ایف اے ٹی ایف: 2018 کے ایکشن پلان کی 27 میں سے 26 شرائط پوری کرنے کے باوجود پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

فنانشل ایکش ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پلانیری اجلاس میں پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسے مزید مانیٹرنگ کا حصہ رکھا جائے گا۔

ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیا نے کہا کہ ’پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ایف اے ٹی ایف نے جہاں پاکستان کو ملک میں قانونی نظام بہتر کرنے پر سراہا وہیں انھوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ’2019 میں ادارے نے کافی سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔‘

اس وجہ سے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ابھی گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا پلانیری اجلاس 20 جون سے جاری تھا جس کا آج جمعے کے روز اختتام ہوا۔ پاکستان سے متعلق فیصلے پر جہاں پاکستان میں بحث جاری تھی وہیں انڈیا بھی اس فیصلے کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اس فیصلے میں پاکستان کو جن تین سفارشات کی تکمیل کا کہا گیا تھا ان میں سے دو کی تکمیل ہوچکی ہے۔ جبکہ باقی رہ جانے والی ایک سفارش پر پاکستان کام کررہا ہے۔

2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات لینے میں ناکام رہے ہوں۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا گیا تھا۔ جس کے بعد فروری 2021 کے اجلاس میں ادارے نے تین سفارشات پر کام کرنے کو کہا تھا

جبکہ ایک روز پہلے شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک 27 سفارشات میں سے 26 مکمل کر لی ہیں اور ستائیسویں پر ’بھرپور‘ کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ’نامناسب ہو گا۔‘

ایف اے ٹی ایف کے ایک پرانے اجلاس کی فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنایف اے ٹی ایف کے ایک پرانے اجلاس کی فائل فوٹو

لیکن وفاقی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت ایف اے ٹی ایف کی تین سفارشات رہتی ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تینوں سفارشات میں ’دہشت گردوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، سزا اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔‘

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کی طرف سے ان سفارشات پر پیشرفت کے بارے میں جوابات جمع ہوتے رہے ہیں۔ اور اب جو اعتراضات آئیں گے ان پر کام کیا جائے گا۔‘

پاکستان کے سٹیٹ بینک کے شعبے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی ڈائریکٹر جنرل لبنیٰ فاروق نے بتایا کہ ’اس وقت رہ جانے والی تینوں سفارشات پر ہم نے بھرپور کام کیا ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعتراضات آتے رہیں گے ہم ان کا جواب دیتے رہے ہیں اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔‘

حالانکہ منی لانڈرنگ کا جائزہ لینے والے ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) نے پاکستان کو اپنی دوسری فالو اپ رپورٹ میں مزید نگرانی کی تجویز دی تھی لیکن اس کے باوجود ادارے نے پاکستان کی طرف سے سفارشات کی تکمیل کو بھی سراہا تھا۔

ایف اے ٹی ایف

رپورٹ کے مطابق ادارے نے فروری میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو تین اہم ترین سفارشات کی تکمیل کرنے پر زور دیا تھا، جن میں دہشت گردوں کو سزا، ان معاملات کی قانونی چارہ جوئی اور مالی معاونت پر پابندیاں شامل ہیں۔

پاکستان گرے لسٹ میں کیسے آیا؟

منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان کے نفاذ کو انٹرنیشنل کارپوریشن ریویو گروپ نامی ایک ذیلی تنظیم دیکھتی ہے۔

نومبر 2017 میں انٹرنیشنل کارپوریشن ریوویو گروپ کا اجلاس ارجنٹینا میں ہوا جس میں پاکستان سے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے لشکر طیبہ، جیش محمد اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو دی جانے والی مبینہ حمایت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کے بعد فرانس اور جرمنی نے بھی اس کی حمایت کی۔

اسی دوران لاہور میں حافظ سعید کے گھر کے قریب دھماکہ ہوا
،تصویر کا کیپشناسی دوران لاہور میں حافظ سعید کے گھر کے قریب دھماکہ ہوا

پاکستان کے اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے امریکہ اور دیگر تین مملک سے پاکستان کا نام واپس لینے کی درخواست کی لیکن سب سفارتی کوششیں رائیگاں گئیں اور جون 2018 میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے۔

اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔

پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنا کیوں ضروری ہے؟

پاکستان سنہ 2000 کی دہائی سے دہشت گردوں کی معاشی معاونت اور پُشت پناہی کے الزامات کا عالمی سطح پر سامنا کرتا آ رہا ہے۔

اس بارے میں جہاں انڈیا کی تمام تر توجہ کا مرکز آنے والے دنوں میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ ہے، وہیں امریکہ بھی اس تمام تر صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے۔

اس بارے میں حال ہی میں ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان بہت جلد اس فہرست سے نکل جائے گا لیکن اس بارے میں انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کتنا جلدی ممکن ہو سکے گا۔

اس سے پہلے بھی پاکستان سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: