ایف آئی اے نے شہباز شریف کو عدالتی احکامات کے باوجود بیرون ملک سفر سے روک دیا، مریم اورنگزیب

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مبینہ طور پر ہفتے کی صبح لاہور ایئرپورٹ سے براستہ قطر برطانیہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر ان کا نام 'ایک اور فہرست میں' رکھتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو علاج کے لیے ایک بار بیرون ملک سفر کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔

ہفتے کی علی الصبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ جب لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی اس وقت ایف آئی اے کے دو اہلکار عدالت میں موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتی حکم میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کے قطر جانے والی فلائٹ نمبر کا بھی ذکر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'جب شہباز شریف آج ائیرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے کے عہدیداروں نے انہیں روکا اور کہا کہ وہ سفر نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا نام ایک 'پرسن ناٹ اِن لسٹ' (پی این آئی ایل) فہرست میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا سسٹم عدالتی حکم کے بعد بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوا۔

مریم اورنگزیب نے اسے 'بدنیتی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات شہریوں کو بجلی، پانی، چینی اور گندم کی فراہمی کے بجائے 'شہباز شریف' اور سیاسی مخالفین پر مرکوز ہیں۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر یہ بیان جاری کر رہے ہیں کہ وہ اس حکم کو 'قبول نہیں کرتے' ہیں اور وہ 'شہباز شریف کو روکنے کے لیے مکمل کوششیں' کریں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے ایف آئی اے کے نوٹس کو 'جھوٹ' اور لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ توہین عدالت کے مترادف ہے اور ہم اس پر قانونی تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے سے حکومت کیا حاصل کرسکتی ہے ، حکومت کو جواب دینا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انہیں معلوم ہے کہ عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے چاہے وہ ڈسکہ، وزیر آباد یا کراچی ہو، اسی وجہ سے انہوں نے اس طرح کی گری ہوئی حرکتوں کا سہارا لیا ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'انہیں ڈر ہے کہ مسلم لیگ (ن) متحد ہے ، پاکستانی عوام مسلم لیگ (ن)، نواز شریف اور شہباز شریف کی خدمات کو ووٹ دے رہے ہیں'۔

انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز شریف کو وزیر اعظم اور شہزاد اکبر کے 'حکم' پر روکا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطااللہ تارڑ نے دعوی کیا کہ یہاں 'دو پاکستان' ہیں، ایک وہ جہاں وزیراعظم 'اپنے معاون خصوصی ذوالفقار بخاری کا نام ای سی ایل سے ڈیڑھ گھنٹوں میں نکلوا سکتے ہیں' اور دوسرا جس میں سسٹم عدالتی حکم کے باوجود اپ ڈیٹ نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تا کہ 'شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا جس کے بعد نیب نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا لیکن اسے مسترد کردیا گیا، اس کے بعد نیب-نیازی گٹھ جوڑ نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کی کوشش کی'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہاں ایک فہرست ہے 'پرسن ناٹ اِن لسٹ' جو غیر قانونی ہے اور یہ ایک ناقص حکمت عملی ہے جس کے ذریعے کسی شخص کو عارضی طور پر بیرون ملک جانے سے روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے شہباز شریف کے نام کو پی این آئی ایل میں شامل کرنے کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ جب ہائی کورٹ بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے رہی ہے تب شہباز شریف کو اس طرح روکنے کے لیے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کے پاس 'کوئی قانونی جواز' نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ 'عدالتی احکامات پر عمل کرنا حکومت کا کام ہے، ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں موجود تھا، آپ کب تک روک سکتے ہیں؟ ہمارے پاس احکامات موجود ہیں اور ہم ان پر عمل درآمد کروائیں گے'۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے صدر نے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے سے قبل امیگریشن سے کلیئرنس لی تھی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ پارٹی 'جلد از جلد تمام قانونی آپشنز استعمال کرے گی'۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس وزارت داخلہ کا ایک خط تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا ہے۔

عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ماضی میں شہباز شریف جب علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور پھر واپس پاکستان آئے تھے تو ان کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے حکومت کے پاس مسلم لیگ (ن) کے صدر کو روکنے کے لیے 'کوئی اخلاقی یا قانونی بنیاد' نہیں ہے۔

خیال رہے کہ شہباز شریف نے دو روز ایک قبل لاہور ہائی کورٹ سے اپنا نام ٹریول بلیک لسٹ کی فہرست سے نکلوانے کے لیے رجوع کیا تھا اور ایک بار علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی تھی۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں کہا کہ 'ماضی کے رویے اور سفری معلومات کے پیش نظر درخواست گزار کا نام اس وقت ایگزٹ کنٹرل لسٹ (ای سی ایل) پر نہیں ہے'۔

فیصلے میں کہا گیا کہ 'درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ میں ہے اور موجود ہو تو بھی درخواست گزار کو ایک مرتبہ 8 مئی 2021 سے 3 جولائی 2021 تک اپنے طبی معائنے کے لیے عدالت کے سامنے کیے گئے وعدے کے تحت برطانیہ جانے سے نہیں روکا جاسکتا'۔

لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ' شہباز شریف نے نواز شریف کے باہر جانے کے لیے یہ گارنٹی عدالت میں جمع کروائی تھی'۔

انہوں نے کہا کہ 'اب بجائے اس کے کہ شہباز شریف کو جعلی گارنٹی دینے پر نوٹس کیا جاتا اور نواز شریف کو واپس بلایا جاتا، خود شہباز شریف کو باہر بھیجا جا رہا ہے'۔