ایف بی آر کی یقین دہانی کے بعد چھوٹے تاجروں نے ہڑتال کی کال واپس لے لی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے اس بات کی ضمانت دینے پر کہ چھوٹے تاجروں کو نئے صدارتی آرڈیننس سے متعارف کروائے گئے قانون کے اطلاق میں بجلی، گیس اور موبائل فون سروس سے محروم نہیں کیا جائے گا، تاجروں نے 27 ستمبر کو اعلان کردہ ہڑتال ملتوی کردی۔

 رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا اعلان چھوٹے تاجروں کی تنظیموں کے رہنماؤں اور ایف بی آر کے رکن آپریشنز قیصر اقبال نے کیا۔

باضابطہ بیان میں کہا گیا کہ ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس پر چھوٹے تاجروں کی تمام الجھنوں اور غلط فہمیوں کو دور کردیا گیا ہے۔

حکومت نے 17 ستمبر کو ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا تھا جس میں ایف بی آر کو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے ڈیٹا میچنگ کے ذریعے موبائل فون سمز غیر فعال کرنے، بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے کے وسیع اختیارات دیے گئے تھے۔

مرکزی تنظیم تاجران، پاکستان کے صدر کاشف چوہدری کی سربراہی میں چھوٹے تاجروں کا ایک وفد گزشتہ چند روز سے اور ایف بی آر کے رکن کے ساتھ بات چیت میں مصروف عمل تھا۔

قیصر اقبال نے کہا کہ ٹیکس قوانین (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021 سے متعلق چھوٹے تاجروں کی الجھنوں اور غلط فہمیوں کو دور کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اہم مقصد اپنے گھروں سے کام کرنے والے پیشہ ور افراد اور غیر رجسٹرڈ تاجروں کو رجسٹرڈ کرنا تھا پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) کا اطلاق چھوٹے تاجروں سے متعلق نہیں تھا جنہیں یہ انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 114 بی کی وضاحت کرتے ہوئے رکن ایف بی آر نے کہا کہ کچھ مفاد پرست عناصر کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جارہا تھا کہ ان کے گیس اور بجلی کے کنیکشنز معطل اور موبائل فون سروسز بند ہوجائیں گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’صرف وہ افراد جو ٹیکس دہندگان کی فعال فہرست کا حصہ نہیں بن رہے وہ اس صورتحال کا سامنا کریں گے‘۔

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 235 کی شق کی وضاحت کرتے ہوئے رکن آئی آر آپریشنز نے کہا کہ ٹیکس قانون (تیسری ترمیم) میں بجلی کے بل پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں متعارف کروائی گئی تبدیلی چھوٹے تاجروں اور انکم ٹیکس فائلر کو متاثر نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا یہ دفعہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے پیشہ ور افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعارف کروائی گئی ہے، یہ بجلی کے کمرشل صارفین پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تاجروں کے تحفظات کو سنیں اور ان کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کریں۔

ایک دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ممکنہ ٹیکس چوروں کا سراغ لگا کر ٹیکس بیس کو بڑھانے کے لیے متعارف کرائے گئے نئے اقدامات کے خلاف تاجروں کی وسیع تر حمایت حاصل کرنے کے لیے کچھ پیشہ ور افراد غلط معلومات پھیلارہے ہیں۔

تاجر رہنما کاشف چوہدری نے کہا کہ وہ ایف بی آر ممبر کی یقین دہانی اور وضاحت سے مطمئن ہیں۔

تمام تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ وہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے اور ٹیکس کی تعمیل سے متعلق اہم مسائل پر ایف بی آر کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ قومی معیشت مضبوط ہو اور ملک معاشی طور پر خود انحصار ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *