ایدھی فاؤنڈیشن کو کراچی میں ملنے والے لاوارث نوزائیدہ بچے کی بیماری کے باعث موت

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹاور کے علاقے میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر میں جمعے کی دوپہر ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے اطلاع ملی کہ گلشن حدید میں ایک نوزائیدہ بچے کی لاش موجود ہے۔ اس کنٹرول روم سے ایمبولینس کو پیغام دیا گیا اور سٹیل ٹاؤن پر موجود ایمبولینس ڈرائیور روانہ ہو گیا۔

ایدھی ایمبولیس کے ڈرائیور ذاکر بتاتے ہیں کہ قومی شاہراہ کے قریب واقع عائشہ ہسپتال کے نزدیک باگڑی کمیونٹی کی جگھیوں کے قریب جب وہ پہنچے تو بچہ ایک چارپائی پر موجود تھا اور اس کو کپڑوں میں لپیٹا ہوا تھا اور اس کی سانسیں چل رہی تھی۔

ایک خاتون نے بتایا کہ کچرے کے قریب وہ حاجت کے لیے گئیں تو وہاں انھیں بچے کے رونے کی آواز آئی اور جب قریب جا کر دیکھا تو ایک بچہ موجود تھا جس پر انھوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کو اطلاع دی۔

ذاکر گزشتہ نو برس سے ایمبولینس چلا رہے ہیں اور ایدھی سے قبل وہ چھیپا ایمبولینس کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوزائیدہ بچے تو ملتے ہیں لیکن اس حالت میں انھوں نے کبھی کوئی بچہ نہیں دیکھا۔

’ایسا بچہ پہلی بار اٹھایا، جس کے ہاتھ مڑے ہوئے تھے، آنکھیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ اس پر گوشت تھا جبکہ جسم ایسا لگتا تھا جیسے جلا ہوا ہو یا کوئی بیماری تھی۔‘

ذاکر اس بچے کو نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ لے آئے جہاں اس کو داخل کر دیا گیا البتہ اس بچے کی اتوار کو وفات ہوگئی۔

ایدٹی فاؤنڈیشن، وین

کزن میریج کا نتیجہ

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر کا کہنا ہے کہ بچے کی جلد کو جلایا نہیں گیا تھا بلکہ وہ Autosomal Recessive Disorders کا شکار تھا، جس کی وجہ سے اس کی جلد اس حالت میں تھی اور وہ انفیکشن کا شکار ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر اعجاز احمد جنجھی ایک نجی ہسپتال میں چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ 20 سال کی پریکٹس میں انھوں نے ایسے چار سے پانچ کیسز دیکھے ہیں۔

’ان بچوں کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ ان بچوں کی جلد نارمل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے انھیں انفیکشن آسانی سے ہوجاتا ہے اور یہ کئی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ تھیلسمیا کی طرح اس بیماری کی ایک بڑی وجہ بھی کزن میرج ہے کیونکہ خاندان میں ایک ہی خون موجود رہتا ہے جو ایک ہی قسم کے جینز کو جنم دیتا ہے۔

بچوں کو کچرے میں نہ پھینکیں

پاکستان میں ایدھی فاؤنڈیشن پہلا ادارہ ہے جس نے ملک بھر میں جھولے لگائے اور یہ پیغام عام کیا کہ بچوں کو پھینکنے کے بجائے ان جھولوں میں چھوڑ جائیں۔

کراچی سمیت کئی شہروں میں بیمار، معذور بچوں کو پھینکا جاتا ہے۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے لیکر اکتوبر تک دس ماہ میں 178 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔

بلقیس ایدھی کا کہنا ہے کہ ’ایسے معصوم بچوں کا بے دردی سے قتل نہ کریں، اگر پال اور سنبھال نہیں سکتے تو ہمارے جھولے میں ڈال دیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: