اپریل کے عروج کے بعد کورونا وائرس کے فعال کیسز میں 25 فیصد کمی

اسلام آباد: جہاں ملک میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 25 فیصد تک کم ہوچکی ہے وہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے فیصلہ کیا ہے کہ سیاحت پر پابندی غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آج فعال کیسز 67 ہزار 665 تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ ماہ کے آخر میں رپورٹ ہونے والی تعداد سے 25 فیصد کم ہیں جب فعال کیسز 90 ہزار کا ہندسہ عبور کر گئے تھے۔

 رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کی 2 لہروں کے دوران ملک میں فعال کیسز کی تعداد نے دو مرتبہ 50 ہزار کی سطح عبور کی اور اس کے بعد ان میں کمی ہونا شروع ہوگئی تھی۔

وبا کی پہلی لہر کے دوران جون 2020 میں فعال کیسز کی تعداد 50 ہزار سے بلند ہوئی تھی جس کے بعد اس میں کمی ہونا شروع ہوئی اور ستمبر تک فعال کیسز 6 ہزار رہ گئے تھے۔

تاہم اکتوبر میں کیسز دوبارہ بڑھنے لگے جس کی وجہ سے این سی او سی نے اسے اس مہلک وائرس کی دوسری لہر قرار دیا اور دسمبر تک فعال کیسز ایک مرتبہ پھر 50 ہزار کا ہندسہ عبور کر گئے۔

جب فعال کیسز کم ہو نا شروع ہوئے اور فروری تک 16 ہزار رہ گئے تو اس میں دوبارہ اضافہ شروع ہوا اور این سی او سی نے اسے وائرس کی تیسری لہر قرار دے دیا۔

اس دوران وائرس کیسز کی تعداد نے تیسری مرتبہ 31 مارچ کو 50 ہزار کی سطح سے تجاوز کیا اور اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ فعال کیسز کی تعداد 90 ہزار سے بھی بلند ہوگئی۔

اپریل کے آخری ہفتے میں این سی او سی نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز ) پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پاک فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ایک ویڈیو بیان میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ صوبوں کی درخواست پر فوج تعینات کردی جائے گی۔

اسی روز صوبوں اور انتظامی یونٹس نے ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پاک فوج کی مدد مانگ لی، اس فیصلے کی وجہ سے ایس او پیز پر عملدرآمد میں بہتری آئی۔

مزید برآں 8 مئی سے ایک ہفتے تک کا لاک ڈاؤن بھی لگادیا گیا تھا جس کی وجہ سے کیسز کی تعداد میں کمی ہوئی۔

اب کورونا وائرس کا پھیلاؤ قابو میں رکھنے کے لیے این سی او سی نے غیر معینہ مدت تک کے لیے سیاحت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک ٹوئٹر اعلان میں این سی او سی کی جانب سے کہا گیا کہ 'سیاحت پر پابندی اگلے اعلان تک جاری رہے گی، این سی او سی اس کے مطابق ضروری ہدایات جاری کرے گا'۔

دوسری جانب الیکٹرانک میڈیا میں چلنے والی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد کی 100 فیصد آبادی کو 2 ماہ میں ویکسینیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم وزارت صحت کے ایک سینیئر عہدیدار نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ابھی تک ایسا کوئی ارادہ نہیں، البتہ ویکسین جلد وسیع طور پر دستیاب ہوگی، ہم توقع کرتے ہیں کہ اسلام آباد کے شہری صحت کے حوالے سے زیادہ فکر مند ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *