ نکلے؟ یہ کہانی اسامہ کے مراکشی گارڈ 50 سالہ تبارک کی زبانی‘ جو اس نے گوانتانامو میں تفتیش کے سخت ترین مراحل سے گزرنے کے بعد‘ مراکش جا کر بیان کی تھی: امریکی فورسز اور افغان ملیشیا سر پر پہنچ گئیں تو اسامہ نے اپنے ساتھیوں کی مشاورت سے یہاں سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ تبارک نے اپنے قائد اور اس کے رفقا کی جانیں بچانے کے لیے خود اپنی جان خطرے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اسامہ سے اس کا سیٹلائٹ فون لیا۔ امریکی سیٹلائٹ سسٹم اس فون کے ''تعاقب‘‘ میں تھا۔ تبارک اس فون سے کالز کرتے ہوئے پاکستانی بارڈر کی طرف روانہ ہوا جبکہ اسامہ سمیت القاعدہ کی قیادت نے مخالف سمت کا رخ کیا۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی؛ اگرچہ تبارک اور اس کے ساتھ کچھ اور افراد پاک افغان سرحد کے قریب پکڑے گئے۔ ان میں بیشتر سعودی اور یمنی تھے۔
اسامہ کی خاموش روپوشی قیاس آرائیوں کا موضوع بنی رہی۔ صدر پرویز مشرف نے تو ایک بار اس خیال کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اسامہ شاید اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ خود امریکی اور دیگر مغربی ایجنسیوں کا خیال تھا کہ اسامہ اگر زندہ بھی ہے تو اپنی صحت کے لحاظ سے اور اپنے گرد انٹیلی جنس کا گھیرا تنگ ہونے کے باعث کوئی موثر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا یا القاعدہ سے اس کا رابطہ ختم ہو چکا ہے؛ چنانچہ اس کا وجود اور عدم وجود برابر ہے۔ امریکی وزیر دفاع رمزفیلڈ نے تو افغانستان پر امریکی حملے کے آغاز ہی میں کہہ دیا تھا کہ ضروری نہیں ہم اسامہ تک رسائی میں کامیاب ہو جائیں‘ یہ گھاس کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہوگا۔ کچھ عرصے بعد ''الجزیرہ‘‘ سے اسامہ کی ویڈیو ٹیپ نشر ہونے لگیں۔ امریکیوں نے نئے جذبے کے ساتھ اس کی تلاش شروع کر دی تھی۔ وہ انٹیلی جنس کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے علاوہ ''ہیومن ریسورسز‘‘ بھی استعمال کررہے تھے۔
اسامہ پاکستان کب اور کیسے پہنچا‘ اس حوالے سے کئی قصے‘ کہانیاں ہیں۔ ایبٹ آباد والی حویلی میں اس کے قیام کی سن گن‘ اگست 2010 میں امریکیوں کو ہوئی اور اس یقین کے بعد کہ یہ اسامہ ہی کا ٹھکانہ ہے‘ صدر اوباما نے آپریشن کی منظوری دے دی۔ چار ہیلی کاپٹروں پر آنے والے 79 کمانڈوز اور ایک کتے نے جس میں حصہ لیا۔ گرائونڈ فلور پر موجود گارڈز کی طرف سے مزاحمت کے حوالے سے‘ خود امریکی میڈیا میں متضاد اطلاعات تھیں۔ ایک بات پر سب کا اتفاق تھا کہ تیسرے فلور پر جب اسامہ کو نشانہ بنایا گیا‘ وہ غیر مسلح تھا۔ اس آپریشن کے دیگر مقتولین میں اسامہ کا بیٹا خالد‘ اسامہ کا کوریئر ابواحمد کویتی‘ اس کا بھائی ابرار اور ابرار کی اہلیہ بشریٰ شامل تھے۔ حملہ آور کمانڈوز نے اسامہ کی میت ہیلی کاپٹر میں ڈالی اور افغانستان کی طرف پرواز کر گئے۔ یہ سارا آپریشن 40 منٹ میں مکمل ہوگیا تھا۔ افغانستان میں میت کے ڈی این اے کے بعد‘ اسے سمندر کی نذر کرنے کا فیصلہ ہوا۔ امریکیوں کا خیال تھا کہ کوئی بھی ملک‘ اسامہ کو اپنے ہاں دفن کرنے کا متحمل نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ اس صورت میں اس کی قبر مرجع خلائق بھی بن سکتی ہے۔ امریکیوں کے دعوے کے مطابق‘ سمندر برد کرنے سے قبل جنازے سمیت تمام شرعی رسوم کا اہتمام کیا گیا تھا۔
اوباما کی پہلی ٹرم کے تیسرے سال کامیاب ایبٹ آباد آپریشن اس کا بہت بڑا کارنامہ تھا‘ جس کی تفصیل اس کی نئی کتابA Promised Land میں بھی موجود ہے۔ یہ کتاب تین دن قبل (17 نومبر)کو آئی۔ اس سے قبل ان کی درجن سے زائد کتابیں منظر عام پر آچکی تھیں۔ ان میں ''Of thee l sing‘‘ بھی تھی۔ یہ اپنی بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ان کے خطوط تھے۔ مشعل بھی لکھنے لکھانے میں اوباما سے پیچھے نہیں۔ 2008 میں اس کی پہلی کتاب ‘Michelle Obama in her own words آئی تھی۔ اس کے بعد دس مزید کتابیں آئیں۔ 2018 میں اس کی کتاب ''Becoming‘‘ بیسٹ سیلر رہی۔
آپریشن ایبٹ آباد کی کامیابی پر فخروانبساط کی بے کنار کیفیات کے ساتھ اوباما کو ایک مشکل نے آلیا تھا۔ اسے اپنے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری سے اس آپریشن کے حوالے سے فون پر بات کرنا تھی‘ جس کے لیے اسے موزوں الفاظ کی تلاش تھی۔ پاکستان نائن الیون کے بعد ''دہشت گردی کے خلاف‘‘ امریکی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا تھا۔ صدر مشرف نے وزیر خارجہ کولن پاول کے ساتوں مطالبات مان لئے تھے اور صدر بش جونیئر انہیں اپنا ''نان نیٹو اتحادی‘‘ قرار دینے لگے تھے۔ پاکستان نے امریکہ کو مطلوب کتنے ہی افراد‘ اس کے سپرد کئے تھے‘ لیکن آپریشن ایبٹ آباد کے لیے اس نے پاکستان کو اعتماد میں لینا (یا اس کی پیشگی اطلاع دینا) بھی ضروری نہ سمجھا تھا۔ رات گئے پاکستان کی سرزمین پر یہ کارروائی‘ اس کی خود مختاری‘ اس کے اقتدارِ اعلیٰ کی کھلی پامالی تھی۔ اوباما کا خیال تھا‘ صدرآصف علی زرداری اس پر ناراضی کا اظہار کریں گے‘ لیکن ان کا ردِعمل اوباما کے خدشے کے برعکس تھا۔ وہ اوباما سے یہ اطلاع پاکر خوش ہوئے۔ انہیں اپنی شریک حیات بے نظیر بھٹو یاد آئیں‘ جنہیں (ان کے خیال میں) القاعدہ کے انتہا پسندوں نے مار ڈالا تھا۔ اوباما کے بقول: زرداری صاحب نے انہیں مبارکباد دی اور کہا: نتیجہ جو بھی ہو‘ یہ بہت اچھی خبر ہے۔ کتاب میں امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائڈن کے حوالے سے بھی بعض دلچسپ انکشافات ہیں‘ مثلاً یہ کہ انہوں نے (اور وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے) آپریشن ایبٹ آباد کی مخالفت کی تھی۔ جوبائیڈن تب اوباما کے نائب صدر تھے۔ یہ کتاب تین نومبر (امریکی انتخابات) سے پہلے تیار ہو چکی تھی لیکن اسے اس لیے روک لیا گیا کہ اس میں جو بائیڈن کے حوالے سے بعض باتیں‘ انتخابی مہم میں مشکلات کا باعث بن سکتی تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *