ایف اے ٹی ایف ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ریئل اسٹیٹ ڈیلرز سے جائیداد سے متعلق لین دین کی تفصیلات طلب

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے تمام ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والے ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو رجسٹرڈ کر کے ان کو صارفین کی واجب الادا رقم کی ادائیگی کے بعد ان کے کلائنٹس اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 رپورٹ کے مطابق 20،000 سے زائد ریئل اسٹیٹ بروکرز، جو ٹیکس فائلر ہیں اور اب انہیں غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ (ڈی این ایف بی پی) قرار دے دیا گیا ہے، کو بھی چار صفحات پر مشتمل ایک سوالنامہ دیا گیا ہے جس میں 86 سوالات ہیں جن کو 7 دن کے اندر اندر آن لائن جمع کروانا ہے۔

پراپرٹی ڈیلرز کو بھیجے گئے نوٹسز میں کہا گیا کہ 'تعمیل یا جزوی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کیا جائے گا'۔

یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم کا تعمیراتی پیکیج اور متعلقہ ایمنسٹی اسکیم 30 جون تک برقرار ہے جس کے تحت حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے آمدنی کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے۔

ایس آر او 924 کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایف اے ٹی ایف کی انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے انسداد مالی اعانت (اے ایم ایل / سی ایف ٹی) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف پیشہ ور اداروں کو بطور ڈی این ایف بی پی نامزد کیا ہے۔

بروکرز کو اب کلائنٹس سے تعلقات اور سروسز کی تفصیلات فراہم کرنے اور ہائی رسک کلائنٹس، مقامی اور غیر ملکی سیاسی شخصیات اور مالدار افراد کے ٹرانزیکشنز کی اطلاع دینے کی ضرورت ہے۔

انہیں یہ بھی اطلاع دینی ہوگی کہ اگر ان کے کلائنٹس سے ان کی بالمشافہ گفتگو ہوئی یا دیگر ذرائع سے بات چیت ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بروکرز کو کلائنٹس کی شناخت کرنے اور 'ہائی رسک والے ممالک یا علاقوں یا خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے سرحدی علاقوں' سے متعلق لین دین کی اطلاع دینے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

ریئل اسٹیٹ انڈسٹری سے متعلق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی علاقائی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر احسن ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بروکرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس کی تعمیل میں مشکلات ہے، محدود تعلیم کی وجہ سے ان میں سے اکثریت سوالوں کو نہیں سمجھ سکتی اس کا جواب دینا تو دور کی بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دوسری بات یہ ہے کہ ہم پراپرٹی ڈیلر ہیں نہ کہ جاسوس یا تکنیکی صلاحیت کے تفتیش کار اور جب ایک بار وہ کلائنٹس سے ایسے سوالات کریں گے تو ان کے کلائنٹس وہاں سے چلے جائیں گے کیونکہ ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد ریل اسٹیٹ ڈیلر موجود ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ ان ڈیلرز کے ساتھ ناانصافی ہے جو فائلر ہیں'۔