آزردہ گھرانے کی ایک لڑکی

ٹالسٹائی کے شہرہ آفاق ناول ’اینا کارینینا‘ کا آغاز اِس جملے سے ہوتاہے۔ ’’تمام سکھی گھرانے ایک سے ہوتے ہیں۔ ہر آزردہ گھرانہ اپنے الگ انداز میں آزردہ ہوتا ہے۔‘‘پہلی مرتبہ جب میں نے جملہ پڑھا تو صحیح طرح سمجھ نہیں آئی کہ اِس کا کیا مطلب ہے۔ مگر آج سے بارہ دن پہلے بالآخر مجھے اِس جملےکا مطلب سمجھ آ گیا۔

یہ بارہ دن پرانی بات ہے، مال روڈ لاہور کے ہوٹل میں کام کرنے والی ایک لڑکی رات کو اپنی ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد گھر واپس آ رہی تھی، گھر کے قریب اسے ایک شخص نے روکا، یہ شخص اس علاقے کے کسی دفتر میں سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرتا تھا، پہلے بھی اکثر وہ اِس لڑکی کو تنگ کرتا رہتا تھا، اُس رات بھی اُس شخص نے لڑکی سے کہا کہ وہ اُس سے شادی کر لے، لڑکی نے انکار کیا تو جواب میں سیکورٹی گارڈ نے اسے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ چھوٹی سی خبر اخبار کے دوسرے صفحے پر شائع ہوئی، ایک طرف اُس لڑکی کی تصویر تھی اور دوسری جانب سیکورٹی گارڈ کی جو پولیس کی حراست میں تھا۔ لڑکی کی عمر بمشکل اکیس سال تھی اور وہ گلبرگ میں اپنے غریب ماں باپ کے ساتھ کسی سرونٹ کوارٹر میں رہتی تھی۔ میں نے یہ خبر پڑھی تو نہ جانے کیوں لرز کر رہ گیا حالانکہ اِس سے کہیں زیادہ گھناؤنی وارداتوں کی خبریں روزانہ شائع ہوتی ہیں اور کوئی نہیں پوچھتا۔میں نے دل میں سوچا کہ اُس لڑکی نے نہ جانے کن مشکلات سے گزر کر یہ ملازمت حاصل کی ہوگی، اُس ملازمت کے دوران اس کا کیسے کیسے لوگوں سے پالا پڑتا ہوگا، وہ انہیں کیسے ہینڈل کرتی ہوگی، آخر اُس کی عمر فقط اکیس برس ہی تو تھی۔ پھر اُس کے گھر کے مسائل علیحدہ ہوں گے۔ بلکہ گھر کہنا مناسب نہیں، وہ تو ایک چھوٹے سے سرونٹ کوارٹر میں رہتی تھی۔ اور اِن سب باتو ں کے بعد اسےمحلے کے اُس سیکورٹی گارڈ سے بھی نمٹنا تھا جو اُس سے ’شادی ‘ کرنا چاہتا تھا۔ اُس لڑکی نے کوشش کی کہ وہ اِس مصیبت کا بھی مقابلہ کرے مگر نہ کر سکی اور بالآخر اُس سیکورٹی گارڈ کی گولی کا نشانہ بن گئی۔

بعض اوقات مجھے یوں لگتا ہے کہ اِس دنیا کے اندر کئی دنیائیں آباد ہیں اور ہر دنیا کی ایک الگ زندگی ہے۔ ہر دنیا کے باشندے دوسری دنیا سے مختلف ہیں، اُن کے مسائل علیحدہ ہیں اور اُن کے سوچنے سمجھنے کے طریقے بھی دوسروں سے جدا ہیں۔ ہوٹل میں کام کرنے والی لڑکی جس دنیا میں رہتی تھی اُس کا باقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ باقی دنیا اُس دکھ، کرب اور پریشانی کا اندازہ ہی نہیں کر سکتی جس میں وہ لڑکی جی رہی تھی۔ باقی دنیا کے لیے وہ محض ہوٹل کا ایک شو پیس تھی۔ بات صرف اُس لڑکی کی نہیں بلکہ اُس پورے طبقے کی ہے جو روزانہ صبح اپنے اپنے گھروں سے کام کی تلاش میں نکلتا ہے تاکہ زندگی کا ایک دن گزارا جا سکے۔دن سے رات ہوتی ہے اور رات سے صبح اورپھر ایک نئی اذیت اور ایک نیا عذاب ان کے لیے تیار ہوتا ہے، حتّیٰ کہ زندگی ختم ہو جاتی ہے، کبھی کسی سیکورٹی گارڈ کی گولی سے اور کبھی بھوک اور افلاس سے۔ میں لفظ ’گھر ‘بار بار ایسے استعمال کرر ہا ہوں جیسے یہ طبقہ باقاعدہ کسی گھر میں رہتا ہو۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے کسی افسانے میں اِن گھروں کے بارے میں لکھا تھاکہ اگر جانور انسانوں کے رہنے کے لیے دڑبے بناتے تو وہ اسی قسم کے ہوتے۔

انسان بہت پیچیدہ مخلوق ہے، وہ کب کیا کر گزرے یہ جاننا تقریباً نا ممکن ہے، بظاہر یہ مخلوق عقل کے تابع ہو کر اپنےمفاد میں فیصلے کرتی ہے مگر اکثر اوقات ایسا نہیں ہوتا۔سیکورٹی گارڈ نے جب اُس لڑکی کو گولی ماری تو اُس کے دماغ میں شاید یہ بات ہو کہ اِس جرم میں اسے گرفتار کر لیا جائے گا مگر اُس وقت جذبات غالب تھے اور عقل کو اُس نے تنہا چھوڑ رکھا تھا۔انسان کی اسی نفسیات کومد نظر رکھ کر آج سے چوبیس سو سال پہلے جب افلاطون نے ’’Laws‘‘ لکھی تو اُس میں بتایا کہ ایک مثالی حکومت کیسے قائم کی جائے جو عوام کی خوشی اور بھلائی کو یقینی بنا سکے، Republicمیں اُس نے جس مثالی ریاست کا نقشہ پیش کیا تھا، Lawsمیں ایک طرح سے اُس مثالی ریاست کے لیے آئین بنانے کی کوشش کی۔ افلاطون نے قوانین کے ہر پہلو پر بحث کی اور نتیجے میں جو حکومت تجویز کی وہ جمہوریت اور آمریت دونوں کا ملغوبہ تھی۔ افلاطون کے اِس کام پر بہت تنقید بھی کی جاتی ہے کہ اُس نے انسان کو محض ایک مشین یا روبوٹ سمجھ کر ایسی مملکت اور قوانین کا مجموعہ تجویز کیا جس میں جذبات کی کوئی جگہ نہیں تھی۔افلاطون کے بائیس سو سال بعد دوستوفسکی پیدا ہوا اور اُس نے ’جرم و سزا ‘ جیسا شاہکار ناول لکھا جس میں اُس میں انسانی ذہن کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی۔ اس ناول کا مرکزی کردار ’راسکولنیکوف‘ تھا جو تضادات کا مجموعہ تھا، قتل کرنے سے پہلے اُس کا دماغ پوری طرح قتل پر آمادہ ہوتا ہے مگر قتل کرنے کے بعد وہ گو مگو کا شکار ہو جاتا ہے اور سوچتاہے کہ آیا وہ جرم قبول کرے یا نہ کرے۔ یعنی دوسرے انسانوں کو جاننا تو دور کی بات بعض اوقات انسان اپنے آپ کو بھی نہیں جان پاتا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اسی طرح دوستوفسکی نے یہ لطیف نکتہ بھی سمجھایاکہ انسانی اعمال کی وجوہات بعض اوقات بے حد پیچیدہ اور متنوع ہوتی ہیں جن کی توجیہہ دینا شاید عقل کی بنیاد پر ممکن نہیں ہوتا۔اسی بات کو ابن صفی نے بھی اپنے انداز میں بیان کیا ہے کہ ’عمل اور رد عمل کا نام زندگی ہے، منطقی جواز تو بعد میں تلاش کیا جاتا ہے۔

میں نہیں جانتا کہ یہ ساری بحث میں نے کیوں کی ! کیا میرا مقصد سیکورٹی گارڈ کے اُس عمل کو جواز فراہم کرنا ہے کہ اُس نے جذبات سے مغلوب ہو کر اکیس سال کی لڑکی کا قتل کیا لہٰذا اُس کے جذبات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ہر گزنہیں۔ شاید میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جرائم محض سزا دینے سے ختم نہیں ہوتے، جرائم ختم کرنے کے لیے اُس ماحول کو ختم کرنا ضروری ہے جس میں جرم پنپتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسان کبھی ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے ؟ اکیسویں صدی ہونے کو آئی، ہنوز کوشش جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.