اور اب لاہور کا جلسہ…

جمعرات کی سہ پہر جب یہ سطور قلم بند کی جا رہی تھیں، مریم نواز لاہور میں دوسری ریلی کی قیادت کیلئے جاتی امرا سے روانہ ہونے کو تھیں۔ 13 دسمبر کا مینار پاکستان کا جلسہ، 26 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے شروع ہونے والی پی ڈی ایم کی عوامی رابطہ مہم کے پہلے مرحلے کا آخری جلسہ ہے۔ 13 دسمبر کے اس جلسے کی میزبان مسلم لیگ (ن) ہے اور یہ اس کا حق (اور فرض بھی) تھاکہ لاہور مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے، کھیلوں کی اصطلاح میں اسے مسلم لیگ کا ہوم گرائونڈ کہہ لیں۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت پر آزمائشوں کے بدترین ادوار میں بھی لاہوریوں نے (کم از کم انتخابات کی حد تک) اپنی وفا ضرور نبھائی۔ مشرف دور کے اکتوبر 2002 کے عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) لاہور سے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ تب شریف فیملی جلا وطن تھی۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی میں انتخابی مفاہمت تھی، جس کا فائدہ جماعت کو بھی پہنچاکہ لاہور سے قومی اسمبلی کی 3 نشستیں اس کے حصے میں آ گئیں (لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید پراچہ اور حافظ سلمان قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے)۔ 2008 میں مسلم لیگ (ن) نے لاہور میں اکثریت حاصل کی۔ 2013 میں پی ٹی آئی شفقت محمود کی ایک نشست نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔
2018 کا الیکشن مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک بار پھر قیامت کی گھڑی تھا لیکن تمام تردیدہ ونادیدہ مشکلات کے باوجود اس نے لاہور کی 14 میں سے 10 نشستیں جیت لیں۔ پی ٹی آئی کی چار نشستوں میں سے ایک عمران خان کی بھی تھی۔ اگرچہ خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں ان کی جیت کا مارجن بہت کم تھا، (صرف 680 ووٹ)۔ ری کائونٹنگ میں یہ مارجن بھی کم ہونے لگا، تو سٹے آرڈر آ گیا۔ عمران خان نے یہ نشست (NA131) چھوڑی تو ہمایوں اختر پی ٹی آئی کا ٹکٹ لے اڑے (اگرچہ خان صاحب نے اس کے لیے ولید اقبال سے وعدہ کر رکھا تھا) ہمایوں 2008 میں قاف لیگ کے ٹکٹ پر یہاں شاید اپنی ضمانت بھی بچا نہیں پائے تھے جس کے بعد انہوں نے دوبارہ مسلم لیگ ن سے رجوع کر لیا۔ 2013 میں وہ اس کی منشور ساز کمیٹی کے رکن بھی تھے لیکن اس کاٹکٹ حاصل نہ کرسکے، جس کی تلافی میاں صاحب نے یوں کی کہ ان کے چھوٹے بھائی ہارون اختر کو سینیٹر بنوا کر اپنا معاون خصوصی برائے ریونیو بنالیا۔ ہمایوں اختر 2018 میں عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست کا ضمنی انتخاب خواجہ سعد رفیق کے مقابلے میں تقریباً دس ہزار ووٹوں سے ہار گئے۔ اس پر ان کا تبصرہ تھا: ہمیں گیس اور بجلی کے بل لے بیٹھے۔
قارئین سے معذرت کہ بات کسی اور طرف نکل گئی، ہم لاہور میں 13 دسمبر کے جلسے کی بات کررہے تھے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت اس کی اجازت دے گی، نہ رکاوٹ ڈالے گی؛ البتہ سائونڈ سسٹم مہیا کرنے اور کرسیاں لگانے والوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس پر عملدرآمد کا آغاز یوں ہوا کہ جلسے سے چار دن پہلے ہی ڈی جے بٹ کو ماڈل ٹائون میں اس کے دفتر سے گرفتار کرلیا گیا، اس پر ناجائز اسلحہ رکھنے (12بور کی بندوق اور گولیاں) کارِ سرکار میں مداخلت اور سائونڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ ایک خبر کے مطابق سائونڈ سسٹم مالکان کی گرفتاری کا سلسلہ ملتان تک پہنچ گیا ہے کہ وہاں سے ساؤنڈ سسٹم کی کمک لاہور نہ پہنچ جائے۔ ڈی جے بٹ جناب عمران خان کی 2014 کی دھرنا مہم میں سائونڈ سسٹم کے روحِ رواں تھے۔ سیاسی جلسوں میں جدید موسیقی کے استعمال کی روایت پی ٹی آئی کے اکتوبر 2011 کے مینار پاکستان کے سونامی جلسے سے ہوئی تھی۔ عطاء اللہ نیازی کا ''جب آئے گا عمران ، بنے گا نیا پاکستان‘‘ اس کے علاوہ ''عمران خان دے جلسے چہ اج میرا نچنے نوں جی کردا‘‘ نے ملک بھر میں دھوم مچادی تھی۔ اب ڈی جے بٹ گرفتار ہوا تو میڈیا وزیر اعظم صاحب کے وہ ٹویٹس نکال لایا ہے جو انہوں نے 2014 میں ڈی جے بٹ کی گرفتاری کی مذمت میں جاری کئے تھے۔
ادھر مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف کورونا ایس او پیز اور سائونڈ سسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمات کی تعداد سینکڑوں کو جا پہنچی ہے۔ حفظِ ماتقدم کے طور پر بھی گرفتاریاں کی جارہی ہیں، فیصل آباد میں تو خان صاحب کے ٹائیگرز بھی زد میں آگئے۔ یہی پریکٹس ملتان کے جلسے کو روکنے کے لیے کی گئی تھی تب ہمارے علاقے بہاولنگر میں جماعت اسلامی کے کارکن بھی گرفتار کرلئے گئے تھے۔
جلسہ گاہ میں پانی چھوڑ دینے کی روایت بہت قدیم ہے۔ ایوب خان کے دور میں تو پانی کے ساتھ کرنٹ بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ لاہور کے ناصر باغ (تب گول باغ) میں بھٹو صاحب کے جلسے میں یہی تکنیک اختیار کی گئی تھی اور پھر خود بھٹو صاحب کے اپنے دور میں شادباغ لاہور کے تاجپورہ گرائونڈ میں فائرنگ، آنسو گیس اور وحشیانہ لاٹھی چارج سے پہلے سانپ چھوڑنے کا تجربہ بھی کیا گیا۔
پی ڈی ایم کا الزام ہے کہ 13دسمبر کے جلسے کو روکنے کے لیے مینار پاکستان کے پارکس میں پانی چھوڑدیا گیا ہے (مولانا فضل الرحمن کے الفاظ میں اسے ڈیم بنا دیا گیا ہے) لیکن سرکار کا کہنا ہے کہ یہ پودوں اور گھاس کو خشک ہونے سے بچانے کے لیے معمول کی کارروائی ہے۔
جس طرح سرکار کی حکمت عملی نے ملتان کے جلسے کو چار، پانچ روزکا جلسہ بنادیا تھا، یہاں لاہور میں مریم نواز کی رابطہ عوام مہم اور قومی و صوبائی حلقوں کی سطح پر ارکان اسمبلی کی میٹنگز نے 13 دسمبر سے پہلے ہی سارے شہر کو جلسہ گاہ بنادیا ہے۔
مریم نے اتوار 6 دسمبر کو کھوکھر پیلس لاہور میں میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کیا (میاں صاحب لندن سے ویڈیو لنک پر مخاطب ہوئے) کنونشن میں حاضرین کی تعداد بلا مبالغہ ہزاروں کو پہنچ گئی تھی۔ اگلے روز سوموار کو مریم ہزاروں کارکنوں کے جلو میں جاتی امرا سے جی ٹی روڈ پر روحیل اصغر کے حلقے میں پہنچیں اور پھر یہاں سے شاہدرہ تک، چل سو چل۔ یہ ریلی کوئی چھ گھنٹوں پر محیط ہو گئی تھی۔ جمعرات کو جب یہ سطور لکھی جا رہی تھیں، مریم کو جاتی امرا سے فیروزپور روڈ کے راستے داتا دربار تک پہنچنا ہے۔ راستے میں پرانے (اور اصلی) لاہور کا لوہاری اور بھاٹی دروازہ بھی پڑتا ہے جو 1985 سے میاں برادران کے متوالوں کا علاقہ ہے۔ بیگم کلثوم نواز کے ننھیال، بھولو برادران بھی اسی علاقے کا ایک بڑا حوالہ رہے ہیں۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ یہاں کے زندہ دل، اپنی بیٹی کے لیے کس کس طرح صدقے واری جائیں گے۔ نواب زادہ مرحوم ایسے موقع پر مخدوم محی الدین شعر پڑھا کرتے تھے ؎
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
اِدھر سکیورٹی والوں نے مریم نواز اور رانا ثناء اللہ کے لیے تھریٹ الرٹ میں 13 کا جلسہ منسوخ کرنے‘ بصورت دیگر سخت حفاظتی اقدامات کی تاکید ہے، جس میں سفر کے لیے بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے اور کسی بھی صورت سن روف سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت شامل ہے۔ سوموار 7 دسمبر کی شام شاہدرہ میں ریلی کے اختتام پر مریم نواز کے ساتھ ایک عجب واقعہ پیش آیا۔ وہ نعروں کا جواب دے رہی تھیں کہ ایک چھڑی ان کے سر سے چھو کر گزر گئی۔ مریم اسے محض ایک اتفاق قرار دے رہی تھیں لیکن سوشل میڈیا پر کچھ اس قسم کے تبصرے بھی آئے: یہ ایک اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر چھڑی لگ سکتی ہے تو…

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *