اپوزیشن یا حکومت، ایم کیو ایم پاکستان کے گیم چینجر فیصلے کا اعلان آج ہوگا

اپوزیشن رہنماؤں اور حکومتی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پی) کے درمیان رات گئے ملاقات نے دارالحکومت میں کافی ہلچل مچا دی۔

 رپورٹ کے مطابق مشترکہ اپوزیشن نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ پارٹی پر غالب آنے کی کوشش کی کہ وہ وہاں اور پھر کسی فیصلے کا اعلان کرے لیکن ایم کیو ایم-پی نے اتنی رات گئے کوئی حتمی بیان دینے سے گریز کیا اور اعلان کیا کہ وہ اگلے دن اپنے فیصلے کا اعلان کرے گی۔

ایم کیو ایم پی کے ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، پارٹی اپنے فیصلے کا اعلان اس وقت ہی کرے گی جب اس کی توثیق رابطہ کمیٹی سے ہو جائے گی۔

ایم کیو ایم پی کے سینیٹر فیصل سبزواری نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ متحدہ اپوزیشن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان معاہدہ نے حتمی شکل اختیار کر لی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی، ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی مجوزہ معاہدے کی توثیق کے بعد اس کی تفصیلات سے کل شام 4 بجے باضابطہ میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں خواجہ آصف، شیری رحمان، نوید قمر، ایاز صادق، اختر مینگل، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر پر مشتمل اپوزیشن کا وفد آدھی رات سے کچھ پہلے پارلیمنٹ لاجز پہنچا۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنماؤں سے بات چیت کی جو بدھ کی صبح تک جاری رہی۔

بعد ازاں، حزب اختلاف کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول، مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف بھی رات 2 بجے کے قریب وہاں پہنچے تاکہ حکومتی اتحادی کو رخ بدلنے پر آمادہ کیا جا سکے۔

رات بھر ٹی وی چینلز پر اجلاس کے ممکنہ نتائج کی خبریں چلتی رہیں، متعدد آؤٹ لیٹس نے رپورٹ کیا کہ اپوزیشن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم-پی نے ان کے ساتھ شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے تو کچھ چینلز نے خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر کے حوالے سے کہا کہ کچھ بھی طے نہیں ہوا۔

اجلاس سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کی سینئر قیادت کی موجودگی میں سندھ کے انتظامی اور بلدیاتی امور کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور ایم کیو ایم-پی کے درمیان مستقبل کے معاہدے سے متعلق بعض شقوں پر غور کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ معاہدہ صرف پیپلزپارٹی کے ساتھ نہیں بلکہ پوری اپوزیشن کے ساتھ ہونا ہے اور اگر رابطہ کمیٹی نے منظور کرلیا تو مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

خیال رہے کہ اگر ایم کیو ایم پی اپنا وزن اپوزیشن کے پلڑے میں ڈالتی ہے تو یہ ان کے حق میں ترازو کو بڑی حد تک جھکا دے گا۔

کچھ اندازوں کے مطابق، حکمران اتحاد کے پاس ارکان کی تعداد 171 ہے، کیونکہ جماعت اسلامی کے واحد قانون ساز نے عدم اعتماد کے ووٹ میں غیر جانبدار رہنے کا انتخاب کیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے اپنی صفوں میں شامل ہونے کے بعد اپوزیشن کے پاس 169 ارکان موجود ہیں۔

اگر ایم کیو ایم پی کے 7 اراکین اپوزیشن کی جانب بڑھ جائیں تو یہ غیر یقینی توازن آسانی سے جھک سکتا ہے۔