ایشیا کپ میں شکست کے بعد ثقلین مشتاق ٹیم کے کھیلنے کے انداز کے دفاع میں آگئے

ایشیا کپ 2022 کے فائنل میں شکست کے بعد قومی ٹیم کے کوچ ثقلین مشتاق نے ٹیم کے ٹی20 میں کھیلنے کے انداز کا دفاع کرتے ہوئے کپتان بابر اعظم کے کھیل پر اٹھائے جانے والے تحفظات مسترد کر دیا اور کہا کہ اوپنر محمد رضوان کی بیٹنگ میں بھی کوئی غلط رجحان نہیں پایا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کے کوچ ثقلین مشتاق مختصر ترین فارمیٹ میں رضوان کے 117.57 رنز فی سو گیندوں کی سست بیٹنگ شرح سے فکرمند نہیں جبکہ ان کے مقابلے میں بھارتی بلے باز ویرات کوہلی نے اپنی پانچ اننگز میں 147.59 کی تیز رفتاری سے بھارت کے لیے 276 رنز بنائے تھے۔

قومی ٹیم سری لنکا کو شکست دینے کے لیے 171 رنز کا تعاقب کرنے میں ناکام رہی جبکہ ان کی 23 رنز کی شکست نے دبئی میں دوسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیموں کی جیت کے رجحان کو متاثر کیا۔

محمد رضوان نے 49 گیندوں میں 55 رنز بنائے اور ٹورنامنٹ کی 6 اننگز میں 281 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز بنائے۔

ثقلین مشتاق نے کہا کہ ’ہر کسی کے کرکٹ کھیلنے کا انداز اپنا ہوتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال ٹی20 ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلا تھا اور اس سال ایشیا کپ کا فائنل کھیلا، لہٰذا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کچھ درست کر رہے ہیں۔

ثقلین مشتاق نے کہا کہ ہم نے یہ سب اپنے کھیل کے انداز سے کیا اور جو چیزیں رہ گئی ہیں ان پر کام کیا جائے گا، بجائے اس کے کہ دیگر قومی ٹیموں کے کھیلنے کے انداز کو اپنائیں۔

ٹورنامنٹ سے پہلے ٹیم کے لیے ایک شان دار اسکورر کے طور پر تسلیم کیے جانے والے بابر اعظم نے 6 میچوں میں 68 رنز بنائے، جس میں ایک میچ سے سب سے زیادہ 30 رنز بنائے لیکن ثقلین مشتاق نے اوپنر کے فارم میں کمی کا اظہار کیا۔

قومی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والا ہی سمجھ سکتا ہے کہ جس طریقے سے وہ آؤٹ ہوئے ہیں وہ ان کی بدقسمتی تھی۔

انہوں نے بابر اعظم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طریقے سے انہوں نے کھیلا ان کے کام کے طرز پر مزید بحث نہیں، وہ ایک ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں اور اللہ انہیں بری نظروں سے محفوظ رکھے۔

ثقلین مشتاق نے کہا کہ یہ صرف ایک پیچ ہے، اگر آپ رینکنگ پر نظر ڈالیں تو وہ ٹی20 انٹرنیشنل اور ون ڈے میں سب سے اوپر ہیں، یہ صرف بد قسمتی سے ہوا ہے کہ وہ اس طرح آؤٹ ہوئے کیونکہ جس طرح سے وہ ٹریننگ کر رہا ہے اور کھیل رہا ہے وہ حیرت انگیز ہے، ان کے کام کا طرز سب سے الگ ہے۔

ٹی20 کے 80 بین الاقوامی میچوں میں 42 سے زائد کی اوسط سے 2 ہار 754 رنز بنانے والے 27 سالہ بابر اعظم حال ہی میں ساتھی اوپنر محمد رضوان سے آئی سی سی کی ٹی20 درجہ بندی میں اپنی پہلی پوزیشن سے محروم ہو چکے ہیں۔

ٹورنامنٹ میں بابر اعظم کا آخری آؤٹ لیگ سائیڈ پر ہوا جو شارٹ فائن لیگ میں اچھے کیچ سے ہوا اور فاسٹ باؤلر پرمود مدوشن کا شکار بنے، جنہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔

ثقلین مشتاق نے بابر اعظم یا محمد رضوان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی فخر زمان کے بائیں اور دائیں اوپننگ کمبی نیشن کی تجاویز مسترد کیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ پوزیشن بدلتے رہتے ہیں تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو ان پر بھروسہ ہے، آپ کو انہیں وقت دینا ہوگا اور بہت زیادہ بدلتے رہنا اچھا نہیں ہے جس سے غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔

ثقلین مشتاق نے فائنل میں بہترین کارکردگی دکھانے پر چمپیئن سری لنکا کی بھی تعریف کی جنہوں نے اس سے قبل سپر فور مرحلے میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کو شکست دی تھی۔

قومی ٹیم کے کوچ نے مزید کہا کہ سری لنکا نے دوسری بیٹنگ بھی کی اور پھر ہمارے خلاف پہلے بیٹنگ کی اور چمپیئن بن گئے اس لیے وہ جیت کے اچھی طرح سے مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے 9 اوورز میں اچھی کرکٹ کھیلی اور اس کے بعد انہوں نے تقریباً 31 اوورز کھیلے اور ہم پر تمام پہلوؤں میں غلبہ حاصل کیا جس میں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ شامل ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.