آنکھیں بھیگ جاتی ہیں!

آج پھر احمد ندیم قاسمی بیٹھے بٹھائے یاد آ گئے اور آنکھیں بھیگ گئیں۔ جولائی کا مہینہ تھا، سخت لو چل رہی تھی، اقبال ٹاؤن والے گھر کی بیل سنائی دی، میں اے سی والے کمرے سے سخت بیزاری کے عالم میں گیٹ پر آیا تو سامنے احمد ندیم قاسمی کھڑے تھے۔ پورا جسم پسینے سے نہایا ہوا تھا، میں انہیں اے سی والے کمرے میں لے جانا چاہتا تھا، ان کی خاطر مدارت کرنا چاہتا تھا مگر انہوں نے اپنے چہرے کی دائمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’’نہیں عطاء صاحب! میں نے آپ کی یہ امانت آپ تک پہنچانا تھی‘‘ اور پھر انہوں نے ایک کتاب میرے ہاتھ میں تھما دی ’’بولے یہ غلطی سے میرے ایڈریس پر آ گئی تھی، سوچا آپ کو دے آؤں‘‘۔ ندیم صاحب اس وقت اپنے گھر سے پیدل آ رہے تھے جو میرے گھر سے کم از کم تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ میں پہلے گرمی کی شدت سے پسینے میں شرابور ہو رہا تھا، ان کی یہ بات سن کر شرمندگی سے پسینو پسینی ہو گیا۔ میں نے انہیں اندر آنے کے لئے جتنی منت سماجت کر سکتا تھا وہ کی مگر انہوں نے کہا ’’بس مجھے اجازت دیں پھر کبھی سہی‘‘ اور اس کے بعد یہ عظیم افسانہ نگار اور شاعر، ایڈیٹر، عظیم انسان واپس پکی ٹھٹھی کی طرف روانہ ہو گیا جہاں وہ دس مرلے کے ایک معمولی سے مکان میں رہتا تھا۔ اس دن مجھے پہلی دفعہ افسوس ہوا کہ میرے پاس گاڑی کیوں نہیں!

میں 1971میں امریکہ سے واپس آتا ہوں اور ’’شوقِ آوارگی‘‘ کے نام سے اپنے سفر نامے کی پہلی قسط ندیم صاحب کو ’’فنون‘‘ میں اشاعت کے لئے تھما کر جلدی سے بھاگ جاتا ہوں کہ کہاں میں، کہاں ’’فنون‘‘ ایسا ایک معیاری جریدہ کہ کہیں ندیم صاحب میری اس ’’دیدہ دلیری‘‘ پر کچھ کہہ نہ دیں مگر حیران رہ جاتا ہوں جب پندرہ بیس دنوں کے بعد جو دوست بھی مجھے ملتا ہے وہ میرے اس سفر نامے کے جملے مجھے سناتا ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ ’’فنون‘‘ میں تازہ شمارہ تو ابھی شائع نہیں ہوا یہ دوست میرے سفر نامے کے جملے مجھے کیسے سنا رہے ہیں، پتہ چلا کہ ندیم صاحب ان دنوں ہر آنے جانے والے کو اس کے جملے سناتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو اس شرارتی نوجوان نے کیسی کیسی پھلجھڑیاں چھوڑی ہیں۔ میں سست آدمی ہوں، تین چار طویل قسطیں لکھنے کے بعد میں نے ندیم صاحب سے کہا اب آگے لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ آپ فنون کا الگا شمارہ اس کے بغیر شائع کر دیں، ندیم صاحب کہتے ہیں ’’کوئی بات نہیں آپ جب موڈ آئے لکھیں میں ’’فنون‘‘ کی اشاعت اس وقت تک روکے رکھوں گا‘‘ میری آنکھیں پھر بھیگ جاتی ہیں۔

لندن میں ایک مشاعرہ ہے جس میں ندیم صاحب کے ساتھ میں امجد اسلام امجداور خالد احمد بھی مدعو ہیں منتظمین نے ہماری رہائش کے لئے ایک فلیٹ مختص کیا ہوا ہے۔ میں اپنے کمرے میں سو رہا ہوں، صبح کا وقت ہے، آدھا سو رہا ہوں آدھا جاگ رہا ہوں، مجھے ندیم صاحب کی محبت بھری آواز سنائی دیتی ہے۔ عطاء صاحب، عطاء صاحب‘‘ میں آنکھیں کھولتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ندیم صاحب نے چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے اور کہہ رہے ہیں ’’صبح کی چائے آپ کے لئے‘‘ میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہوں، اٹھ کھڑا ہوتا ہوں اور کہتا ہوں ’’ندیم صاحب یہ آپ مجھے کیوں شرمندہ کر رہے ہیں‘‘ کہتے ہیں شرمندگی کی کون سی بات ہے، میں اپنے لئے چائے بنا رہا تھا سوچا ایک کپ آپ کے لئے بنا لوں‘‘۔ میری آنکھیں ایک بار پھر نم ہو جاتی ہیں۔ اسی سفر کے دوران ساقی فاروقی ہمیں لندن کے مشاہیر کی نشانیاں دکھاتے ہوئے ساتھ ساتھ کمنٹری کر رہے ہیں۔ یہاں فلاں ادیب چائے پینے آتا تھا، یہاں فلاں شاعر نے سائے والے درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنی فلاں معرکتہ آرا نظم لکھی تھی۔ یہاں فلاں نے یہ کیا تھا اور فلاں نے یہ کیا تھا۔ جب چار بج گئے اور بھوک سے برا حال ہونے لگا تو میں نے ساقی سے کہا ’’برادر ہمیں اب وہاں لے جائیں جہاں کوئی مشہور ادیب بیٹھ کر کھانا کھاتا ہو‘‘ اس جملے کی داد ندیم صاحب نے ایسے دی جیسے میں نے کوئی اچھا شعر سنایا ہو۔

میں اس سفر میں اپنے ساتھ زیادہ کپڑے نہیں لایا تھا چنانچہ میں نے ایک شرٹ اور ایک پتلون بغل میں دابی اور نیچے ڈرائی کلینر کی دکان کی طرف جانے لگاتو دیکھا کہ ندیم صاحب اپنے کپڑے استری کر رہے ہیں،انہوں نے میرے ہاتھ میں کپڑے دیکھے تو پوچھا ’’یہ کہاں لے جا رہے ہیں؟‘‘ میں نے بتایا کہ نیچے ڈرائی کلینر والے سے استری کروانے لے جا رہا ہوں ’’بولے‘‘ یہ مجھے دو میں استری کر دیتا ہوں، میں نے کہا ندیم صاحب میں اس گستاخی کا تصور بھی نہیں کر سکتا، آپ اپنے کپڑے بھی مجھےدیں یہ بھی آج ہی آپ کو استری شدہ مل جائیں گے مگر وہ الٹا یہی کہتے رہے کہ آپ اپنے کپڑے بھی مجھے دیں۔ جب اس باہمی تکرار نے زیادہ طول پکڑا تو ندیم صاحب نے ہنستے ہوئے کہا ’’دراصل آپ انگریز استعمار کے ایجنٹ ہیں اور ان کی معاشیات کو مضبوط بنانے کےلئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ لائیں کپڑے ادھر ،میں نے بھی ہنستے ہوئے جواب میں غالب کا یہ مصرع پڑھا ’’نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ ...تو ندیم صاحب بےساختہ ہنس پڑے مگر نہ انہوں نے مجھے اپنے کپڑے دیے اور نہ میں نے وہ گستاخی کی، جسے وہ گستاخی سمجھتے ہی نہیں تھے ۔ہے کوئی میرے احمد ندیم قاسمی کے قد کاٹھ کا شاعر جو اتنا منکسر المزاج ہو؟

میں مجلس ترقی ادب کے دفتر میں بچھی کرسیوں پر ایک کرسی پر بیٹھا ہوں دوسری کرسیوں پر اختر جعفری، سید محمد کاظم، رشید ملک، پروفیسر خورشید رضوی اور سید علی عباس جلالپوری بیٹھے ہیں۔ ندیم صاحب ہم سب سے گپ شپ بھی کر رہے ہیں اور سلاد بھی بنا رہے ہیں۔ رمضان کا مہینہ ہے میں پوچھتا ہوں ’’ندیم صاحب، یہ سلاد کس لئے بنا رہے ہیں‘‘ بولے ’’میرا ایک پرانا دوست فیروز سنز میں کام کرتا ہے، وہ پارسی ہے، اس وقت اسے بھوک لگی ہو گی اور رمضان کے احترام میں کھانے پینے کی تمام دکانیں بند ہیں، کھانا تیار کروا لیا تھا، اب یہ کھانا اسے بھجوائوں گا اسے سلاد بہت پسند ہے‘‘۔ یہ لکھتے ہوئے میری آنکھیں پھر بھیگ گئی ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: