اولمپکس اور کرکٹ: اولمپکس مقابلوں میں کیا کبھی انڈیا اور پاکستان کا مقبول ترین کھیل شامل تھا یا مستقبل میں ایسا ممکن ہے؟

اولمپکس مقابلوں کے دوران آپ سب نے محسوس کیا ہو گا کہ تمام ممالک میں کھیل سے محبت کرنے والوں کے جذبات کتنے شدید ہوتے ہیں۔ کھلاڑی اپنے ملک کے وقار کے لیے ہر میچ میں اپنی پوری جان لگا دیتے ہیں اور جو وہاں نہیں پہنچتے وہ ٹی وی پر نظریں گاڑے رکھتے ہیں۔

حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پاکستانیوں نے ویٹ لفٹر طلحہ طالب اور ایتھلیٹ ارشد ندیم کے مقابلوں کے دوران یہ جذبہ ضرور محسوس کیا ہو گا۔ تاہم انڈیا پاکستان میں بہت سے کھیلوں سے محبت کرنے والوں کے ذہنوں میں ایک سوال ضرور پیدا ہوا ہو گا اور وہ یہ کہ اب تک کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟

کراٹے جیسے کچھ نئے کھیلوں کو رواں سال ٹوکیو اولمپکس میں شامل کیا گیا اور تب سے اولمپک کھیلوں میں کرکٹ مقابلوں کی عدم موجودگی کے بارے میں بحث شروع ہو چکی ہے۔

اس سے قبل بیس بال کو 2008 بیجنگ اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا اور اسے ایک بار پھر ٹوکیو اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا۔

حال ہی میں اولمپکس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بریک ڈانس کو سنہ 2024 کے پیرس اولمپکس میں شامل کیا جائے گا۔ کچھ لوگوں نے یہاں تک مطالبہ کیا ہے کہ چیئر لیڈنگ کو بھی اولمپکس کا درجہ دیا جائے۔ ایسی صورت حال میں اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں کرکٹ بھی اولمپکس میں شامل کیا جائے۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی نے 10 اگست کو اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اس کھیل کو اولمپکس کا حصہ بنوانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس کا ابتدائی مقصد اس کھیل کو 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس کا حصہ بنانے کے سلسلے میں پیشکش کرنا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق اس کوشش کے سلسلے میں ایک ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا جا چکا ہے۔

تاہم کچھ لوگوں کی رائے یہ بھی ہے کہ اولمپکس میں کرکٹ کا نہ ہونا اچھی بات ہے کیونکہ اولمپکس کے دوران ایسے مواقع آتے ہیں جب انڈیا اور پاکستان میں کھیلوں سے محبت کرنے والوں کی توجہ کرکٹ سے ہٹ کر تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی دوسرے کھیلوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ یہ بات کسی حد تک سچ بھی ہے۔

دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ اگر کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کیا جاتا تو انڈیا کو یقینی طور پر کوئی تمغہ ملتا اور اس سے بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کو دوسرے ممالک میں متعارف کرانے میں مدد ملتی۔

کیا کبھی کرکٹ اولمپک گیمز کا حصہ تھی؟ اگر ہاں، تو کب؟ اور اگر نہیں، تو یہ اب تک کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟ بہر حال اس کے لیے سنجیدہ کوششیں ضرور ہوئی ہیں۔

اولمپکس لوگو

پہلے اولمپکس کھیل میں کرکٹ

جب اولمپکس مقابلے پہلی بار سنہ 1896 میں منعقد ہوئے تھے تو اس میں کرکٹ بھی شامل تھی، لیکن کوئی ٹیم حصہ لینے کے لیے موجود نہیں تھی، اس لیے اسے منسوخ کرنا پڑا۔

چار سال بعد سنہ 1900 کے اولمپکس میں بھی کرکٹ کو شامل کیا گیا۔ یہ اولمپکس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوئے۔ اولمپکس کی تاریخ میں صرف ایک بار کرکٹ میچ منعقد کیے گئے ہیں، وہ بھی اسی اولمپکس کے دوران۔

یہ حیران کن ہے کہ فرانس، جہاں اولمپکس میں کرکٹ میچز ہوئے، موجودہ وقت میں اس کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پیرس میں منعقدہ اولمپکس میں 19 کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام کیا گیا، کرکٹ بھی ان میں شامل تھی۔ ٹورنامنٹ میں چار ٹیمیں شامل تھیں: ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور فرانس۔

بیلجیئم اور ہالینڈ نے میچ شروع ہونے سے قبل اچانک اپنے نام واپس لے لیے۔ یعنی اس میچ میں صرف دو ٹیمیں باقی تھیں: برطانیہ اور فرانس۔ ان دونوں کے درمیان صرف ایک میچ کھیلا گیا اور اسے فائنل قرار دیا گیا۔

اس میچ کے قوانین بھی کچھ مختلف تھے۔ ان کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تعداد 11 نہیں 12 تھی۔ آپ یہ بھی نوٹ کریں گے کہ اس وقت صرف ٹیسٹ کرکٹ تھی یعنی میچ پانچ دن پر محیط ہوتے ہیں، لیکن اولمپکس میں یہ میچ صرف دو دن تک جاری رہا۔

اس کے لیے برطانیہ نے اپنی قومی ٹیم نہیں بھیجی بلکہ ایک مقامی کلب سطح کی ٹیم کو اولمپکس میں شرکت کے لیے بھیجا گیا۔ فرانسیسی ٹیم بھی تشکیل دی گئی جس میں پیرس میں رہنے والے برطانوی افسران شامل تھے۔

پاکستان خواتین

برطانیہ نے دو روزہ میچ میں فرانس کو شکست دی۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ اس میچ کی فاتح ٹیم کو گولڈ میڈل نہیں ملا بلکہ برطانوی ٹیم کو چاندی کا تمغہ ملا اور فرانسیسی ٹیم کو کانسی کا تمغہ دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کو یادگار کے طور پر ایفل ٹاور کی تصاویر دی گئی لیکن سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں ٹیمیں یہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ اولمپکس میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ میچ 12 سال بعد اولمپکس کے سرکاری اعداد و شمار میں بھی شامل کیا گیا اور پھر دونوں ٹیموں کو سونے اور چاندی کے تمغوں سے نوازا گیا۔

پیرس اولمپکس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا تھا کہ سینٹ لوئس میں منعقد ہونے والے تیسرے اولمپکس کے دوران کرکٹ کو بھی شامل کیا جائے گا لیکن ایک بار پھر شرکت کرنے والے ممالک نہیں ملے اور اس کی وجہ سے کرکٹ کو مقابلے میں شامل کرنے کا منصوبہ منسوخ کرنا پڑا۔ اس کے بعد سے اب تک کرکٹ کو اولمپک گیمز میں شامل نہیں کیا گیا۔

سپورٹس جرنلسٹ شرد کادریکر نے اس کے متعلق کہا: 'جب جدید اولمپکس شروع ہوئے تو انھوں نے پانچ دن کے میچوں کے لیے جگہ نہیں بنائی۔

ان دنوں صرف ٹیسٹ میچز ہوتے تھے۔ اولمپکس میں اتنے لمبے میچوں کا انتظام کرنا مشکل تھا۔ یہ خدشہ بھی تھا کہ مزید ٹیموں کی شرکت کے ساتھ یہ اور بھی طویل عرصہ تک جاری رہے گا۔ اسی وجہ سے کرکٹ کو اولمپک گیمز سے باہر رکھا گیا۔

ایفل ٹاور

کرکٹ کے مداحوں کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ چند ممالک میں ہی مقبول ہے۔ کرکٹ کے زیادہ تر شائقین برصغیر پاک و ہند، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ممالک میں موجود ہیں۔

ہندوستان میں کرکٹ 'ایک مذہب کی طرح' ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر صرف 10 سے 11 ممالک کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ حاصل ہے۔

کیا آنے والے دنوں میں کرکٹ اولمپکس کا حصہ بن سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیا کھیل اولمپک کھیلوں میں کیسے شامل ہوتا ہے؟

نیا کھیل اولمپکس میں کیسے شامل کیا جاتا ہے؟

پہلے کسی بھی نئے کھیل کو شامل کرنے سے قبل بین الاقوامی اولمپکس کمیٹی (آئی او سی) فیصلہ کرتی تھی لیکن اب آئی او سی نے اولمپکس میں کسی بھی نئے کھیل کو شامل کرنے کی ذمہ داری میزبان ملک کی اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی کو دی ہے۔

یہ تبدیلی اولمپکس 2020 کے ایجنڈے کے نفاذ کے بعد کی گئی ہے۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں بالخصوص نوجوانوں تک پہنچنا ہے۔ ٹوکیو اولمپک انتظامی کمیٹی نے سنہ 2015 میں ٹوکیو اولمپکس میں نئے کھیلوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور آئی او سی نے 2016 میں اس تجویز کو قبول کیا تھا۔

بہرحال اس کی بعض شرائط ہیں جن کے بارے میں میزبان ملک کی انتظامی کمیٹی کھیلوں کو شامل کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

پہلی شرط یہ ہے کہ میزبان ملک کے پاس اس کھیل کے مقابلوں کے انعقاد کے لیے مناسب سہولیات ہونی چاہییں۔ اس کے ساتھ میزبان ملک میں اس کھیل کے بارے میں ایک کلچر ہونا چاہیے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ ایک کھیل جو کسی اولمپکس میں شامل ہے اسے اگلے اولمپک کھیلوں میں بھی شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

خواتین تماشائی

کیا کرکٹ کو دوسرا موقع ملے گا؟

اولمپکس 2024 پیرس میں ہوں گے اور اس کے بعد سنہ 2028 میں لاس اینجلس میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور فرانس دونوں ممالک کرکٹ نہیں کھیلتے۔ کرکٹ ان دونوں ممالک میں زیادہ مقبول نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں ان ممالک میں کرکٹ کے لیے ضروری بنیادی سہولیات اور سٹیڈیمز کا بھی فقدان ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کے اولمپکس میں کرکٹ کو شامل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

دوسرا راستہ کیا ہو سکتا ہے؟

اس کے علاوہ ایک آپشن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اس معاملے میں پہل کرے۔ اس کے لیے اسے کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے بورڈز کا تعاون حاصل کرنا پڑے گا۔

انھیں آپس میں فنڈ اکٹھے کرنے ہوں گے اور اولمپکس کی میزبانی کرنے والے ممالک کو یہ رقوم فراہم کرنی ہوں گی تاکہ وہ کرکٹ سے متعلق سہولیات کا بندوبست کر سکیں۔

اس رقم کو بڑھانے کے لیے کرکٹ بورڈ کو اپنی حکومتوں سے رقم مانگنی پڑے گی اور یہ کوئی آسان طریقہ نہیں ہے۔

آئی سی سی

آئی سی سی کی کوشش

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل 2028 کے لاس اینجلس اولمپک گیمز میں کرکٹ کو شامل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ اس کے لیے پہلے تو کرکٹ کی مقبولیت میں اضافہ کرنا پڑے گا اور آئی سی سی نے اس مقصد کے لیے ایک اولمپک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں آئی سی سی نے رکن ممالک سے پوچھا تھا کہ اگر کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ اپنے ملک کی حکومت سے کتنی مالی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ آئی سی سی نے اپنے ممبر کرکٹ بورڈز کو سوالات کی فہرست بھیجی تھی۔

اگرچہ آئی سی سی ماضی میں بھی ایسی کوششیں کر چکا ہے لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملی۔ آئی سی سی کا خیال ہے کہ اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت سے دنیا بھر میں کرکٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سے کرکٹ دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا۔

ایسی اطلاعات بھی آئی ہیں کہ آئی سی سی اس سمت میں ایک تجویز پر غور کر رہا ہے۔ اس تجویز کے مطابق 'اگر کرکٹ کو اولمپک کھیلوں میں شامل کیا جاتا ہے تو یہ اولمپکس کی اپنے مداحوں سے رابطہ قائم کرنے کی تحریک کو بے مثال موقع فراہم کرے گا کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں کرکٹ کے شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔'

آئی سی سی کے مطابق برصغیر میں سب سے زیادہ کرکٹ شائقین ہیں۔

اس تجویز کے مطابق دنیا بھر میں کرکٹ کے ایک ارب سے زیادہ شائقین ہیں۔ ان میں سے 92 فیصد شائقین برصغیر کے ممالک (انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا) میں موجود ہیں۔ ایسی صورتحال میں لاس اینجلس اولمپکس بھی کرکٹ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھائے گا۔

کامن ویلتھ گیمز

کیا کرکٹ کھیلوں کے بڑے ایونٹس میں شامل ہے؟

کامن ویلتھ گیمز، ایشین گیمز اور اولمپکس دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان ایونٹس میں بیک وقت بہت سارے کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی کھیل کے ورلڈکپ سے بہت مختلف ہیں۔

ایک بار دولت مشترکہ کھیلوں میں بھی کرکٹ کو شامل کیا گیا تھا۔ کوالالمپور میں منعقدہ 1998 کامن ویلتھ گیمز میں کرکٹ بھی شامل تھی۔ اجے جڈیجہ، سچن تندولکر، انیل کمبلے اور وی وی ایس لکشمن کے ساتھ انڈین ٹیم نے شرکت کی تھی۔ لیکن اس دوران ایک اور انڈین ٹیم پاکستان میں سیریز کھیل رہی تھی۔

تاہم دونوں جگہوں پر ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تھی۔ کوالالمپور میں سٹار کھلاڑی انڈیا کے لیے کھیل رہے تھے، لیکن انڈین ٹیم کوارٹر فائنل میں اپنا میچ ہار گئی۔ اسی کے ساتھ پاکستان میں بھی ٹیم کو سیریز میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کامن ویلتھ گیمز میں جنوبی افریقہ کو کرکٹ کا گولڈ میڈل ملا۔

اس کے بعد پھر کبھی دولت مشترکہ کھیلوں میں کرکٹ نہیں کھیلی گئی۔ تاہم بی سی سی آئی نے اپنی خواتین کرکٹ ٹیم کو برمنگھم، انگلینڈ میں منعقد ہونے والے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔

کرکٹ

اولمپکس میں کرکٹ کا کون سا فارمیٹ بہترین ہوگا؟

اس وقت کرکٹ کے تین فارمیٹ ہیں۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ۔ ان میں سے کون سا فارمیٹ اولمپکس کے لیے بہترین ثابت ہو گا؟

شرد کادریکر کا کہنا ہے کہ ’ٹیسٹ میچز کا انعقاد ناممکن ہے۔ اس طرح کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں ون ڈے کرکٹ میچوں کو شامل کرنا بھی بہت مشکل ہے۔ اس کے انعقاد کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو ترتیب دینا ایک چیلنج ہے۔'

ایسی صورتحال میں صرف ٹی 20 فارمیٹ ہی اولمپکس کھیلوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔ آئی سی سی اس فارمیٹ کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک اور فارمیٹ مقبول ہو رہا ہے جسے دی ہنڈریڈ کہا جا رہا ہے۔

انگلینڈ میں اس فارمیٹ کے تحت اس وقت میچز جاری ہیں۔ اس کا پہلا ٹورنامنٹ ابھی انگلینڈ میں کھیلا گیا ہے۔ دی ہنڈریڈ فارمیٹ میں 100 گیندوں کا میچ ہوتا ہے۔ اس میں ٹی 20 کے مقابلے میں 20 گیندیں فی اننگز کم ہیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ انھوں نے یہ فارمیٹ نوجوانوں اور دیگر لوگوں کو راغب کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے انگلینڈ کے آٹھ شہروں سے خواتین اور مردوں کی ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ اس ٹورنامنٹ کے قوانین بھی کرکٹ کے قوانین سے قدرے مختلف ہیں۔

اکثر افراد کا خیال ہے کہ کرکٹ کے اس فارمیٹ سے خواتین کرکٹ میں مردوں کی سطح پر آ سکیں گی۔ اس ٹورنامنٹ کے دوران خواتین کھلاڑیوں کے میچوں کو وہی ترجیح ملی جو مرد کھلاڑیوں کے میچوں کو تھی۔ خواتین کو مردوں جیسی سہولیات فراہم کی گئیں اور ایوارڈ کی رقم بھی دونوں کے لیے برابر ہے۔

اکثر افراد کا خیال ہے کہ اس فارمیٹ کو اولمپکس میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ کچھ سینیئر کرکٹرز نے یہ کہتے ہوئے بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ تین فارمیٹس کے ہوتے ہوئے چوتھے کی کیا ضرورت ہے؟