اہم فیصلے کا امکان

ابھی کچھ دن قبل تک جنرل مشرف مصر تھے کہ قانونی تقاضوں کے مطابق پندرہ نومبر کو اپنی صدارتی میعاد کے اختتام کے بعد دو ماہ کے اندر اندر وہ موجودہ اسمبلیوں سے ہی اپنا دوبارہ انتخاب کروائیں گے۔اس کا مطلب یہ بنتا تھا کہ عام انتخابات صدارتی انتخاب کے بعدنومبر سن دو ہزار سات سے لے کر جنوری سن دو ہزار آٹھ تک کے عرصے میں کسی وقت منعقد ہوں گے۔انہوں نے یہ بھی بہ اصرار کہا تھا کہ ان کی وردی ان کے لئے ان کی چمڑی کی طرح ہے۔یعنی وہ آرمی چیف بنے رہنے کے لئے زمین و آسمان ہلا دینے کو بھی تیار تھے۔تاہم سپریم کورٹ چیف جسٹس والے مقدمے کا فیصلہ ایک دو ہفتے میں کرنے والی ہے۔اگر چیف جسٹس بحال کر دئیے گئے تو اس کے نتائج حکومت پر عدم اعتماد کے اظہار کے مترادف ہوں گے۔
سو جنرل مشرف پارلیمان کی تحلیل اورعام انتخابات کے جلد انعقاد پر سنجیدگی سے غورو فکر کرنے کے لئے مجبورہو چکے ہیں۔آئینی طور پر وہ چونکہ صدارتی انتخاب ستمبر تا نومبر منعقد کرانے کے پابند ہیں سو یہ انتخاب انہیں موجودہ اسمبلیوں کی بجائے اگلی اسمبلیوں سے کرانا پڑے گا۔تاہم سوال یہ ہے کہ اپنے اس مقصد میں وہ کامیاب کیونکر ہو سکیں گے؟
عام انتخابات اگر آزادانہ اور منصفانہ ہوئے تو قاف لیگ کا اقتدار بحال نہیں ہو سکے گا اور اس طرح جنرل مشرف نے جو نظام سوچا ہے وہ درہم برہم ہو جائے گا۔تاہم آج کے پُر ہنگام دور میں کہ جب کہ عدلیہ بھی پر پرزے نکال چکی ہے،”موافق نتائج“ حاصل کرنے کے لئے انتخابات میں دھاندلیاں کرنا آسان نہیں ہو گا۔ایک مزید ابتر پہلو اس کا یہ ہے کہ ایسا کوئی اقدام متحدہ حزبِ اختلاف کی جانب سے انتخابی بائیکاٹ کا محرک بن سکتا ہے اور اگر ایسا ہو ا تو یہ نہ صرف اگلی پارلیمان بلکہ صدارتی انتخابات تک کو بے جواز بنا کر رکھ دے گا۔
سو واحد قابلِ عمل آپشن یہ باقی بچا ہے کہ کسی طرح کوشش کر کے چیف جسٹس کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو زیرِ التواء رکھتے ہوئے عام انتخابات سے قبل پی پی پی کے ساتھ کوئی اتحاد یا مفاہمت کر لی جائے۔اس سے جنرل مشرف کوانتخابات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ اشتراکِ اقتدار کے صلے میں صدارتی عہدے کی ضمانت ملتی ہے۔بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان کوئی ذاتی اختلافات نہیں اور پی پی پی ان کے اصلاحی ایجنڈے کی تائید کرتی ہے۔
ایسے مجوزہ لبرل پلیٹ فارم کے لئے واشنگٹن والوں کی منظوری بھی ایک مددگار عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان کسی ”ڈیل“ کی باتیں بھی اسی وجہ سے ختم ہونے کو نہیں آ رہی ہیں۔مذاکرات کے دوران جو معاملات زیرِ غور آ رہے ہیں وہ بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات کی واپسی یا پھر انہیں سرد خانے میں ڈالنے کا امکان،غیر جانبدار نگران انتظامیہ،انتخابی دھاندلیوں کے خلاف حفاظتی اقدامات اور عام انتخابات کے بعدمرکز اور صوبوں میں اشتراکِ اقتدار کے انتظامات کا سکوپ وغیرہ شامل ہیں۔
جنرل مشرف کی وردی کا معاملہ ابھی بھی پیچیدہ تر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ”آئینی دائرے کے اندر“ حل کیا جائے گا۔آئین کر رُو سے جنرل صاحب سن دو ہزار سات کے اختتام سے قبل آرمی چیف کے عہدے کو چھوڑنے کے پابند ہیں۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس مسئلے کی تحلیل کا واحد ”آئینی“ طریقِ کار یہ ہے کہ وہ پارلیمان کے ذریعے دستور میں ایسی ترمیم کروا لیں جس سے وہ صدارت اور فوجی سربراہی پر بیک وقت متمکن ہونے کے مجاز بنتے ہوں۔ایم ایم اے کے ساتھ سن دو ہزار تین میں انہوں نے جو آئینی ترمیم کا معاہدہ کیا تھا اس کے تحت انہیں صرف سن دو ہزار چار تک دونوں عہدوں پر رہنے کی مہلت ملی تھی۔اس کے بعد آرمی چیف کی ملازمت(چاہے یہ ملازمت سرکارِ پاکستان کی خدمت میں اور منافع بخش نوعیت کی ہو یا نہ ہو) کی نوعیت سے متعلقہ قانون میں سادہ اکثریت کے ذریعے ترمیم کر دی گئی تھی تاکہ جنرل صاحب سن دو ہزار سات تک دونوں عہدوں پر متمکن رہ سکیں۔مطلب یہ کہ اس مسئلے کے حل کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اگلے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے بعد اگلی پارلیمان میں قاف لیگ اور پی پی پی کی طاقت اورسودے بازی کی حیثیت کیا رہتی ہے۔اگر جنرل مشرف کے اتحاد کی حیثیت مضبوط ہوئی تو وہ اپنی وردی کی بقاء کے حوالے سے پارلیمانی کاروائیوں کی حمایت کے صلے میں بے نظیر بھٹوکو محض میٹھی گولیاں دے سکتے ہیں۔تاہم اگر بے نظیر بھٹو کی حیثیت مضبوط ہوئی تو وہ اپنی معاونت کے صلے میں تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کے حصول کے لئے آئینی ترمیم سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گی۔
یہ سارا سلسلہ بڑا ہی مسئلہ خیز ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ جنرل صاحب موجودہ اسمبلیوں سے ہی صدارتی انتخاب کروانے کے بعد پھر آرمی چیف کے عہدے پر مزید برقرار رہنے کے لئے آئینی ترمیم بھی کروا لیں؟موجودہ اسمبلیوں میں ویسے بھی ان کی حامی جماعت کو اکثریت حاصل ہے۔درحقیقت اصل منصوبہ بھی یہی تھا لیکن پھر جنرل صاحب کو محسوس ہو گیا تھا کہ یہ دونوں اقدامات چیلنج کئے جا سکتے ہیں۔اس لئے اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد سے قبل انہوں نے جسٹس افتخار چودھری جیسے ناقابلِ پیش گوئی اور انتظامیہ مخالف چیف جسٹس کو ایک طرف کر دینے کا سوچا۔مگر چیف جسٹس صاحب نے منظر سے غائب ہونے سے نہ صرف یہ کہ انکار کر دیا بلکہ وہ جنرل صاحب کے گلے کا طوق بھی بن گئے ہیں۔آج موجودہ اسمبلیوں کا استحصال نہ صرف یہ کہ پارلیمان سے باہرحکومت مخالف مظاہروں میں شدت کا محرک بن سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ پارلیمان کے اندر حزبِ اختلاف کے اراکین بھی مستعفی ہو کر عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں۔اور پھر ایسے میں اگر چیف جسٹس بھی بحال ہو گئے تو یہ سارے منصوبے بکھر کر رہ جائیں گے۔اسی لئے چیف جسٹس کی بحالی سے قبل ان سارے مسائل سے خود کو نکالنا جنرل مشرف کے لئے ضروری ہے۔انہیں ایسے عام انتخابات کا انعقاد کرانا ہے جو منجدھار کی حزبِ اختلاف کے لئے قابلِ قبول ہو ں لیکن جن کے نتائج ان کے اپنے منصوبوں سے موافقت رکھتے ہوں۔متبادل راستہ ایک یہ بھی ہے کہ اگر وہ کسی طور اس وقت تک انتخابات کو ملتوی کر دیں کہ جب تک حالات ان کے لئے موافق نہ ہو جائیں تو پھر شاید اپنے مقاصدکا حصول ان کے لئے ممکن ہو سکے گا۔راستہ جنرل صاحب جو بھی اختیار کریں لیکن یہ امر تو واضح ہے کہ اپنے مسائل کے حل کے لئے اب وہ مزید قاف لیگ پر تکیہ نہیں کر سکتے ہیں۔اسی لئے بے نظیر کے ساتھ ایک مناسب نوعیت کی ڈیل اورسپریم کورٹ کے ساتھ لازمی مفاہمت اس وقت ان کے لئے ضروری ہو چکی ہے۔یعنی اب ہمیں توقع ہوجانی چاہئے کہ جلد ہی جنرل صاحب کی جانب سے کوئی فیصلہ کن قدم اٹھایا جانے والا ہے!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: