اوپر، نیچے اور درمیان

کھانا تو ہم سب ایک لاکھ روپیہ یا زیادہ ماہوار کمانے والےتین ٹائم ہی کھاتے ہیں، موسم کے سارے پھل بھی کھاتے ہیں ۔ ڈرائی فروٹ پر بھی ہاتھ صاف کرتے ہیں اعلیٰ کار یا کھٹارا کار بھی ہمارے زیر استعمال ہوتی ہے ۔ فیملی گیدرنگ میں چہکتے بھی ہیں، دوستوں اور فیملی کے ساتھ ناردرن ایریاز کی سیر کو بھی نکل جاتے ہیں مگر ہم اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا یاد ہی نہیں رہتا اگر کوئی یاد رہتا ہےتو باس اور باس کو اپنے سے اوپر کا باس ! صرف یاد نہیں رہتا ہم اس کے آگے پیچھے ہی نہیں پھرتے، اس کے سامنے کورنش ہی بجا نہیں لاتے بلکہ بھابی کو بھی خوش رکھنے اور بوقتِ ضرورت اس سے سفارش کروانے کے لئے مال میں اسٹیچو پر سجے ڈریسز بھی اپنی اس پیاری بھابی کے لئے پسند کرتے ہیں اور اپنی اہلیہ جو اس کی سہیلی بن چکی ہوتی ہے، کے ہاتھ بھجواتے ہیں۔چلیں چھوڑیں یہ تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ہم ذرا چند اسٹیپ نیچے آتے ہیں۔مثلاً میں اور آپ تو کھانا کھا کر زیر لب الحمد للہ کہہ لیتے ہیں اگر ہم میں سے کچھ لوگ زیر لب بھی نہیں کہتے تو کم سے کم دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے خیر سگالی کے جذبات ضرور پیدا ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے ان تکلفات میں پڑتے ہی نہیں۔ان کی الحمدللہ کی کوالٹی کھانے کی کوالٹی سے متعین ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرغ پلائو کھایا ہے تو ان کی الحمد للہ سے علاقے کے دروبام ہل جاتے ہیں لیکن اگر انہیں کھانے میں دال وغیرہ ملے تو ان کا چہرہ بھی دال ایسا ہی ہو جاتا ہے۔

لیکن ان طبقوں کے علاوہ ایک طبقہ اور بھی ہے اور میرے نزدیک کھانا کھا کر خدا کا شکر ادا کرنے والے گروہوں میں یہ گروہ صاحب اسلوب واقع ہوا ہے، متذکرہ ’’فرقے‘‘ کے لوگ اس ضمن میں زبان یا ہونٹوں سے کام نہیں لیتے بلکہ شکر ادا کرنے کی یہ ذمہ داری اپنے حلق کو سونپ دیتے ہیں چنانچہ ایک زور دار ڈکار مار کر وہ اپنے اس فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں میں نے ان لوگوں کو اپنے اس فرض کے سلسلے میں کبھی کوتاہی کرتے نہیں پایا اور نہ ہی کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ اس ضمن میں وہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوں بلکہ وہ ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ کھل کر ڈکار مارتے ہیں اور محفل سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بااصول لوگ ہیں ،یہ لوگ جلوت کی وضع داریوں بلکہ خلوت کی نزاکتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اورنازک موقع پر بھی ڈکار مار دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کمٹمنٹ والے لوگ ہیں تاہم یہ پتا نہیں چلتاکہ ان کی کمٹمنٹ خدا کے ساتھ ہے یا ڈکار کے ساتھ ہے۔

اب اگر ڈکار مارنے والوں ہی کا ذکر چھڑ گیا ہے تو لگے ہاتھوں ایک طبقے کا احوال بیان کرتے چلیں گو اس طبقے کی تعداد زیادہ افراد پر مشتمل نہیں ہے لیکن یہ مٹھی بھر لوگ اپنے نعرہ ہائے مستانہ سے بڑے بڑوں کا منہ پھیر دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہار منہ یعنی خالی پیٹ ہی ڈکار ماردیتےہیں اورپورے محلے کو دہلا کر رکھ دیتے ہیں اس طرح کے ایک بزرگ میرے علاقے میں بھی موجودہیں جو میرے گھر سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر رہتے ہیں وہ علی الصبح بیدار ہوتے ہیں اور ڈکارنا شروع کر دیتے ہیں جس کی دھمک میرے گھر تک پہنچتی ہے جب سے یہ بزرگ ہمارے علاقے میں مکین رہیں، محلے والوں کو گھڑیوں کے الارم لگانے کی ضرورت کبھی نہیں رہی، یہ بزرگ جب کسی سے ملنے جائیں تو دروازے پر لگی گھنٹی نہیں بجاتے ڈکار مارتے ہیں بچے کو ڈرانا مقصود ہوتو ڈکار مارتے ہیں ، بچے کی ماں کو دھمکانا ہو تو ڈکار مارتے ہیں اور تواور کوئی جلسہ الٹانا ہو تو ایک ڈکار سے وہ کام لیتے ہیں جو امن وامان قائم رکھنے والی کسی فورس کے بس کی بھی بات نہیں ۔غرضیکہ اس بزرگ کا ڈکار بہت کثیر المقاصد واقع ہوا ہے مجھے اگر کوئی پریشانی ہے تو صرف یہ کہ متذکرہ بزرگ میرے گھر کے بہت قریب ’’واقع‘‘ ہوئے تھے۔

ممکن ہے میں اس بزرگ اور ان کی متذکرہ سرگرمیوں کے معاملے میں کچھ مبالغے سے کام لے رہا ہوں لیکن ان کے نعرہ ہائے مستانہ کی گونج بہرحال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے چنانچہ میں نے اپنی حیرت رفع کرنے کے لئے اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے بات کی اور متذکرہ بزرگ کے محیرالعقول ڈکاروں کا ذکر کیا تو دوست نے بتایا کہ یہ ایک بیماری ہے اور پھر اس نے اس کی بہت سی طبی وجوہ بھی گنوائیں لیکن مجھے ان طبی وجوہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ میں نے اس دوست سے اپنی اصل الجھن بیان کی اور وہ یہ کہ جو لوگ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور پھر با آواز بلند ڈکار مارتے ہیں تو اس سے ان کا خاندانی نجابت کا پتا چلتا ہے لیکن یہ نہار منہ ڈکار مارنے والے آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر میرا یہ دوست اس وقت کج بحثی کے موڈ میں تھا چنانچہ اس نے میری یہ بات سنی اَن سنی کر دی اور کہا پتا نہیں یار تم کیا باتیں کر رہے ہو میری سمجھ میں تو آج تک وہ لوگ نہیں آئے جو قوموں کو لوٹ کر کھا جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں مارتے، میری مانو تو تم ان خالی پیٹ ڈکار مارنے والوں کو غنیمت سمجھو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: