اولمپیئن سمیع اللہ کے مجسمے سے ہاکی اور گیند چوری

بہاولپور: حال ہی میں نصب کیے جانے والے پاکستانی ہاکی اسٹار سمیع اللہ خان کے مجسمے کے ساتھ موجود ہاکی اور گیند چرا لی گئی۔

 رپورٹ کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی) بہاولپور نے فائبر سے بنا یہ مجسمہ شہر کے پوش علاقے ماڈل ٹاؤن اے میں پاکستان ہاکی کے لیجنڈری کھلاڑی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے چند روز قبل نصب کیا گیا تھا۔

سبز رنگ کی ٹی شرٹ اور سفید شارٹس کے ساتھ ہاکی کھیلنے کے انداز میں نصب کیا گیا مجسمہ انٹرنیشنل ہاکی میں پاکستان کی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈان کو معلوم ہوا کہ چند روز قبل مجسمے کو گیند سے محروم کردیا گیا تھا جبکہ ہاکی اسٹک ہفتے کی رات (17 جولائی )کو پراسرار طور غائب ہوئی۔

کنٹونمنٹ بورڈ، بہاولپور کے ایگزیکٹو افسر رانا رمیز شفقت، جنہوں نے سمیع اللہ کا مجسمہ، ہاکی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نصب کیا تھا، نے گیند اور ہاکی اسٹک کی چوری پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ قومی ہیرو کے مجسمے کے ساتھ ایسا کیا گیا، انہوں نے کہا کہ یہ سمیع اللہ خان کو خراج تحسین ہے جنہوں نے اگست میں ایک تقریب میں اس کے افتتاح کا وعدہ کیا تھا۔

رانا رمیز شفقت نے کہا کہ وہ سمیع اللہ خان کے مجسمے کے چوری شدہ حصے دوبارہ نصب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی اور گیند کی چوری کی خبروں کے بعد انہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا۔

رانا رمیز شفقت نے کہا کہ انہوں نے کراچی کے مجسمہ ساز کو گیند اور ہاکی دوبارہ تیار کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ نصب کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ مجمسے کی حفا ظت کے لیے اس کے گرد لوہے کا جنگلا اور سیکیورٹی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

رانا رمیز شفقت نے کہا کہ پیر کو کنٹونمنٹ بورڈ، پولیس تھانے میں چوری کی رپورٹ درج کرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مجرموں کا پتا لگانے کے لیے پولیس کو رات میں پٹرولنگ یقینی بنانے کی درخواست بھی کریں گے۔

رانا رمیز شفقت نے کہا کہ مجسمہ 5 لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا اور کنٹونمنٹ بورڈ کو ہاکی اور گیند کی رقم کی دوبارہ ادائیگی کرنی ہوگی۔

چوری کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے واقعے کی مذمت کی گئی تھی اور چوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *