آئی ایم ایف پروگرام کی جلد بحالی کے امکانات معدوم

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی توسیعی فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) باضابطہ طور پر فوری بحال نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ حکام مشکل معاشی صورتحال کے درمیان بجلی کے شعبے اور ریونیو کے مشکل چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق جہاں دونوں فریقین اس وقت نظر ثانی شدہ اسٹکچرل بینچ مارک کے لیے وقت کی حد طے کرنے میں شامل ہیں وہیں حکومت چاہتی ہے کہ چند معاشی اشاروں میں کچھ بہتری محسوس کرنے والے عناصر دیکھے جائیں۔

اسی سمت میں باخبر ذرائع کے مطابق حکومت تعمیرات کے شعبے کے لیے سپورٹ پیکیج میں جون تک کی توسیع کرنا چاہتی ہے جس کی میعاد دسمبر میں ختم ہورہی تھی کیونکہ اس سے صنعتی شعبے کی سرگرمیاں اور متعلقہ علاقوں میں نمو ہورہی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر اور بہتر ترسیلات زر کی بدولت شرح تبادلہ آرام دہ پوزیشن میں ہے۔

محکمہ خزانہ کے خصوصی سیکریٹری اور ترجمان کامران علی افضل نے کہا کہ آئی ایم ایف سے روزانہ اور کبھی کبھی دن میں دو بار اسٹرکچرل بینچ مارکس اور ان کے اوقات کے بارے میں مشاورت ہو رہی ہے۔

انہوں نے اتفاق کیا کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) سے متعلق دو اہم بلوں کی منظوری ’پیش قدمی‘ بن جائے گی اور اس کے لیے بجلی کے شعبے میں باقاعدہ طور پر پروگرام کی بحالی کے لیے اصلاحات اور ریونیو پیداوار کو آگے بڑھانا ضروری ہوگا۔

ان کے مطابق یہ دونوں قوانین پیشگی اقدامات بن جائیں گے کیونکہ ان کا تعلق کورونا وائرس سے نہیں تھا تاہم بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ریونیو سے متعلقہ چیزوں کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ وبائی امراض سے متاثر ہوئے تھے اور اہم چیلینج بنے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹکچرل بینچ مارک سے ہٹنے کو اس کے بعد کے جائزے میں ’جب تک فنڈ کے ذریعہ چھوٹ نہیں دی جاتی ہے‘ میں پیشگی کارروائی کرنی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک بار جب ان مشاورتی مباحثوں نے واضح سمت اختیار کی تو آئی ایم ایف کا باقاعدہ جائزہ مشن ترتیب دیا جائے گا۔

کامران علی افضل نے کہا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے ملک کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے ، بصورت دیگر معاملات صحیح سمت میں گامزن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 4 ماہ کے دوران ریونیو کی وصولی میں 7 اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور چند فصلوں میں بہتری کی شکل میں ’بحالی کے ٹھوس نشانات ابھر رہے ہیں‘ تاہم اس بات پر یقین کرنا ابھی جلد بازی ہوگی کہ مجموعی ترقی بھی ابھر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے دوسرے قرض دہندگان بھی مشکل وقت سے گزرنے میں حکومت کے حامی رہے اور مشاورتی کردار میں ان کی مصروفیات مثبت ثابت ہوئیں۔

error: