آسٹریلیا کا آن لائن ٹرولز کو بے نقاب کرنے کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

سڈنی: آسٹریلیا کی حکومت نے کہا کہ وہ آن لائن ٹرولز کو بے نقاب کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی اور فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا اداروں کو ان کی شناخت کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے گی۔

 رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ یہ قانون آسٹریلوی شہریوں کو آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کرنے سے بچائے گا۔

اسکاٹ موریسن کی قدامت پسند مخلوط حکومت کو 2022 کی پہلی ششماہی میں انتخابات کا سامنا ہے۔

اسکاٹ موریسن نے صحافیوں کو بتایا کہ آن لائن دنیا کو جنگلیوں کی طرح مظاہرہ نہیں کرنا چاہے، جہاں بوٹس، تعصب اور ٹرولز کا راج رہے اور گمنام افراد شہریوں کو تکلیف پہنچائیں، انہیں ہراساں کریں اور ان پر دھونس جمائیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی دنیا میں ایسا نہیں ہوسکتا اور ایسا کوئی معاملہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی نہیں ہونا چاہے۔

اٹارنی جنرل مائیکلیا کیش نے کہا کہ قانون سازی 2022 کے اوائل تک پارلیمنٹ میں متعارف کرائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ صارفین نہیں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم دوسرے لوگوں کے ہتک آمیز تبصروں کے ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر میں ہائی کورٹ کے ایک فیصلے سے پیچیدگی پیدا ہو گئی تھی جس میں آسٹریلوی میڈیا کو ان کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ہتک آمیز تبصروں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل مائیکلیا کیش نے کہا کہ منصوبہ بند آسٹریلوی قانون سازی کے تحت، سوشل میڈیا کمپنیاں خود اس طرح کے ہتک آمیز مواد کی ذمہ دار ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد لوگوں کو شناخت کیے بغیر ہتک آمیز تبصرے کرنے سے روکنا ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کو آن لائن گمنامی کا لبادہ استعمال کرنے کے قابل نہیں ہونا چاہئے تاکہ آپ اپنے گھٹیا، ہتک آمیز تبصروں کو پھیلا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا مطالبہ ہوگا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو آسٹریلیا میں مقیم ایک نامزد ادارہ ہو۔

ان کا کہنا تھا پلیٹ فارم ہتک آمیز تبصرے کے پبلشر کے طور پر مقدمہ دائر کرنے سے صرف اس صورت میں اپنا دفاع کر سکتے ہیں جب انہوں نے نئی قانون سازی کے تقاضوں کی تعمیل کی ہو کہ شکایت کا ایک نظام قائم کیا جائے جو تبصرہ کرنے والے شخص کی تفصیلات فراہم کر سکے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ لوگ ’معلومات کے انکشاف کے حکم‘ کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست بھی دے سکیں گے جس میں سوشل میڈیا سروس سے ’ٹرول کو بے نقاب کرنے‘ کے لیے تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ معاملات میں ’ٹرول‘ سے تبصرے کو ختم کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے، جو دوسری طرف مطمئن ہونے پر معاملہ ختم کر سکتا ہے۔