ایران کا سعودی عرب کے 'لہجے میں تبدیلی' کا خیر مقدم

دبئی: ایران نے سعودی عرب کی جانب سے 'لہجے میں تبدیلی' کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اسے امید ہے کہ دونوں ممالک امن کے حصول کے لیے اکٹھے کام کرسکتے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ان کا ملک تہران کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان دیا۔

ایرانی میڈیا میں ترجمان وزارت خارجہ سعید خطیب زادے کے حوالے سے کہا گیا کہ ' تعمیری نظریات اور مکالمے پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ ایران اور سعودی عرب اختلافات پر قابو پا کر امن، استحکام اور علاقائی ترقی کے حصول کے لیے باہمی روابط اور تعاون کے ایک نئے باب میں داخل ہوسکتے ہیں'۔

اس ضمن میں ایک سفارتکار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اور یمن جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے ایسے میں محمد بن سلمان نے یہ ظاہر کیا کہ وہ خطے کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم شراکت دار ہیں۔

علاقائی ذرائع کا کہنا تھا ایران اور سعودی عہدیداران نے کشیدگی میں کمی کے لیے رواں ماہ عراق میں براہِ راست مذاکرات کیے۔

بات چیت کا مرکز یمن اور تہران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی تھا۔

چند روز قبل نشر ہونے والے ایک بیان میں شہزادہ محمد بن سلمان نے تہران کے جوہری پروگرام، میزائلز اور خطے میں متحارب فریقین کو فراہم کیے جانے والے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاض کو ایران کے 'منفی رویے' سے اب بھی مسئلہ ہے۔

تاہم انہوں نے ہی بھی کہا تھا کہ 'ہم اپنے علاقائی اور عالمی اتحادیوں کے ساتھ کام کررہے ہیں تا کہ ان مسائل کا حل نکل سکے اور ہمیں امید ہے کہ سب کے لیے مفید اچھے تعلقات کے لیے ہم ان پر قابو پالیں۔

دوسری جانب ایک علاقائی دورہ مکمل کرنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'افق پر مثبت علامات کے اشارے ہیں'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *