’’اکھنڈ بھارت اور اکھنڈ روس‘‘

روس اور اس کے صدر پوٹن کو امریکہ اور مغرب کی نفرت میں ہمارے محبان وطن جس والہانہ انداز میں ان دنوں سراہ رہے ہیں ان کا مشاہدہ کرتے ہوئے مجھے 1980ء کی دہائی مسلسل یاد آرہی ہے۔ اس دہائی میں خارجہ امور کا بے چین رپورٹر ہوتے ہوئے میں ’’افغان جہاد‘‘ کی بابت بہت پریشان رہتاتھا۔ ہمارے ہاں اس دور میں تمام سیاسی جماعتیں ’’کالعدم‘‘ ٹھہرادی گئی تھیں۔ اسلام آباد آئے کسی بھی سیاست دان کو صحافیوں سے گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔ وہ ذاتی دوستوں کے گھروں میں ہم سے خفیہ ایجنسیوں سے چھپ چھپاکر ملاقاتیں کرتے۔کئی بار ان سے طے شدہ وقت کے مطابق ملاقات کے لئے پہنچتے تو خبر ملتی کہ جس سیاست دان سے گفتگو ہونا تھی اسے ’’شہر بدر‘‘ کردیا گیا ہے۔کئی سیاستدانوں کو ان کے دوستوں کے گھر ہی میں نظربند بھی کردیا جاتا۔

ہمارے سیاستدانوں کے برعکس گل بدین حکمت یار جیسے افغان مجاہدین تقریباََ ہر ماہ اسلام آباد کے بڑے ہوٹلوں میں پرہجوم پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے۔جدید ترین اسلحہ سے لیس محافظوں کے ہمراہ  افغانستان پر غیر ملکی قبضے اور وہاں انسانی حقوق کی پائمالی کی بابت جنگ جو نوعیت کی بڑھکیں لگاتے۔ ہم صحافیوں کے ذہن میں یہ تصور بھی ٹھونسا گیا کہ روس ایک سپرطاقت ہوتے ہوئے بھی ہر موسم میں فعال رہنے والی بندرگاہوں سے محروم ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے اس جنون میں مبتلا رہا کہ ازبکستان اور تاجکستان پر قبضے کے بعد افغانستان پر بھی قابض ہوجائے۔ اس ملک میں اپنی حاکمیت مستحکم کرنے کے بعدپاکستان اس کا اگلا ہدف ہوگا جس کی ساحلی پٹی کم از کم 1300کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ہمیں بتایا گیا کہ جنرل ضیاء سوویت افواج کے خلاف افغان جہاد کی سرپرستی کرتے ہوئے درحقیقت ماسکو کو ’’گرم پانی‘‘ والے سمندر تک پہنچنے نہیں دے رہے۔

سوویت یونین کے خلاف جہاد اس لئے بھی واجب ٹھہرایا گیا کیونکہ وہاں کا نظام کمیونسٹ تھا۔ مذہب بیزاری پر مبنی اس نظام کی شکست صالح مسلمانوں کا فرض ٹھہرادی گئی۔اپنے کمزور ایمان کی وجہ سے میں مذکورہ فرض نبھانے کو دل وجان سے آمادہ نہ ہوسکا۔ تھوڑی حکمت سے کام لیتا تو افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف برپا ہوئے جہاد کے بارے میں عقیدت بھری خبریں اور مضامین لکھتے ہوئے عالمی میڈیا سے ڈالر کماتا۔جنرل ضیاء بھی ان تحریروں کی وجہ سے میری شفقت کی جانب مائل ہوجاتے۔ ان کے ساتھ غیر ملکی دوروں سے لطف اندوز ہوتا اور چند قیمتی پلاٹس بھی رعایتی نرخوں پر میسر ہوجاتے۔مجھ بدنصیب کے ساتھ مگر ساری عمر ’’فرازؔ تم کو نہ آئیں…‘‘ والا معاملہ ہی رہا ہے۔سینسرکے خوف سے گھماپھراکر یہ پیغام دینے سے باز نہیں رہتا تھا کہ پاکستان میں فوجی آمریت کو بھرپور معاونت وسرپرستی فراہم کرتے امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں انسانی حقوق کے بارے میں دیدہ دلیر منافقت اپنائے ہوئے ہیں۔

روسی ادب کا گرویدہ طالب علم ہوتے ہوئے بھی مجھے سوویت یونین کے متعارف کردہ ’’کمیونزم‘‘ سے وابستگی کی کبھی خواہش نہیں ہوئی۔بے شمار پاکستانیوں کی طرح میرے جی کو بھی چین کا نظام بھاتا تھا۔ مائوزے تنگ کئی برسوں تک میرے ہیرو رہے۔ فقط ایک صحافی ہوتے ہوئے لیکن اسلام آباد میں تعینات سوویت یونین اور اس کے زیر اثر مشرقی یورپ کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں کا خواہش مند رہا۔ان سے ملاقاتیں مگر ناممکن بنادی گئی تھیں۔سفارتی تقریبات کے بارے میں انگریزی کالم لکھنے کے لئے ان ممالک کے ’’قومی دن‘‘ والی دعوت میں شرکت کے بعد کئی دنوں تک ایجنسیوں کے میری ذات کو مشتبہ بناتے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا۔ مجاہدین کے سرپرست صالح صحافی بھی اکثر اپنے مضامین میں مجھے ’’روس نواز دہریوں‘‘ کی فہرست میں شامل کردیتے۔

تازہ خبر مگر اب یہ آئی ہے کہ پوٹن ہمارا بھائی ہے۔ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی فراست اس کے ملک کو ایک ایسے بلاک کی جانب دھکیل رہی ہے جس میں چین اپنے دیرینہ یار پاکستان کے ساتھ مل کر ایران کی شراکت سمیت امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو کم از کم وسطی اور جنوبی ایشیاء میں نتھ ڈالتے ہوئے ناکارہ اور ناکام بنا دے گا۔

’’تازہ خبر‘‘ تاہم میرے وسوسے بھرے دل کو ابھی تک گرما نہیں پائی ہے۔معاشی امور کی بابت قطعی نابلد ہوتے ہوئے بھی میں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ ہماری برآمدات کی سب سے بڑی منڈی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ہیں۔ہمارے لاکھوںتارکین وطن بھی ان ممالک کے شہری اور رہائشی بن چکے ہیں۔ ان کی بھیجی رقوم سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو ٹھوس سہارا میسر رہتا ہے۔ہمارے متوسط طبقات کی بے پناہ اکثریت کے بچے اعلیٰ تعلیم کے لئے ان ہی ممالک کی یونیورسٹیوں سے رجوع کرتے ہیں۔ ہماری ہر نوع کی اشرافیہ نے ان ممالک میں قیمتی جائیدادیں بھی خرید رکھی ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مذکورہ وجوہات کی بنیاد پر آنکھیں دکھانے سے قبل وہ سوبار سوچیں گے۔ عمران خان صاحب کے مداحین مگر اس جانب گرم جوشی سے بڑھتے نظر آرہے ہیں۔

پوٹن کی محبت میں مبتلا ہوئے یہ مداحین یہ حقیقت بھی نظرانداز کئے ہوئے ہیں کہ پاکستان کی طرح ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بھی اقوام متحدہ کی اس قرار داد کی حمایت میں ووٹ دینے سے گریز کیا جس کے ذریعے روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت ہوئی۔ بھارتی وزیر اعظم کی روسی صدر کے ساتھ یوکرین پرحملے کے بعد ٹیلی فون پر تین بار طویل گفتگو بھی ہوچکی ہے۔روس کی مذمت سے چین نے بھی گریز کیا۔اس تناظر میں جس امریکہ مخالف بلاک کو تشکیل دینے کے خواب دکھائے جارہے ہیں بھارت کو اس سے باہر کیوں اور کیسے رکھا جاسکتا ہے۔

بھارت کے رویے پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھی یاد رکھنا ہوگی کہ مودی سرکار نے اگست 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کو آئینی اعتبار سے اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ بنالیا ہے۔وسیع تر تناظر میں مذکورہ قدم ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے خواب کی تعبیر بھی ہے۔پوٹن نے فوجی جارحیت کے ذریعے یوکرین کو اگر ’’اکھنڈ روس‘‘ کا حصہ بنالیا تو ہم بین الاقوامی اداروں میں کشمیر کا مقدمہ کن دلائل کے ساتھ لڑیں گے۔ ان تمام سوالات پر غور کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ شاعر کا ایک شعر ذہن میں گزشتہ دو دنوں سے اٹکا ہوا ہے۔ شعر ہے:’’ ہے منیرؔ حیرت مستقل۔میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر‘‘۔