’آڈیو ٹیپ جن کے کیسز سے متعلق ہے انہوں نے عدالت سے رجوع کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کی درخواست پر اٹارنی جنرل سے اس کے قابل سماعت ہونے پر معاونت طلب کر لی ساتھ ہی ریمارکس دیے کہ ٹیپ جن کے کیسز سے متعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) کے صدر صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (سندھ) کے رکن سید حیدر امام رضوی کی درخواست پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گے اور اس کے قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے۔

ایڈووکیٹ صلاح الدین احمد نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی ہے، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کر دے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کے خلاف رٹ دائر کی گئی؟ ہم کیا رِٹ جاری کریں اور کسے جاری کریں؟

درخواست گزار وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق سے متعلق اس عدالت کا اختیار وسیع ہے، آرٹیکل 199 سی کے تحت یہ عدالت اپنا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، جوڈیشل ایکٹوازم کے باعث عدلیہ کا پہلے ہی بہت نقصان ہوا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی قوتیں مختلف بیانیے بناتی ہیں مگر عدالت نہیں آتیں، جب وہ عدالت نہیں آتے تو کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہے نیت کیا ہے؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا اپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، مذکورہ ٹیپ جن کے کیسز سے متعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ بھی وائرل ہوجاتا ہے کس کس کی انکوائری کرائیں گے؟ آپ کچھ آڈیو کلپس سے رنجیدہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیز کی یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے نے کردی؟

ایڈووکیٹ صلاح الدین نے کہا جو اصل متاثرہ فریق ہیں وہ سامنے نہیں آتے یہی مسئلہ ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آڈیو ٹیپ کس نے ریلیز کی اور کیسے ریلیز کی؟ کیا ہم ان کے ہاتھ میں کھیلیں جنہوں نے یہ کیا ہے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ کوئی فلیٹ لے لیا، کیا اس کی انکوائری کرنے بیٹھ جائیں گے؟ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟ ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔

بعدازاں عدالت نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی۔

درخواست

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) اور سندھ سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے رکن نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے استدعا کی تھی کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی صداقت اور تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کی تشکیل کی جائے۔

درخواست میں آئی ایچ سی سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ایک آزاد کمیشن کا تقرر کرے جس میں اعلیٰ عدلیہ کے اراکین یا (ر) ججز، قانونی ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہوں جو کہ ’جامع انکوائری‘ کرے تاکہ ’سابق چیف کی مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی تصدیق کی جا سکے‘۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کمیشن کو نواز شریف خاندان کی سزا سے پہلے اور بعد میں عدلیہ پر لگائے گئے واقعات/الزامات کی بھی تحقیقات کا اختیار دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان سے لوگوں کی نظروں میں عدلیہ کی ساکھ اور آزادی ختم ہو رہی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار آڈیو ٹیپ نے عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے، عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے یا جعلی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ بیرونی قوتوں کے پریشر میں ہے، عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کے لیے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیے۔

درخؒواست میں کہا گیا کہ آئینی عدالت ہونے کے ناطے عوام کا آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ پر اعتماد بحال کرنا ضروری ہے لہٰذا اچھی شہرت کے حامل ریٹائرڈ جج، وکیل، صحافی، سول سوسائٹی کے افراد پر مشتمل آزاد خود مختار کمیشن تشکیل دیا جائے۔