اوکاڑہ یونیورسٹی سٹی کیمپس اوکاڑہ میں ڈینگی سے بچاؤ مہم کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد

ڈینگی ایک جان لیوا مرض ہے اس سے بچاؤ ممکن ہے اس کے لئے آگاہی کی ضرورت ہے۔ اوکاڑہ یونیورسٹی سٹی کیمپس اوکاڑہ میں ڈینگی سے بچاؤ مہم کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ڈاکٹر محمد واجد صاحب (چئیر پرسن زوالوجی ڈیپارٹمنٹ اوکاڑہ یونیورسٹی)، محمد اقبال صاحب (اسسٹنٹ اینٹامولوجسٹ) اور ڈاکٹر حنا صلاح الدین (پروفیسر آف بیالوجی ڈیپارٹمنٹ اوکاڑہ یونیورسٹی) موجود تھے۔ اس معلوماتی سیمینار میں اوکاڑہ یونیورسٹی سے بیالوجی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ڈیپارٹمنٹ کے طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ سیمینار کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسولِ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ ڈاکٹر واجد صاحب کی جانب سے ڈینگی کی افزائش اور اس کی روک تھام سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں اور آگاہی پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر واجد نے طلباء و طالبات کو ڈینگی سے بچاؤ کے متعلق ہدایات دی۔ اور طلباء و طالبات کو بذریعہ مائیکرو سکوپ مخلتف مچھروں کے لاروا کا معائنہ کروایا گیا۔
محمد اقبال صاحب نے ڈینگی وائرس اور ڈینگی مچھر کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی۔ اس موقع پر اقبال صاحب کا کہنا تھا کہ ڈینگی ایک خطرناک مرض ہے لیکن ہم احیتاطی تدابیر کر کے نہ صرف اس بیماری سے بچ سکتے ہیں بلکہ ڈینگی مچھر کی افزائش بھی روک سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ڈینگی مادہ مچھر کے کاٹنے سے ڈینگی وائرس پیدا ہوتا ہے۔ مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور مادہ مچھر یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔ ایڈیِز ایجپٹی مچھر کے انڈوں اور لاروے کی پرورش صاف اور ساکت پانی میں ہوتی ہے۔ جو کہ عام طور پر ہمارے گھروں میں اس کے افزائش کا مکمل ماحول موجود ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مچھر دانیوں اور سپرے کا استعمال لازمی کرنا چاہیے۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ اس کی افزائش نہ ہو سکے۔ ڈینگی کے مرض سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ابتدائی ڈینگی بخار کا ٹیسٹ عام طور پر ڈی ایچ کیو اوکاڑہ میں فری کیا جاتا ہے جسے سی بی سی ٹیسٹ کہتے ہیں۔ ڈینگی بخار کی علامات میں تیز بخار کے ساتھ جسم خصوصاً کمر اور ٹانگوں میں درد اور شدید سر درد شامل ہیں۔ ڈینگی بخار میں خون پتلی کرنے والی ادویات ایسپرن، آئبوپروفن اور اینسیڈ کے استعمال سے اجتناب کریں۔''بلاشبہ طلباء و طالبات کے لیے یہ ایک معلوماتی سیمینار تھا۔ ایسے سیمینار اور آگاہی مہم کا انعقاد کرتے رہنا چاہیے کیونکہ ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ علاج سے زیادہ احتیاط کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

رپورٹ:جیا راجپوت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *