اپوزیشن جماعتوں کا حکومت سے افغانستان کی صورتحال پر پارلیمان کو بریف کرنے کا مطالبہ

ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کو بریف کیا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ اس سلسلے میں پالیسی بیان جاری کیا جائے اور افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے قوم پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے قومی اتفاق رائے تشکیل دیا جائے۔

پیپلز پارٹی نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اپنی پارٹی کا نقطہ نظر تشکیل دینے کے لیے بلال ہاؤس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا غیر معمولی اجلاس منعقد کیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات پر ان کی جماعت میں اندرونی مشاورت جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن حکومت کو افغان صورتحال پر اپوزیشن اور اراکین پارلیمنٹ کو اپنی پالیسی بیان پر بریفنگ دینی چاہیے۔

ان کا نقطہ نظریہ تھا کہ صرف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں محض ایک مباحثے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ مباحثے کا مرکز قومی اتفاق رائے کی تشکیل ہونا چاہیے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پالیسی بیان جاری کیے جانے کے بعد ہی مباحثہ بامعنی ہوگا۔

'پاکستان عالمی برادری کے فیصلے کے ساتھ کھڑا ہے'

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، مشیر قومی سلامتی معید یوسف نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، محمد صادق اور افغانستان میں پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے کچھ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئےہمسایہ ملک میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق پاکستان کے منصوبے پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور اس کی مستقبل کی حکومت کے بارے می یکطرفہ طور پر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ اسلام آباد عالمی برادری کے فیصلے کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

معید یوسف نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی برادری جو بھی فیصلہ کرے اس میں ساتھ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پڑوس میں عدم استحکام نہیں چاہتے، جو کچھ افغانستان میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جیسے اشرف غنی نہیں چلا سکے ایسے طالبان بھی اکیلے ملک نہیں چلا سکتے اور انہیں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان پر ہمارا مؤقف واضح ہے لیکن تیزی سے تبدیل ہونے والی صورتحال کے سبب کچھ بھی یقینی نہیں، ہم نے اشرف غنی سے کہا تھا کہ وہ اکیلے حکومت نہیں چلا سکتے اور اب ہم طالبان سے بھی یہی کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ جو افغانستان سے نکلنا چاہ رہا ہے پاکستان اسے محفوظ راستہ فراہم کررہا ہے، اب تک صحافی برادری کو 300 ویزے جاری کیےجاچکے ہیں اس پر کمیٹی ٹو پروٹیک جرنلسٹس نے پاکستان اسے اظہار تشکر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک کرائسس سیل قائم کیا ہے تا کہ ویزوں کے اجرا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے ایک ہی چھت تلے ہوں۔

نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے کہا کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانہ لوگوں میں وہاں سے نکلنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کھلا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ یہ نہیں ہوگا کہ ہم طالبان کی حکومت کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرلیں بلکہ ہم عالمی برادری کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

پاکستان سفیر منصور احمد خان کا کہنا تھا کہ کچھ سفارتخانوں نے اپنے عملے اور غیر ملکی شہریوں کے انخلا کے لیے پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سفارتخانہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ساتھ تعاون کررہا تھا لیکن صورتحال کشیدہ ہونے کے سبب کابل سے واپس آنے والی تین پروازیں دوبارہ وہاں نہیں گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ اب بھی نیٹو کے کنٹرول میں ہے لیکن جب ایئرپورٹ کلیئر ہوگا تو پروازیں بحال ہوجائیں گی ورنہ لوگوں کو طورخم بارڈر سے پاکستان لایا جاسکتا ہے، اس وقت 40 سے 50 خاندان پاکستانی سفارتخانے میں موجود ہیں اور 200 سے زائد پروازوں کے منتظر ہیں۔