ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو 34 ایکشن پوائنٹس میں سے صرف 2 اہداف میں ناکامی کے سبب ’گرے لسٹ‘ میں برقرار رکھتے ہوئے ملک کے مالیاتی نظام میں باقی ماندہ خامیوں کو جلد از جلد دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پیرس میں قائم عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے ادارے نے اپنے ہائبرڈ پلانری سیشن کے اختتامی اجلاس میں مالیاتی جرائم سے لڑنے کے لیے پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں پر مضبوط پیش رفت کو سراہا۔

ایف اے ٹی ایف نے متحدہ عرب امارات کو بھی گرے لسٹ میں شامل کرلیا ہے، جوکہ دہشت گردی کی مالی معاونت پر ناکافی کنٹرول رکھنے والے ممالک کی فہرست ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ٹی راجا کمار کو مقررہ 2 سال کی مدت کے لیے اپنا اگلا صدر مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

پاکستان کو 2018 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا جس کے سبب غیر ملکی فرمز پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مزید محتاط ہوگئی تھیں۔

میٹنگ میں یہ نوٹ کیا گیا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 2018 کے ایکشن پلان میں شامل 27 میں سے 26 ایکشن آئٹمز اور منی لانڈرنگ پر ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کے 2021 کے ایکشن پلان کے 7 ایکشن آئٹمز مقررہ تاریخ سے پہلے مکمل کر لیے ہیں۔

جون 2018 میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف اور اے پی جی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ایک اعلیٰ سطح کا سیاسی عہد کیا تھا تاکہ ملک کے انسداد منی لانڈرنگ/دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام (سی ایف ٹی) کے نظام کو مضبوط کیا جا سکے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق خامیوں کو دور کیا جاسکے۔

میٹنگ میں نوٹ کیا گیا کہ جون 2018 سے پاکستان میں سیاسی سطح پر اس عہد کی مسلسل پاسداری سے ایک جامع سی ایف ٹی ایکشن پلان میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بقیہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے جلد از جلد پیشرفت جاری رکھتےہوئے یہ ظاہر کرے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور مقدمات میں اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

جون 2021 میں پاکستان کی ’اے جی پی 2019 باہمی تشخیصی رپورٹ‘ میں بعد میں واضح کی گئی اضافی خامیوں کے جواب میں پاکستان نے ایک نئے ایکشن پلان کے تحت ان اسٹریٹجک خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید اعلیٰ سطحی عزم ظاہرکیا جو بنیادی طور پر منی لانڈرنگ سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ جون 2021 کے بعد سے پاکستان نے اپنے اے ایم ایل/سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے کی جانب تیزی سے اقدامات کیے ہیں اور کسی بھی متعلقہ ڈیڈ لائن کی میعاد ختم ہونے سے پہلے 7 میں سے 6 ایکشن آئٹمز کو مکمل کر لیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان کو اپنے 2021 کے ایکشن پلان میں باقی ماندہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے (منی لانڈرنگ) کی تحقیقات اور استغاثہ کی پیروی کے مثبت اور پائیدار رجحان کا مظاہرہ کرتے ہوئے کام جاری رکھنا چاہیے۔

عہدیداران نے کہا کہ اب پاکستان کا ہدف جنوری 2023 کے آخر تک انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف 2021 کے ایکشن پلان کی مکمل تعمیل کرنا ہے۔

پاکستان کے پاس کُل 34 ایکشن پوائنٹس سمیت 2 ہم آہنگ ایکشن پلان تھے، جن میں سے 30 یا تو مکمل طور پر یا بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے تھے۔

اے پی جی کی جانب سے منی لانڈرنگ پر 2021 کا تازہ ترین ایکشن پلان بڑی حد تک منی لانڈرنگ پر مرکوز تھا۔ مارچ کے اختتام تک انسداد منی لانڈرنگ/ دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی مؤثریت کے لیے اے پی جی کا ایکشن پلان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بھی اسٹرکچرل بینچ مارک ہے۔

حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ 2018 کے اے ایم ایل/ سی ایف ٹی ایکشن پلان میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد کردہ دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیوں کی مؤثریت سے متعلق بقیہ آئٹم کو مکمل کرے اور2021 کے اے ایم ایل/سی ایف ٹی ایکشن پلان کے تحت منی لانڈرنگ کی باہمی تشخیص کی رپورٹ پر پاکستان کے ایشیا پیسفک گروپ میں نشاندہی کی گئی خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔