اپریل کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 38 فیصد سے زائد کی کمی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ماہانہ بنیادوں پر 38.6 فیصد کم ہو کر 62 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہا۔

 رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ سب سے بڑے معاشی مسائل میں سے ایک رہا، اپریل میں ریکارڈ کی گئی ماہانہ کمی کے باوجود 22-2021 کے ابتدائی 10 ماہ میں مجموعی فرق 13 ارب 78 کروڑ ڈالر تھا، یہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کیے گئے 54 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے خسارے سے 25 گنا زیادہ تھا۔

تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 21-2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب 82 کروڑ ڈالر تھا جو گزشتہ سال 4 ارب 45 کروڑ ڈالر تھا، یہ فرق 22-2021 کے آغاز کے ساتھ بڑھنا شروع ہوا اور جنوری میں ماہانہ خسارہ 2 ارب 53 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کی ناگفتہ بہ صورتحال بنیادی طور پر درآمدات میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ہے جو جولائی تا اپریل میں 69 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔‎

بڑھتی ہوئی درآمدات نے برآمدات میں اضافے کو پیچھے چھوڑ دیا، جو اسی مدت کے دوران 32 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، تجارتی عدم توازن نے 10 ماہ کی مدت کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھانے میں سب سے بڑا حصہ ڈالا۔

نئی حکومت نے ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے حال ہی میں 32 اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کردی ہے، بڑھتے ہوئے درآمدی بل کی وجہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، اس کے نتیجے میں رواں مالی سال میں پاکستان کے لیے تیل کا بل دگنے سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ درآمدی پابندیوں کے ذریعے درآمدی بل کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے تاہم پہلے سے بک شدہ اشیا رواں مالی سال کے اختتام کے بعد بھی پاکستان پہنچتی رہیں گی، ممکن ہے پابندی کا کوئی اثر 22-2021 کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر نہ پڑے۔

اس سے قبل تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ 22-2021 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 15 ارب ڈالر سے اور 16 ارب ڈالر کے درمیان ہوسکتا ہے۔

حال ہی میں معزول ہونے والی پی ٹی آئی حکومت نے جب 2018 میں اقتدار سنبھالا تو سالانہ فرق تقریباً 20 ارب ڈالر تھا، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کی خراب حالت نے عمران خان کی حکومت کو دوست ممالک اور ڈونر ایجنسیوں سے مدد لینے پر مجبور کیا، دریں اثنا اس نے تجارتی نرخوں پر مارکیٹ سے فنڈز بھی ادھار لیے تھے۔

کرنٹ اکاؤنٹ اس وقت تک خسارے میں رہنے کا امکان ہے جب تک حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک ارب ڈالر کے قرض کی قسط کے لیے بات چیت کو کامیابی سے مکمل نہیں کر لیتی، یہ پاکستان کو قرض فراہم کرنے والے دیگر ذرائع کو بھی قرض کے لیے راضی کرے گا۔

اس وقت ملک اپنے بیرونی کھاتوں کی کمزوریوں کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز جاری کرنے سے قاصر ہے، جس کی عکاسی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بڑے پیمانے پر کمی سے ہوتی ہے، رواں مالی سال کے دوران مقامی کرنسی کی قدر میں 20 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔

error: