اپوزیشن کی غیر موجودگی میں سی پیک اتھارٹی بل سینیٹ سے منظور

اسلام آباد: پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کو اپوزیشن کی غیر موجودگی میں سینیٹ سے متفقہ طور پر منظور ہونے والے سی پیک اتھارٹی بل کے بعد قانونی حیثیت مل گئی۔

 رپورٹ کے مطابق بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا تھا اور سینیٹ کے اجلاس میں بطور ضمنی ایجنڈا پیش کیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے بل پر فوری غور کی تحریک پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کی جانب سے اس اعتراض کہ مشیر یہ نہیں کرسکتا پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے تحریک پیش کی۔

اپوزیشن چاہتی تھی کہ بل کو متعلق عدم موجود کمیٹی بھیجا جائے لیکن قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے معاملے کی فوری اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ آنے والا ہے اور بل کی فوری منظوری اہم ہے۔

قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ پاکستان اور چین کے خصوصی تعلقات تسلیم کرتے ہیں۔

تاہم انہوں نے مذکورہ بل ضمنی گرانٹ کے طور پر دن کے اختتام پر پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اسے کل کیوں پیش نہیں کیا جاسکتا اسے قائمہ کمیٹی کو بھجوانا چاہیے تھا۔

قائد ایوان نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا حق ہے کہ کسی بھی وقت ضمنی ایجنڈا پیش کیا جائے۔

بعدازاں سی پیک بل کی منظوری سے قبل اپوزیشن نے انسانی حقوق بل کی فوری منظوری میں حکومت کو ایک ووٹ سے شکست دی۔

وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے پیش کردہ بل کا مقصد خواتین، بچوں، بزرگوں اور کمزوروں کو گھریلو تشدد سے بچانے کا مؤثر نظام قائم کرنا تھا جو قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا تھا۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ ایک اہم قانون سازی ہے جسے قومی اسمبلی سے منظور ہونے میں کئی ماہ لگے لیکن اسے قائمہ کمیٹی بھجوانا چاہیے۔

جس پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ مذکورہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں 10 ماہ تک زیر التوا رہا ہے جس کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں۔

جس پر قائد ایوان نے چیئرمین سے اس بل پر ووٹنگ کروانے کا کہا جس میں اپوزیشن نے حکومت کو 34 کے مقابلے 35 ووٹس سے شکست دی اور بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی بھجوادیا گیا۔

پانی کا معاہدہ

سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے لیے 1992 میں ہونے والے معاہدے کو منصفانہ تقسیم کے نئے معاہدے سے بدلنے کا مطالبہ کیا۔

مذکورہ معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے سینٹر رضا ربانی کے کہا کہ صوبوں کو کئی برسوں سے پانی کی قلت کمی کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1992 کا پانی معاہدہ صوبوض کے درمیان پانی کی تقسیم کے تناؤ کو دور کرنے میں ناکام رہا جس کے نتیجے میں صوبے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے 1945 کے سندھ اور پنجاب کے بیچ ہوئے پانی کے معاہدے کی طرز پر ایک نیا معاہدہ تشکیل دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی۔

بعدازاں اپوزشین نے ارسا کے 'غیر ذمہ دارانہ رویے" پر ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔

وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ پنجاب کی سابقہ حکومتوں نے ٹیلی میٹری سسٹم کے ذریعے پانی کی تقسیم میں دیگر صوبوںکا حق دبایا۔

انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 1991 کے آبی معاہدے پر نطرِثانی کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: