اولمپکس 2021: قدیم یونان میں اولمپکس مقابلے کب شروع ہوئے اور ان میں مذہب کا کتنا عمل دخل تھا؟

ٹوکیو اولمپکس کی ابتدا آج سے ہو رہی ہے جس میں پاکستان کی نمائندگی 10 ایتھلیٹس پر مشتمل ایک دستہ کر رہا ہے جو مختلف کھیلوں میں حصہ لے گا۔ مگر قدیم یونان میں ان کھیلوں کی ابتدا کب ہوئی اور ان کا مقصد کیا تھا؟

روایتی طور پر یہ ہمیشہ سے کہا جاتا ہے کہ اولمپک کے کھیل 776 قبل مسیح اولمپیا میں تقریباً اس وقت شروع ہوئے تھے جب دیوتا ہومر پیدا ہوئے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کئی صدیوں تک اولمپیا زیوس کی پوجا کا مقام تھا، انسانی آبادی سے دور مقدس سمجھے جانے والے دریائے ایلف کے ساتھ ایک خاص مقام، جسے پہاڑی سے دیکھا جا سکتا تھا۔

مگر ایسا کیا ہوا کہ لوگوں نے زیوس کو نذرانے پیش کرنے کی بجائے اس کی تعظیم اتھلیٹیکس کے ذریعے کرنا شروع کر دی؟ ایسا لگتا ہے کہ اس میں متعدد عوامل کارفرما تھے۔ ان میں سے ایک یونانی پولس یا شہری ریاست کا عروج تھا۔

جیسے جیسے مختلف مقامات پر شہری ریاستیں بڑھتی چلی گئیں، ہر ایک کو اپنی بالادستی ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئی، لہذا انھوں نے اولمپیا میں اپنے نمائندے بھیجنا شروع کر دیے تاکہ وہ جسمانی مقابلوں میں سب سے اعلیٰ نظر آئیں۔

فوجی تربیت کی ترقی بھی اس سے جڑی ہوئی ہے۔ کھیل مردوں کو فٹ رکھنے کا ایک پُرکشش ذریعہ بھی تھے۔ دوسرا عنصر وہ روایتی یونانی نظریہ تھا کہ دیوتا فاتح کے ساتھ ہیں، لہذا ایک ایسا مقابلہ کرا کے جس میں اعلیٰ فاتح پیدا کیے جاتے تھے، وہ اپنے سب سے بڑے خدا زیوس کی انسانوں پر طاقت اور اثر و رسوخ ثابت کر رہے تھے۔

سب سے پہلی ریس

پہلے 13 اولمپکس میں صرف ایک ہی مقابلہ ہوا کرتا تھا، اور وہ تھا سٹیڈین ریس۔

اس میں سٹیڈیم کی لمبائی کے برابر دوڑ لگائی جاتی تھی۔ یہ دوڑ کتنی لمبی تھی اس کے متعلق صرف قیاس آرائی ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ اولمپیا کا 192 میٹر لمبا سٹیڈیم جو ہمیں اب دکھائی دیتا ہے، اس وقت موجود نہیں تھا۔

724 قبل مسیح میں ایک طویل دوڑ ڈائیولوس متعارف کرائی گئی، اور اس کے چار سال بعد طویل فاصلے کی دوڑ ’ڈولیچوس‘ آئی جو شاید 12 لیپس یعنی گراؤنڈ چکروں کی دوڑ تھی۔ اولمپکس کے ابتدائی برسوں میں دوڑنے پر زور دینے کے پیچھے یہی سوچ تھی کہ فٹ اور تندرست فوجی ہی دوڑ سکتا ہے۔

پاچویں صدی قبل مسیح

باکسنگ، ریسلنگ اور پینکراشن (ایسی ریس جس میں ہر طرح کے جسمانی حملے کیے جاتے تھے) کے بعد پینٹاتھلون اور پھر چیریوٹ ریسز شروع ہو گئیں۔ سنہ 520 قبل مسیح میں بکتر بند پہن کر ایک نئی ریس متعارف کروائی گئی، بلکہ ایک خچر کی ریس بھی (500 قبل مسیح میں یہ عام طور پر مقبول نہیں تھی)۔

سو اولمپکس میں جدت ہمیشہ لائی جاتی رہی ہے، اگرچہ قدیم یونانی اگر ہمارے کچھ جدید ’کھیلوں‘ کو دیکھ لیں تو شاید انھیں رد ہی کر دیں۔

مذہب اور سیاست

قدیم اولمپکس میں مذہب کا بڑا عمل دخل تھا۔ سمجھا جاتا تھا کہ زیوس مقابلہ کرنے والوں کو دیکھتا ہے، کچھ کی حمایت کرتا اور کچھ کو شکست سے دوچار کرواتا ہے۔ اگر کسی ایتھلیٹ کو دھوکہ دہی یا رشوت لینے پر جرمانہ عائد کیا جاتا تو جو بھی رقم حاصل ہوتی اسے زیوس کا مجسمہ بنانے میں استعمال کیا جاتا۔

کھیلوں کے دوران زیوس کو خوش کرنے کے لیے 100 بیلوں کی بلی (قربانی) دی جاتی تھی۔ اولمپیا یونان کی ان جگہوں میں سے ایک اہم جگہ تھی جہاں دیوتاؤں سے پیشن گوئی طلب کی جاتی تھی۔ ان میں سے ایک اوریکل زیوس کے لیے بھی تھا جس میں ایک قربان گاہ تھی جس پر قربانی کے لیے جلائی ہوئی چیزیں پڑی ہوتی تھیں۔

جب نذرانے کی یہ چیزیں جلائی جاتیں تو ایک پجاری ان کا جائزہ لیتا اور اوریکل کا اعلان کرتا، جو کہ مستقبل کے بارے میں ایک خفیہ اور اکثر مبہم پیشن گوئی ہوتی۔ کھیلوں میں اپنے امکانات جاننے کے لیے ایتھلیٹ اوریکل سے رجوع کرتے تھے۔

یونانیوں نے سیاست کے کچھ پہلوؤں کو اولمپکس سے دور رکھنے کی کوشش کی، لیکن ان کی کوششیں کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکیں۔ اولمپک کی جنگ بندی کا مقصد پورے یونان میں دشمنیوں کو کم کرنا تھا، تاکہ تمام حریفوں کو سفر کرنے اور محفوظ طریقے سے حصہ لینے کی اجازت ملے، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوا۔

ریلے ریس

پیلوپونیسیائی جنگ کے عظیم مؤرخ تھوسیڈائڈز بتاتے ہیں کہ کس طرح 420 قبل مسیح میں سپارٹنز نے ایک قلعے پر حملہ کر کے صلح کی خلاف ورزی کی تھی اور اس کی وجہ سے ان کے کھیلوں پر حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

لیکن سپارٹنز کی ایک ممتاز ہستی لیچاس نے حصہ لینے کا ایک اور ہی راستہ نکال لیا۔ وہ رتھ دوڑ میں بوئٹیان کے نمائندے بن کے شامل ہوئے۔ تاہم جب ان کی اصل قومیت کا پتہ چلا تو اولمپیا میں انھیں سب کے سامنے کوڑے مارے گئے۔

ایک فاتح ایتھلیٹ اپنے آبائی شہر کے لیے ایک بڑا اعزاز ہوتا تھا۔ چھٹی صدی میں ایتھینیا کے سیاستدان سولن نے ایتھنیا کے جیتنے والوں کو مالی طور پر انعام دے کر ایتھلیٹکس کو فروغ دیا۔ اولمپک میں فاتح شخص کو 500 ڈراچمے دیے جاتے (اس وقت ایک بھیڑ کی قیمت تقریباً ایک ڈراچمہ تھی)۔

تھوسیڈائڈز ایتھنیا کے رہنما السیبیڈیز کی نمائندگی کرتے تھے کیونکہ انھوں نے اولمپک کھیلوں میں اپنی سابقہ ​​کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے 415 قبل مسیح میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

دیم یونانی

برہنہ پن اور خواتین

ہومر کے ہم عصر شاعر ہیسوڈ کہتے ہیں کہ ’ننگے بیج بوؤ، ننگے ہل چلاؤ، ننگے ہی فصل کاٹو۔‘

ہو سکتا ہے کہ انھوں نے کہا ہو ’کھیلوں میں ننگے شرکت کرو‘ کیونکہ قدیم یونانیوں میں عموماً اسے ہی معیاری عمل سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں، حالانکہ گلدانوں پر بنائی گئی تصاویر کی شکل میں اس کے ثبوت موجود ہیں، جہاں عام طور پر ایتھلیٹس برہنہ حالت میں کھیلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اور ان کے علاوہ ہر طرح کے دوسرے لوگ بھی کپڑوں کے بغیر نظر آتے ہیں۔

کچھ گلدانوں پر دوڑنے والوں اور باکسروں کو لُنگی پہنے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، اور تھوسیڈائڈز کہتے ہیں کہ ایتھلیٹوں نے ان کے وقت سے کچھ پہلے اس طرح کے لباس پہننا چھوڑ دیے تھے۔ ایک اور دلیل یہ ہے کہ ننگے مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ تاہم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں میں مرد ایتھلیٹس ننگے شرکت کرتے تھے۔

خواتین مرکزی اولمپک کے فیسٹیول میں شرکت نہیں کرتی تھیں۔ دیوی ہیرا کے اعزاز میں ان کی اپنی کھیلیں تھیں جہاں وہ سٹیڈیم کی کل لمبائی کے پانچویں یا چھٹے حصے تک دوڑتی تھیں اور مردوں کی دنیا میں اسے کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کیا خواتین اس فیسٹیول کو دیکھ سکتی تھیں اس کے متعلق متضاد آرا ہیں۔

شاید وہ خواتین ہی اسے دیکھ سکتی تھیں جو غیر شادی شدہ کنواری، جنسی تعلقات یا زچگی سے ’پاک‘ ہوتی تھیں تاکہ اس موقع کی مذہبی پاکیزگی برقرار رہے۔ تہوار اور جنازے ہی ایسے محدود مواقع تھے جن میں خواتین، خاص طور پر کنواری خواتین، یا پارتھنوئی کا کوئی عوامی کردار ہوتا تھا۔ کھیلوں میں غیر شادی شدہ لڑکیاں، میلے کا انتظام چلانے میں مدد کے علاوہ اپنے لیے مستقبل کا مناسب شوہر بھی چن لیتی تھیں۔

قدیم یونانی

زبردست اتھلیٹ

جنوبی اٹلی میں کروٹن کے میلو کو سبھی زبردست اتھلیٹ مانتے تھے۔ وہ چھٹی صدی میں مردوں کی ریسلنگ میں چھ مرتبہ اولمپک چیمپیئن رہے، اس کے علاوہ انھوں نے ایک مرتبہ اولمپک میں لڑکوں کی ریسلنگ جیتی اور پائتھین گیمز میں سات فتوحات حاصل کیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اولمپک میدان میں اپنا مجسمہ، یہاں تک کہ ایک بیل بھی لے کر آتے تھے۔

ان کے علاوہ رہوڈز کے لیونیڈاس تھے، جنھوں نے دوسری صدی قبل مسیح میں چاروں اولمپکس میں مسلسل دوڑ کے تینوں کے تینوں مقابلے جیتے۔ ایک اور عظیم رہوڈین ایتھلیٹ ڈیاگورس تھے جنھوں نے پانچویں صدی قبل مسیح میں چاروں بڑے کھیلوں کے مقابلے (اولمپک، پائتھین، نیمیان اور استھمیان) جیتے۔ ان کے تینوں بیٹے اور دو پوتے بھی اولمپک چیمپیئن تھے۔

مافوق الفطرت ہیوی ویٹس کو خصوصی توجہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پانچویں صدی کے اولمپکس باکسنگ چیمپیئن کلیومیڈیس نے ایک مقابلے میں اپنے مخالف کو مار ڈالا تو اسے مقابلوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ وہ غصے میں پاگل ہو گیا اور ایک سکول کو توڑ ڈالا۔

آپ شاید سوچیں کہ یہ پاگل پن ہے اور اسے سراہا نہیں جا سکتا۔ لیکن یونانی اکثر ان غیر معمولی کارناموں اور ذہنی کیفیت کی وضاحت اس طرح کرتے تھے کہ اس طرح کے لوگوں میں کوئی خدائی طاقت آ جاتی ہے یا پھر ان کا کوئی خدا خود ان میں داخل ہو جاتا ہے اور کلیومیڈیس کو بھی اسی طرح کے کسی ہیرو کی صف میں کھڑا کیا گیا۔

اتھلیٹکس کے مداح اور اس سے نفرت کرنے والے

لیکن تمام یونانی اتھلیٹکس اور کھلاڑیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ زینوفینس چھٹی یا پانچویں صدی قبل مسیح میں لکھتے ہیں کہ ’طاقت کا موازنہ اچھی حکمت سے کرنا درست نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ صرف اس وجہ سے کہ کسی نے اولمپک میں فتح حاصل کی ہے وہ شہر میں بہتری نہیں لا سکتا، ضروری نہیں۔

یوریپائیڈیز نے اپنے ڈرامے آٹولائیکس میں بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے، جس کے اب صرف چند حصے ہی بچے ہیں۔

اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ایتھلیٹ اپنے پیٹ کے غلام ہیں، لیکن وہ خود اپنی دیکھ بھال نہیں کر سکتے اور اگرچہ وہ اپنے عروج (جوانی) پر مجسموں کی طرح چکمتے ہیں لیکن بوڑھاپے میں پھٹے پرانے قالینوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔

پہلی صدی عیسوی کے معالج اور پولیمتھ یا کئی علوم کے ماہر گیلن نے بھی ایتھلیٹکس کو غیر فطری اور حد سے زیادہ کہا ہے۔ انھوں نے خیال کیا کہ ایتھلیٹ بہت زیادہ کھاتے ہیں، بہت زیادہ سوتے ہیں اور اپنے جسم کو بہت جوکھوں میں ڈالتے ہیں۔

جس شخص نے اولمپکس کو سب سے زیادہ سراہا وہ پندر تھے جن کا تعلق تھیبس سے تھا جو ڈیلفی اور ایتھنز کے وسط میں واقع تھا۔ پندر نے پانچویں صدی قبل مسیح میں اولمپک اور دیگر کھیلوں میں جیتنے والوں کے لیے نغمے لکھے اور ان کی کامیابیوں کا موازنہ ماضی کے عظیم ہیروز ہرکولیس یا اچیلیس کے ساتھ کیا تھا۔ اس طرح انھوں نے ان کو تقریباً الہی سطح تک پہنچا دیا۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ وہ فانی تھے لیکن ان کی طاقت کے مافوق الفطرت مظاہروں نے انھیں عارضی طور پر کسی اور جگہ لا کھڑا کیا اور ان کو بے مثل نعمت کا ذائقہ دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *