اومی کرون کا خوف

نہ جانے کب اس بلا سے ہم نجات پائیں گے۔کچھ ہی ماہ ہوئے کہ ابھی ہم کورونا وائرس اور ڈیلٹا وائرس سے نجات پانے کی امید میں کچھ پل کے لیے خوش ہوئے ہی تھے کہ پھر برطانیہ، یورپ اور افریقہ میں کورونا کے نئے کیس کے بڑھنے سے لوگوں میں خوف اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس نئے کورونا کی قسم کا نام ’اومی کرون‘ دیا گیا ہے۔یونانی کوڈ ناموں جیسے الفاظ اور ڈیلٹا کی مختلف شکلوں کی پیروی کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اس قسم کا نام اومی کرون رکھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کی جن پانچ اقسام کو باعث تشویش قرار دیا ہے، ان میں اومی کرون بھی ایک ہے۔

اخبارات اور ٹیلی ویژن پر نئے کورونا اومی کرون کی سرخیوں نے پھر اپنا سکہ جما دیا ہے۔ یعنی خبریں کورونا کے پھیلنے سے لے کر حکومت کے احکامات سے بھری پڑی ہیں۔ اب تو جی اتنا گھبراگیا ہے کہ خبروں کو دیکھنے اور سننے کو جی ہی نہیں چاہتا۔تاہم سوشل میڈیا پرلوگوں نے دعا سے لے کر علاج کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے جس سے کچھ پل کے لیے امیدیں بندھ رہی ہیں۔وہیں بہت سارے لوگوں نے پھر قیامت کی پیشن گوئی کرنا شروع کر دی ہے جس سے زندگی جینے کی رہی سہی حسرت خاک میں مل گئی ہے۔ کمبخت تین کورونا ویکسن لگوا کر بھی اب توجان بچنے کی امید پر پانی پھر گیا ہے۔

کچھ ہی مہینے ہوئے جب ہم سب اس امید سے جی رہے تھے کہ زندگی جلد معمول پر آجائے گی۔ میں نے بھی موقع کی غنیمت دیکھتے ہوئے پچھلے مہینے ترکی کا سفر بھی کر آیا۔ اس کے علاوہ جنوری میں ہندوستان جانے کا بھی پلان کرنے لگاتھا۔ لیکن کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے پھیلنے کی خبر نے ایسامایوس کیا کہ ہم کیا بتائیں۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیاکے زیادہ تر ممالک معمول زندگی کی طرف واپس ہو رہے تھے تبھی اومی کرون نے خوف نے ایک بار پھر دنیا میں دوبارہ حفاظتی اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔کئی ممالک نے تو افریقہ کے بیشتر ممالک سے مسافروں کی آمد پر پابندی لگا دی ہے۔ جس سے ساؤتھ افریقہ نے غم کا اظہات کرتے ہوئے کہا کہ، ’ہم نے اومی کرون کی سب سے پہلے اطلاع دے کر سزا پائی ہے‘۔

24/نومبر2021 کو جنوبی افریقہ نے اپنا پہلا نئے قسم کاکورونا ’اومی کرون‘ کیس سامنے آنے کے بعد دنیا کو آگاہ کیا۔ تب سے پوری دنیا میں اچانک خوف کا ماحول چھا گیا اور کئی ممالک نے یکے بعد دیگراس نئے کورونا اومی کرون کے مزیدپانے کی نشاندہی کی ہے۔ جنوبی افریقہ کے صوبے گوٹینگ میں 77سے زیادہ مکمل طور پر تصدیق شدہ کیسز، بوستوانا میں 4، اور ہانگ کانگ میں ایک کیس (جس کا براہ راست تعلق جنوبی افریقہ کے سفر سے ہے)۔ اسرائیل اور بیلجیم میں بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔برطانیہ میں 22 سے زیادہ لوگوں میں اومی کرون کورونا پایا گیا ہے۔کورونا کے دوبارہ بڑھنے سے تمام لوگوں کو حکومت مشورہ دے رہی ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بنا ماسک کے سفر نہ کریں اور دکانوں میں بھی بنا ماسک کے نہ جائیں۔

برطانیہ میں منگل 30نومبر2021سے ایک بار پھر لوگوں کو اب دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننا لازمی کر دیا گیا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ اور برطانیہ کی دکانوں میں ماسک پہننا لازمی کرنے کے بعد لوگوں کا ملا جلا رد عمل ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگ ماسک پہننے کی حمایت میں ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ کورونا سے بچنے کے لیے ماسک پہننا ایک اچھا عمل ہے۔حفاظتی اقدامات کے طور پر برطانیہ آنے والے مسافروں کو برطانیہ پہنچنے کے دو سرے روز پی سی آر اور کرونا ٹیسٹ کروانالازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ منفی رپورٹ آنے تک الگ تھلگ رہنا ہوگا۔

سائنسدانوں نے بھی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ماسک پہننے سے لوگوں کو کورونا سے کافی حفاظت ہوگا۔لیکن کچھ لوگ سائنسداں کی بات کو بکواس کہہ رہے ہیں اور ماسک پہننے سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم زیادہ تر لوگ بنا کسی احکام کے ماسک لگانا ضروری سمجھ رہے ہیں اور وہ کورونا سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے طور پر تمام تر کوششیں کر رہے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلو ایچ او) نے کہا ہے کہ اس قسم میں بڑی تعداد میں تغیرات ہیں، جن میں سے کچھ متعلقہ ہیں۔ ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے کورونا،دوبارہ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔جنوبی افریقہ کے تقریباً تمام صوبوں میں اس قسم کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ تاہم ڈبلو ایچ او نے یہ بھی کہا ہے کہ اومی کرون کی شدت کو سمجھنے میں کئی دن یا ہفتے لگیں گے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین کورونا اومی کرون اب تک دریافت ہونے والا سب سے زیادہ تبدیل شدہ کورونا کی قسم ہے۔ اور اس میں میوٹیشن کی کافی مقدار کی وجہ سے ایک سائنسداں نے اسے ’خوفناک‘بتایا ہے۔ جب کہ ایک اور سائنسداں نے اسے بد ترین شکل کہا ہے۔ ویسے ابھی ابتدائی دن ہیں اور زیادہ تر کیسز جنوبی افریقہ کے ایک صوبے میں زیادہ ہیں۔ لیکن اس کے مزیدپھیلنے کے اشارے ہیں۔اومی کرون کے مریضوں کا تشخیص کے بعدڈیلٹا سے مختلف پایا گیا ہے۔ان مریضوں میں تھکاوٹ تھی، پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی،اور گلے میں خراش تھی۔ فی الحال ہر کوئی یہی سوال پوچھ رہا ہے کہ کورونا کی نئی قسم کتنی تیزی سے پھیلے گا اور دیے گئے ویکسین سے نئے قسم کے کورونا سے کتنا تحفظ ہوگا۔ابھی توقیاس آرائیاں بہت ہیں اور واضح جوابات بہت کم ہیں۔

کرونا وائرس کی تشخیص کو لگ بھگ دو برس مکمل ہوچکے ہیں اورا س وبا کے باعث اب تک 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے۔برطانوی حکومت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں اب تک کورونا وائرس کے 370,000سے زیادہ تصدیق شدہ کیسزپائے گئے ہیں اور 41,000 سے زیادہ افراد کی اب تک موت ہو چکی ہے۔تاہم ان اعداد و شمار میں صرف وہی افراد شامل ہیں جو کہ کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ کے 28 دن کے اندر ہی فوت ہوگئے ہیں جبکہ اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اموات اس سے بھی زیادہ ہے۔ مئی 2021ء کے وسط کے بعد سے روزانہ کیسز میں اضافے دیکھا گیاتھا۔ جس کی وجہ سے حکومت کودوبارہ سماجی اجتماعات پر نئی پابندیاں دوبارہ لگانی پڑیں تھیں۔جب گھر کے اندر یا باہر چھ سے زیادہ افراد پر دوبارہ ملاقات کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔تاہم کرونا کی نئی قسم اومی کرون کے پھیلنے کی خبر سے حکومت نے اب تک لاک ڈاؤن یا مزید دیگرپابندیاں لگانے سے فی الحال گریز کیا ہے۔

فروری 2020 ء میں برطانیہ اور دنیا بھر میں کورونا کی آمد سے لوگوں میں جو خوف و ہراس پیدا ہوا تھا وہ اب بھی پوری طور پر رفع دفع نہیں ہوا ہے۔ خوف، دہشت اور ناامیدی نے کتنے لوگوں کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی ہے۔ کہیں روزگار کا مسئلہ، تو کہیں قید کی زندگی گزارنے کا،تو کہیں کل کیا ہوگا کی فکر نے دنیا بھر کے لوگوں کو مایوس بنا دیا ہے۔ گویا ہماری زندگی کورونا کی گرد ایسی الجھ گئی ہے کہ سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ آخر کب ہم سب کو اس سے چھٹکارا ملے گا۔

کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی آمد سے ایک بار پھر لوگوں میں مایوسی اور خوف کا احسا س ہونے لگا ہے۔تاہم مجھے پورا یقین ہے کہ اس بار حکومت لاک ڈاؤن سے گریز کرے گی کیونکہ لاک ڈاؤن سے معیشت تباہ و برباد ہورہی ہے اور لوگ ذہنی تناؤکے شکار ہورہے ہیں جو کہ ایک تشویش ہے۔تاہم لوگ اب ذہنی اور جسمانی طور پر کورونا سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ حکومت کے حفاظتی اقدامات کا احترام کرتے ہوئے کورونا کے دیگر اقسام کی طرح ’اومی کرون‘ کو بھی مات دے گیں۔

error: