اٹارنی جنرل کی نواز شریف کی رپورٹس میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کی درخواست

اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر نے حکومت پنجاب سے درخواست کی کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ طبی رپورٹس تشخیص کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کی جائیں۔

 رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت سے 28 جنوری کو ڈاکٹر فیاض شال کی جانب سے امریکی ریاست میری لینڈ سے جاری کردہ دستاویز کو 9 رکنی میڈیکل بورڈ کے سامنے رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اٹارنی جنرل کے سیکریٹری خالد خان نیازی کے جاری کردہ ایک صفحے پر مشتمل مراسلے میں میڈیکل بورڈ سے نواز شریف کے 'معلوم اور رپورٹ شدہ حقائق اور عوامی سرگرمیوں' کا جائزہ لے کر اس حوالے سے کوئی رائے قائم کرنے کی درخواست کرنے کا کہا گیا ہے۔

خط سیکریٹری داخلہ پنجاب ظفر نصراللہ خان کو ارسال کیا گیا ہے۔

یہ خط قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے اے جی پی کے دفتر کی جانب سے انہیں لکھے گئے ایک پہلے خط کو جس میں ان کے بڑے بھائی کی تازہ طبی رپورٹس طلب کی گئی تھیں، کو 'سیاسی طور پر محرک' اور لاہور ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قرار دینے کے ایک روز بعد جاری کیا گیا ۔

پنجاب حکومت کو لکھے گئے اپنے خط میں اے جی پی کے دفتر نے وضاحت کی کہ نواز شریف کی صحت سے رپورٹس خصوصی میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنے کی درخواست وفاقی کابینہ کے 11 جنوری کے فیصلے کے پیش نظر کی گئی ہے۔

کابینہ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو بظاہر نواشریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے دیے گئے حلف نامے کی خلاف ورزی پر کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

قبل ازیں 12 جنوری کو اٹارنی جنرل کے دفتر نے پنجاب حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ سابق وزیراعظم کی موجودہ صحت کی حالت کا تعین کرنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے پر غور کرے۔

خط میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے 16 نومبر 2019 کے حکم کی روشنی میں تصدیق کا عمل شروع کرنے کے لیے، حکومت پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ درخواست گزار اور میاں محمد نواز شریف کی جانب سے میڈیکل رپورٹس کے طور پر جمع کرائے گئے دستاویزات کی جانچ کے لیے ایک میڈیکل بورڈ/کمیٹی تشکیل دے۔ تاکہ نواز شریف کی جسمانی حالت اور ان کی پاکستان واپسی کی اہلیت کے حوالے سے ماہرین کی طبی رائے دستیاب ہوسکے۔

خٰیال رہے کہ 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ نے نواز کو چار ہفتوں کے لیے ایک عبوری انتظام کے طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی اور ڈاکٹروں کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ ان کی صحت بحال ہو گئی ہے اور وہ واپس جانے کے لیے فٹ ہیں تو انہیں پاکستان واپس آنا تھا۔