اپوزیشن کو ایمرجنسی کی افواہوں کے پسِ پردہ منظم مہم ہونے کا شبہ

ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں ملک میں کسی قسم کی ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں افواہوں کی گردش اور صدارتی طرز حکومت کے حق میں سوشل اور مین اسٹریم میڈیا میں جاری گفتگو کے پیچھے ایک 'منظم اور منصوبہ بند مہم' دیکھتی ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو شبہ ہے کہ حکمران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حقیقی مسائل سے اور ہر محاذ پر اس کی ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی 'مہم' کے پیچھے ہے۔

تاہم، اس تاثر کی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے واضح طور پر تردید کی اور انہوں نے ایمرجنسی یا صدارتی طرز حکومت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو کچھ یوٹیوبرز اور وی-لاگرز کی بدولت ملک میں رائج 'جعلی خبروں کے کلچر' کا حصہ قرار دیا۔

اسی گفتگو کے درمیان مشترکہ اپوزیشن کے اراکین نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک قرارداد جمع کرادی ہے جس میں 1973 کے آئین کے مطابق ملک میں وفاقی پارلیمانی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے ٹوئٹر پر ہاتھ سے تحریر کردہ قرارداد کی تصویر پوسٹ کی جس پر اسمبلی میں موجود تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے دستخط تھے، ساتھ ہی کیپشن لکھا کہ 'دیکھتے ہیں کہ یہ جمعہ کو اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے یا نہیں'۔

احسن اقبال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ 'دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت نے ملک کو برباد کر دیا ہے تو اندرا گاندھی جیسی ایمرجنسی لگانے اور مختلف فارمولوں کے ذریعے نظام میں تبدیلی کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں'۔

وہ 25 جون 1975 کو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا حوالہ دے رہے تھے جویہ 21 مارچ 1977 تک نافذ رہی تھی۔

اس ایمرجنسی کو جمہوری بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران وہاں شہری آزادیوں پر کریک ڈاؤن دیکھا اور اختلافی آوازوں کو دبایا گیا۔

یہ ایمرجنسی بھی مبینہ طور پر اندرا گاندھی نے اس وقت لگائی تھی جب ایک عدالت نے انہیں انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود اپوزیشن کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مہم کے پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ہر شعبے میں بری کارکردگی سے اس ملک کے عوام تکلیف میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی گسٹاپوس اور ریاستی مشینری اس (مہم) کے پیچھے ہے، میڈیا میں ایسا کرنے والوں کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔

نفیسہ شاہ اسے 'ڈراما' اور 'دھوکا' قرار دیتے ہوئے اس مہم کی 'مذمت' کی اور 1973 کے آئین میں درج ملک کے وفاقی پارلیمانی نظام کا دفاع کرنے کا عزم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے ملک کے مقدس آئین سے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اس سلسلے میں جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت بن گئی ہے کہ یوٹیوب پر دو تین لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور وہاں سے یہ واٹس ایپ کے ذریعے وائرل ہوتی ہے اور پھر آخر کار اخبارات اور ٹی وی چینلز بھی اس کی رپورٹنگ شروع کردیتے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق ہے اور کہا کہ 'یہ اصل میں جعلی خبروں کا چکر ہے جس سے ہمیں مسئلہ ہے جبکہ میڈیا اسے فروغ دینا چاہتا ہے'۔

فواد چوہدری نے کہا کہ 'مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے جعلی خبریں ایک کلچر بن چکی ہیں اور کوئی بھی حکومت کو اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے'، ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں میڈیا گروپس اس کلچر کی 'حوصلہ افزائی' کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'یہاں تک کہ ڈان جیسا اخبار بھی جعلی خبروں پر اداریہ لکھتا ہے اور پی ایم ڈی اے بل پر یہ سمجھے بغیر لکھتا ہے کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے'۔

انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا سمیت ہر قسم کے میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے قیام کی تجویز پر حکومت پر ہوئی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہی، تجویز کو میڈیا اور صحافیوں کی تمام تنظیموں نے مسترد کر دیا تھا اور بعد میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ابھی تک ایسا کوئی بل تیار ہی نہیں کیا۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر سرمد علی نے میڈیا اور صحافیوں کے اداروں کے مؤقف کا دفاع کیا اور کہا کہ وزارت اطلاعات نے میڈیا اداروں کے ساتھ ایک کانسیپٹ پیپر شیئر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانسیپٹ پیپر میں تقریباً وہی نکات موجود تھے جو انہیں بعد میں ایک آرڈیننس کے مسودے میں ملے جو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کر رہا تھا 'لہذا یہ کہنا شاید غلط ہوگا کہ ایسا کوئی آرڈیننس موجود ہی نہیں تھا'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.