’’اوکس‘‘ کے ذریعے چین کو نکیل ڈالنے کی تیاری

طالبان کی فاتحانہ انداز میں کابل واپسی نے امریکی زعم وساکھ کو یقینا شدید دھچکا لگایا ہے۔مجھے کامل اعتماد تھا کہ وہ ذلت آمیز انداز میں افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کو بھول نہیں پائے گا۔ کوئی ایسا قدم اٹھانے کو مجبور ہوجائے گا جو دنیا کو یہ پیغام دے کہ وہ اب بھی دنیا کی واحد سپرطاقت ہے۔دیگر ممالک کی بقائ، استحکام اور خوش حالی اس کی ترجیحات کی محتاج ہیں۔یہ خیال دہراتے ہوئے میں اگرچہ سوچ ہی نہیں پایا کہ انگڑائی لے کر بڑھک لگانے میں وہ حیران کن عجلت سے کام لے گا۔

بدھ کی رات سونے سے قبل حسبِ عادت سوشل میڈیا پر نظر ڈالی ۔ ٹویٹر پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ برطانیہ اور آسٹریلیا کے وزیر اعظم امریکی صدر کے ساتھ مل کر ایک اعلان کرنے والے ہیں۔ان کا اعلان دفاعی اور سلامتی امور کے حوالے سے تاریخ ساز ہوگا۔جی بہت مچلا کہ مذکورہ اعلان کا انتظار کروں۔ ڈاکٹروں نے مگر آنکھ کو کالے موتیے سے بچانے کے لئے رات دیر تک جاگنے پر سخت پابندی لگارکھی ہے۔صبح تک انتظار کو مجبور ہوا۔

فلمی انداز میں ریکارڈ ہوئے پروگرام کے ذریعے امریکی صدروبرطانیہ اور آسٹریلیا کے وزرائے اعظم نے باری باری پہلے سے تیار شدہ فقرے بولتے ہوئے دنیا کو بالآخر آگاہ یہ کیا ہے کہ (AUKUS)کے نام سے ایک نیا فوجی اتحاد تشکیل دیا گیا ہے۔مقصد اس اتحاد کا بحرالکاہل کے اس حصے پر کڑی نگاہ رکھنا ہوگی جو چین کے جنوب میں واقع ہے۔ چین اپنی درآمدات وبرآمدات کے لئے وہاں موجود بندرگاہوں پر کلیدی انحصار کو مجبور ہے۔

بحرالکاہل کے اس حصے کو امریکہ نے صراحت سے Indo-Pacific کا نام دے رکھا ہے۔وجہ اس نام کی یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہاں ہندومذہب اور بدھ مت کے مراکز بھی رہے ۔فلپائن کے علاوہ تھائی لینڈ،کمبوڈیا،ویت نام اور حتیٰ کہ اب مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا بھی ان مذاہب کے زیر اثررہا ۔ثقافتی رشتوں کے علاوہ قدیم زمانے کی تجارت بھی ان ممالک کی زیادہ تر آج کے بھارت ہی سے ہوتی رہی ہے۔اسلام کے فروغ کے بعد تاہم حقائق بدل گئے۔بعدازاں سامراجی نظام نے مذکورہ ممالک کو برطانیہ اور ہالینڈ کی نوآبادیوں میں بدل دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد چین میں انقلاب آیا تو اس نے مذکورہ خطے میں بھی پر پھیلانا شروع کردئیے۔جاپان کو دوسری جنگ عظیم میں بدترین تباہی سے دو چار ہونا پڑا تھا۔اس نے اپنا دفاع امریکہ کے حوالے کرتے ہوئے ازسرنوتعمیر کی جانب توجہ مرکوز کردی۔امریکہ نے پہلے کوریا اورپھر ویتنام میں فوجی جارحیت سے ماضی کی سامراجی قوتوں کے پیدا کردہ خلاء کو پرکرنے کی کوشش کی۔ ویت نام میں تاہم اس کے ساتھ وہی ہوا جو حال ہی افغانستان میں ہوا ہے۔یہ خطہ اس کے بعد گویا چین کے سپرد کردیا گیا جس کے ساتھ نکسن نے 1970کی دہائی سے دوستی کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد آئی تمام امریکی حکومتوں نے چین میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔چین اس کی بدولت قومی معیشت پر توجہ دیتے ہوئے اب امریکہ کے ہم پلہ ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس صدی کا آغاز ہوتے ہی مگر کئی امریکی دانشوروں نے دہائی مچانا شروع کردی کہ تیل پر محتاجی نے ان کے ملک کو مشرق وسطیٰ کا یرغمال بنارکھا ہے۔اسرائیل کی سرپرستی کرتے ہوئے امریکہ وہاں کے مسلمانوں کو ناراض کررہا ہے۔مسئلہ فلسطین نے ان کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی جانب مائل کیا۔ ایران میں اسلامی انقلاب بھی آگیا اور افغانستان میں سوویت یونین درآیا۔

مشرق وسطیٰ سے جند چھڑانے کی دہائی مچانے والے دانشور اعدادوشمار سے لدی کتابوں کے ذریعے واویلا مچاتے رہے کہ امریکہ کے افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے تاریخی اور ناقابل حل دکھنے والے مسائل میں الجھنے سے چین بھرپور فائدہ اٹھارہا ہے۔بنیادی طورپر امریکی سرمایہ کاری اور امریکہ میں انٹرنیٹ جیسی ایجادات کو چین نے خود کو معاشی طورپر مستحکم اور جدید تربنانے کے بعد اب فوجی اعتبار سے بھی سپرطاقت بننے کی تیاری شروع کردی ہے۔اس ضمن میں اس کی فی الوقت کلیدی ترجیح اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ بحرالکاہل کے ذریعے ہوئی تجارت پر اس کا کامل اجارہ ہو۔مشرق بعید کے ممالک بالآخر اس کے رحم وکرم کے محتاج ہوں۔

امریکی دانشوروں کی مچائی دہائی کوسب سے پہلے امریکی صدر اوبامہ نے سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ عراق سے اپنی افواج نکالنے میں تو کامیاب ہوگیا مگر افغانستان میں پھنسا رہا۔جوبائیڈن آٹھ برس تک اس کا نائب صدر رہا۔اس سے قبل وہ امریکی سینٹ کی خارجہ امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کا کئی دہائیوں تک سربراہ بھی رہا۔2021کی جنوری میں اقتدار سنبھالتے ہی وہ افغانستان سے انخلاء پر ڈٹ گیا۔اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے وہ اکثر چین کے بڑھتے ہوئے اثر کا ذکر بھی کرتا رہا ہے۔

بہرحال بدھ کے دن برطانیہ اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر امریکہ نے اعلان کردیا ہے کہ اب انگریزی زبان بولنے والے ان تینوں ممالک کا اصل ویری چین ہے۔وہ اسے نکیل ڈالنے کو تیار ہیں۔اس ضمن میں پہلا حیران کن فیصلہ یہ ہوا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی مدد سے آسٹریلیا کو جوبذات خود ایٹمی طاقت نہیں ہے جوہری ہتھیاروں سے لیس جدید ترین آبدوزیں فراہم کی جائیں گی۔ تیار ہوجانے کے بعد یہ آبدوزیں چین کے جنوب میں واقع سمندر کے ذریعے ہوئی تجارت کی ’’چوکیداری‘‘ شروع کردیں گی۔

’’اوکس‘‘ کے نام سے جو نیا اتحاد قائم ہوا ہے وہ چین کے خلاف جارحانہ سفارت کاری کا حقیقی آغاز ہے۔چین نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے ایک اور سردجنگ کا شاخسانہ بتایا۔مذکورہ اتحاد کو ’’نظریاتی تعصب‘‘ کا اظہار بھی ٹھہرایا۔’’نظریاتی تعصب‘‘ کا الزام شاید ہمیں حیران کن لگے ۔ ’’اوکس‘‘ نامی اتحاد میں شریک ممالک پر لیکن نگاہ ڈالیں تو فوراََ سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ اس ثقافت کے علمبردار ہیں جسے Anglo-Saxonکہا جاتا ہے۔مشرق کا حصہ ہونے کے باوجود جاپان جیسے اہم ملک کو بھی اس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔بنیادی توجہ آسٹریلیا کے تحفظ پر مرکوز رکھی گئی ہے جو تقریباََ بے آباد جزیرہ تھا جسے برطانوی سامراج نے اپنے ملک سے بھیجے گوروں سے بھردیا تھا۔ آسٹریلیا کا موجودہ وزیر اعظم بھی شدید نسل پرست اور کٹر مذہبی بھی ہے۔وہ مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اپنے ملک میں تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لئے سخت ترین رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔برطانوی وزیر اعظم کی سوچ بھی کئی اعتبار سے نسل پرستانہ ہے۔

نسل پرستی کے جنون ہی میں نئے اتحاد میں یورپ کے کسی ایک ملک کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔ مجھے گماں ہے کہ فرانس اور یورپ اس اتحاد کے قیام سے زیادہ خوش نہیںہوں گے۔یہ سوچنے کو مجبور ہوں گے کہ انگریزی بولنے والے ممالک نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔اب یورپ کو اپنا دفاع یقینی بنانے کے لئے نیٹو کے علاوہ کسی اور بندوبست کی بابت بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔فرانس زیادہ ناراض اس وجہ سے بھی ہوگا کیونکہ اس نے آسٹریلیا کو جدید ترین آبدوزیں فراہم کرنے کا معاہدہ کررکھا ہے۔وہ سودا مگر کئی وجوہات کی بنا پر اب تک بروئے کار نہیں آپایا۔’’اوکس‘‘ کے قیام کے بعد آسٹریلیا کو فرانس کی ضرورت نہیں رہی۔

میری خوش فہمی ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی ’’اوکس‘‘ کا قیام پریشان کرے گا کیونکہ اسے اس اتحاد کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے۔جبکہ گزشتہ کئی برسوں سے تاثر یہ دیا جارہا تھا کہ امریکہ کی سرپرستی میں فقط بھارت ہی کو ایشیاء میں چین کے مقابلے پر لانے کی کوشش کی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *