Site icon Dunya Pakistan

اکٹوپک حمل کیا ہے؟ ’اتنے حمل ضائع ہوئے کہ مجھے لگا اب میں ماں نہیں بن پاؤں گی‘

’انھوں نے کہا کہ حمل کے امکانات اب بس 50 فیصد ہیں۔ میں نے وہ وقت ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی کیفیت میں گزارا۔ میں ناامید ہونے لگی تھی۔ میری پہلے بھی مِس کیرج (حمل ضائع ہونا) کی ہسٹری رہی ہے اور اب یہ تیسری بار تھی جب مجھے ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کا حمل ایکٹوپک ہے۔ ڈاکٹروں نے پھر بھی تھوڑی امید دلائی تھی کہ ایسا نہیں کہ آئندہ حمل نہیں ہو گا لیکن آس پاس کے لوگوں کی باتوں نے مجھے بہت مایوس کر دیا تھا کہ شاید اب میں ماں نہیں بن پاؤں گی۔‘

یہ کہانی انعم اور ان جیسی لاکھوں خواتین کی ہے جو اپنی زندگی کے بہترین ایام بہت تکلیف اور اذیت میں گزارتی ہیں۔

انعم کو ایکٹوپک حمل ہونے کا تب پتہ چلا جب ایک روز اچانک انھیں پیریڈز میں ہونے والے کھچاؤ جیسا درد ہونے لگا۔ درد اتنا بڑھ گیا کہ وہ زمین پر گر گئیں اورانھیں فوری ہسپتال لے جانا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر انھیں بار بار چیک کرتے رہے۔

ایکٹوپک پریگننسی سے مراد ہے غیر معمولی حمل، جس میں بیضہ بچہ دانی کے اندر نہیں بلکہ اس کے باہر بننا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا حمل بیضہ دانی کے ساتھ فيلوپی نالیوں میں ٹھہرتا ہے تاہم یہ ایبڈومی میں یا سروِکس میں بھی ہو سکتا ہے۔

’میں بس زندہ تھی، میں نے وہ رات اُس ہی تکلیف میں گزاری اور صبح میرا آپریشن کر دیا گیا۔ میرا پیٹ بھی کٹا اور حمل بھی ضائع کر دیا گیا۔‘

اس آپریشن میں انعم کی فیلوپی نالیاں، جو بُری طرح متاثر ہو چکی تھیں، نکال دی گئیں تاہم ڈاکٹرز نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں کہ آپ دوبارہ حاملہ نہیں ہو سکتیں، اس لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ وہ لوگوں کی اولاد اور کامیاب حمل سے متعلق کہانیاں پڑھتی تھیں اور اپنے آپ کو دلاسے دیتی تھیں کہ ’میرا حمل دوبارہ ٹھہر سکتا ہے۔‘

لیکن کلینک کے باہر کی دنیا مختلف تھی۔ انعم کے بقول اُن کے آس پاس موجود لوگ انھیں کہتے کہ ’دو بار ڈی اینڈ سی یعنی Dilation and curettage کے بعد تیسرا حمل ہوا تو وہ بھی ایکٹوپک۔۔۔ اور یہ کہ وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکیں گی۔

اس ایکٹوپک سرجری کے دو سال بعد انعم پھر حاملہ ہوئیں لیکن یہ حمل بھی ضائع ہو گیا اور وہ دوبارہ ڈی اینڈ سی کے تکلیف دہ عمل سے گزریں۔

انعم بتاتی ہیں کہ اس سرجری کے بعد وہ بالکل مایوس ہو گئی تھیں۔ ’مجھے لگتا تھا کہ اتنے حمل ضائع ہونے کے بعد اب کبھی میری اولاد نہیں ہو گی۔ میں ڈپریشن میں چلی گئی تھی۔ میرے شوہر نے اور میں نے سوچا کہ ہم آئی او آئی کی طرف جاتے ہیں۔‘

لیکن ہوا یہ کہ وہاں جانے سے ایک ہفتہ پہلے ہی انعم پھر امید سے ہو گئیں۔ لیکن ایک بار پھر حمل ضائع ہونے کا خوف ان کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سوچ لیا تھا کہ اب کی بار بھی مس کیرج ہو جائے گا۔ امید تو ختم ہو ہی چکی تھی لیکن وقت گزرتا رہا اور پریگنینسی پوری ہوئی اور میری سرجری کی بعد بیٹی پیدا ہوئی جو ماشاللہ اب دو سال کی ہے۔‘

’میں نے آخر تک ہمت نہیں ہاری، اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ میری امی کی دعاؤں سے ہوا ہے۔‘

’میں سمجھتی ہوں کہ آپ امید کو قائم رکھیں اور ہرگز نہ سوچیں کہ یہ اب نہیں ہو سکتا یا آپ ماں نہیں بن سکتیں۔ دنیا میں ایسا کچھ نہیں جو نہیں ہو سکتا، سب کچھ ممکن ہے۔‘

انعم کہتی ہیں کہ اس پورے عرصے کے دوران وہ اتنی مایوس رہیں کہ انھوں نے ماہر نفسیات سے بھی مدد لی۔ ان کے مطابق ماہر نفسیات نے اُن سے کہا کہ وہ کوئی پینٹنگ کریں۔ تب انھوں نے سوچا کہ وہ میک اپ کرنا شروع کرتی ہیں اور اس کے لیے انھوں نے اپنے آپ پر میک اپ کرنا شروع کر دیا۔

انعم نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ میک اپ اتنے لگاؤ سے کرتی تھیں کہ رات کے وقت بھی میک اپ کرتی تھیں تو ان کے شوہر کی جب آنکھ کھلتی تھی تو وہ ڈر جاتے تھے۔ انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور میک اپ کرتی رہی اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی رہیں۔ اس کے بعد لوگوں نے ان سے میک اپ کروانا شروع کروا دیا اور آج وہ میک اپ آرٹسٹ ہیں۔

ایکٹوپک حمل کیا ہے؟

ماہر امراض نسواں ڈاکٹر مہناز عاصم نے بتایا کہ ایکٹوپک کے مطلب ہیں ایب نارمل یا غیر معمولی حمل۔ ایسا حمل بچہ دانی کے اندر نہیں بلکہ بچے دانی کے علاوہ کسی اور جگہ پر ٹھہر جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ یوٹرس کے ساتھ فلوپین ٹیوبس میں ٹھہرتا ہے لیکن یہ ایبڈومنل بھی ہو سکتا ہے یا سرویکس، جو یوٹرس کا نچلا حصہ، میں بھی۔

این سی بی آئی کی رپورٹ کے مطابق ایکٹوپک حمل ہونے کے بعد 97 فیصد خواتین میں معدے کے نچلے حصے میں درد کی شکایت، 79 فیصد میں اندام نہانی سے خون کا اخراج، 91 فیصد میں پیٹ کی سختی، 54 فیصد میں فیلوپین ٹیوب کا نرم پڑ جانا، 15 فیصد میں بانجھ پن کے آثار ہونا، اور 11 فیصد میں پرانہ ایکٹوپک حمل شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اکثر ایکٹوپک حمل کو مس کیرج سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ چونکہ نو فیصد خواتین پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت نہیں کرتیں اور 36 فیصد خواتین کو فیلوپین ٹیوب ٹینڈرنیس کی شکایت نہیں ہوتی، اس لیے اکثر جسمانی چیک اپ کے باوجود ایکٹوپک حمل کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

،تصویر کا کیپشنماہر امراض نسواں ڈاکٹر مہناز عاصم نے بتایا کہ ایکٹوپک کے مطلب ہیں ایب نارمل یا غیر معمولی حمل

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آج کل ایکٹوپک حمل کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ پیلوک سوزش کی بیماری ہے جسے ’کلامایڈیاٹریکومائٹس‘ کہا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکٹوپک حمل کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں جن میں ٹیوبز کا خراب ہو جانا، انفیکشن یا سرجری، بانجھ پن ہونا، وایٹروفرٹیلازیشن اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔

ڈاکٹر مہناز عاصم کا کہنا ہے کہ اس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق فیلوپین ٹیوبز کے اندر سیلیا موجود ہوتے ہیں جن کی حرکت کے نتیجے میں جو عمل پیش آتا ہے اس کے تحت پہلے ٹیوبز میں حمل ٹھہرتا ہے اور وہاں سے وہ حمل یوٹرس میں آتا ہے اور یوٹرس کے اینڈومیٹرم سے جڑ جاتا ہے۔

لیکن اگر ٹیوبز رپچر (پھٹی) ہوں تو اس کی وجہ سے سیلیا خراب ہوتے ہیں اور حرکت نہیں ہوتی اور اکثر حمل ٹیوب سے پچھلی جانب چلا جاتا ہے اور فیملبریل اینڈکے گچھے میں یہ حمل جا کر ٹھہر جاتا ہے۔

کچھ خواتین جو زیادہ سگرٹ نوشی کرتی ہیں اُن میں ایک تحقیق کے مطابق ایکٹوپک حمل ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مہناز کا کہنا تھا کہ ایکٹوپک کے بعد بھی حمل کہ بہت زیادہ امکان موجود ہیں۔ لیکن دوبارہ ایکٹوپک ہونے کہ امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

،تصویر کا کیپشنانعم، ان کی بیٹی اور شوہر

’میرا خیال ہے کے شاید پانچ فیصد کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ ایکٹوپک حمل کیا ہے، آج کل کی بچیاں تو پھر بھی انٹرنیٹ پر سرچ کر کے آ جاتی ہیں لیکن ان کی والدہ یا ساس کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ غیر معمولی حمل ہے۔ اس حمل کی حامل خاتون کی لیپروسکوپی کرنی پڑتی ہے یا اس کی ٹیوب ختم ہو جاتی ہے۔‘

ڈاکٹر مہناز نے یہ بھی بتایا کہ کچھ بڑی عمر کی خواتین جو اپنی بہوؤں کو لے کر آتی ہیں اُن سے کہتی ہیں کہ آپ لکھ کے دے دیں کہ یہ ماں نہیں بن سکتی تاکہ وہ اپنے بیٹوں کی دوسری شادی کر سکیں لیکن کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ بس ہماری بہو کو کچھ نہ ہو۔

Exit mobile version