ایس او پیز پر عملدر آمد کی سب سے کم شرح سندھ، بلوچستان میں ریکارڈ کی گئی، اسد عمر

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں تاحال کورونا وبا سے متعلق غیر سنجیدہ رویہ پایا جاتا ہے، ایس او پیز پر عملدر آمد کی سب سے کم شرح سندھ، بلوچستان میں ریکارڈ کی گئی۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اسد عمر نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دنیا میں وبا سے رونما ہونے والے مسائل اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والے حالات کے تناظر میں ڈیٹا پر مبنی نظام تشکیل دیا اور اب ہمیں دوبارہ اس نظام کو رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پورے شہر ہفتوں کے لیے بند کریں یہ مسئلے کا علاج نہیں ہے اور علاج یہ ہے کہ متاثرہ علاقے یا محلے کا اسمارٹ لاک ڈاؤن اور ایس او پیز پر عمل کرکے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

اسد عمر نے اعداد و شمار کا حوالے دے کر بتایا کہ ایس او پیز پر عملدر آمد کی سب سے زیادہ شرح اسلام آباد میں 56.4 فیصد جس کے بعد بتدریج خیبرپختونخوا میں 46.6 فیصد، آزاد جموں و کشمیر 42.7 فیصد، گلگت بلتستان میں 37.4 فیصد، پنجاب میں 38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

چیئرمین این سی او سی نے بتایا کہ ایس او پیز پر عملدر آمد کی سب سے کم شرح سندھ اور بلوچستان میں ریکارڈ کی گئی جو محض 33 فیصد تھی۔

انہوں نے کہا کہ خصوصاً کراچی میں ہدایات سے متعلق عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت سندھ کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس سلسلے فوج یا رینجرز کی معاونت بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

اسد عمر نے ویکسین سے متعلق کہا کہ جو لوگ اب بھی ویکسین کی اہمیت نہیں سمجھ رہے اور ان کی وجہ سے دوسروں کی زندگی کو خطرہ ہے تو ایسے حالات میں مخصوص نوعیت کی بندش کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم از کم ایک ویکسین لگوانے والے ہی یکم اگست سے فضائی سفر کرسکیں گے اور اسی طرح سے وہ اساتذہ جنہوں نے اب تک ویکسین نہیں کرائی وہ اسکول، کالج یا کسی بھی تدریسی مرکز میں جا کر نہیں پڑھا سکیں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہورہا ہے جبکہ کراچی میں ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں وبا تیزی سے پھیل رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں انتہائی نگہداشت یونٹ میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ جب ہم بہتر صورتحال تھے تب جون میں ایسے مریضوں کی تعداد 2 ہزار سے نیچے تھی جو اب ایک واضع اضافہ ہے جس کی بنیادی بڑی وجہ ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کورونا کے کیسز میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے اور شہر میں قائم کورونا کے انتہائی متاثرہ افراد کے لیے مختص کُل بیڈز میں سے 50 فیصد زیر استعمال ہیں۔

ڈاکٹر فیصل نے واضح کیا کہ بڑے شہروں میں کورونا کے کیسز کے بڑھنے سے اس کا دباؤ ہسپتالوں پر پڑ رہا ہے، کراچی میں نجی ہسپتال پر دباؤ زیادہ ہے اور اگر صورتحال ایسے ہی برقرار رہی تھی نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.