ایلزبتھ ہومز: دنیا کی سب سے ’کم عمر ارب پتی خاتون‘ پر فراڈ کا جرم ثابت

کیلیفورنیا میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے مقدمے میں تھیرانوس کی بانی ایلزبتھ ہومز پر سرمایہ کاروں کے ساتھ فراڈ کرنے کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ہومز نے جان بوجھ کر اس ٹیکنالوجی کے بارے میں جھوٹ بولا جس کے ذریعے ان کے مطابق صرف خون کے چند قطروں کے ساتھ ایڈیسن ٹیسٹ کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا فوری پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

جیوری نے ہومز کو سرمایہ کاروں کے خلاف فراڈ کی سازش اور وائر فراڈ کے تین الزامات کا مجرم پایا۔

انھوں نے ان الزامات کی تردید کی جن میں ہر ایک میں ان کو 20 سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ہومز کو حراست میں نہیں لیا گیا، کیونکہ سزا سنانے کے لیے ابھی تک کسی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی اور مزید سماعت اگلے ہفتے ہو گی۔

کمرہ عدالت کے اندر موجود صحافیوں نے بتایا کہ 37 سالہ ہومز جنھوں نے گزشتہ سال اپنے پہلے بچے کو جنم دیا تھا، فیصلہ سن کر جذباتی نہیں دکھائی دیں اور کمرہ عدالت سے نکلنے سے پہلے اپنے شوہر بلی ایونز اور اپنے والدین کو گلے ملیں۔

ہومز کو مجموعی طور پر 11 الزامات کا سامنا تھا اور وہ عوام کو دھوکہ دینے سے متعلق چار الزامات میں قصوروار نہیں پائی گئیں۔

منقسم فیصلہ اس وقت آیا جب جج نے کہا کہ سات دن تک غور و خوض کے بعد جیوری مزید تین معاملات پر اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکام ہونے کے بعد اپنا جزوی فیصلہ دے سکتی ہے۔

وائر فراڈ کے جن تین الزامات میں وہ قصور وار پائی گئی تھی وہ ان کی ناکام کمپنی میں مخصوص سرمایہ کاروں سے منسلک ہیں۔ وائر فراڈ امریکہ میں نسبتاً وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا وفاقی جرم ہے، جس میں الیکٹرانک کمیونیکیشنز شامل ہوتی ہیں، جیسا کہ ای میلز وغیرہ، اور یہ کسی دوسرے شخص سے رقوم وغیرہ حاصل کرنے کے لیے غلط بیانات دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

نو ارب ڈالر کی قیمت والی کمپنی تھیرانوس کبھی سیلیکون ویلی کی چہیتی بائیوٹیک کمپنی تھی۔

ہومز مختلف ارب پتیوں سے 900 ملین ڈالر سرمایہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھیں جس میں صرف روپرٹ مرڈوک کی 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری تھی۔

On stage with former US President Bill Clinton in 2015
،تصویر کا کیپشنسنہ 2015 میں ہومز سابق صدر بل کلنٹن کے ساتھ ایک سٹیچ پر۔ اس وقت ہومز کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے کم عمر ارب پتی خاتون ہیں

ہومز کے عروج و زوال داستان

فوربز میگزین کے مطابق وہ ’دنیا کی سب سے کم عمر خود ساختہ خاتون ارب پتی‘ تھیں۔ ایک اور جریدے ’انک‘ نے اپنے سرِورق پر ان کی تصویر لگائی اور لکھا کہ وہ ’اگلی سٹیو جابز‘ ہیں۔

2014 میں ایلزبتھ ہومز، جو اس وقت 30 سال کی تھیں، بہت بلندی پر تھیں۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ڈراپ آؤٹ ہونے والی ہومز نے ایک کمپنی قائم کی جس کی مالیت نو ارب ڈالر تھی اور جس کے متعلق کہا جا رہا تھا کہ وہ بیماری کی تشخیص میں ایک انقلاب برپا کر دے گی۔

ان کی کمپنی تھیرانوس نے دعویٰ کیا کہ صرف خون کے چند قطروں کے ساتھ اس کا ایڈیسن ٹیسٹ کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا فوری پتہ لگا سکتا ہے۔ ان کی کمپنی میں ہینری کسنجر سے لے کر روپرٹ مرڈوک جیسے بڑے لوگوں نے سرمایہ کاری کی تھی۔

لیکن 2015 تک اس کمپنی کا پول کھلنا شروع ہوا اور ایک سال کے اندر اندر ہومز کو بے نقاب کر دیا گیا۔ انھوں نے جس ٹیکنالوجی کے دعوے کیے تھے وہ بالکل کسی کام کی نہیں تھی اور 2018 تک ان کی قائم کردہ کمپنی ختم ہو چکی تھی۔

تقریباً چار ماہ تک مقدمے کی سماعت میں، آٹھ مردوں اور چار خواتین کی جیوری کو سابق خود ساختہ ارب پتی جن کے زوال نے سلیکون ویلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، کو دو بالکل مختلف رنگوں میں پیش کیا گیا۔

تقریباً 30 گواہوں کو بلا کر، استغاثہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہومز اس پراڈکٹ، یعنی ایڈیسن کہلانے والی مشین، جو وہ سرمایہ کاروں کو فروخت کر رہی تھی کے متعلق جانتی تھیں کہ وہ ایک دھوکہ تھا، لیکن وہ کمپنی کی کامیابی پر مصر رہیں۔

استغاثہ نے کہا کہ ان کی کمپنی خفیہ طور پر ٹیسٹ کے لیے تجارتی طور پر دستیاب مشینوں پر ہی انحصار کرتی رہی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران، متعدد لیب ڈائریکٹرز نے ہومز کو تھیرانوس کی ٹیکنالوجی میں خامیوں کے بارے میں بتانے کی گواہی دی لیکن انھیں کہا گیا کہ وہ اپنی تشویش پر زیادہ بات نہ کریں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسی دوران ہومز نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ ٹیکنالوجی منصوبے کے مطابق کام کر رہی ہے۔

پراسیکیوٹر جیف شینک نے اختتامی دلائل میں کہا کہ ہومز نے ’کاروباری ناکامی کو تسلیم کرنے پر دھوکہ دہی کا انتخاب کیا۔ انھوں نے سرمایہ کاروں اور مریضوں کے ساتھ بے ایمانی کا انتخاب کیا۔ یہ انتخاب نہ صرف ظالمانہ تھا، بلکہ مجرمانہ تھا۔‘

ان کے وکلا صفائی نے مردوں کی بالا دستی والی صنعت میں انھیں ایک جفاکش اور جدوجہد کرنے والی کاروباری خاتون کے طور پر پیش کیا۔

اپنے دفاع میں گواہی دیتے ہوئے ہومز نے تھیرانوس نے آپریشن میں غلطیوں کو تسلیم کیا، لیکن یہ بھی کہا کہ انھوں نے کبھی بھی جان بوجھ کر مریضوں یا سرمایہ کاروں کو دھوکہ نہیں دیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران دفاع نے الزام لگایا تھا کہ ہومز کے سابق بوائے فرینڈ اور کاروباری پارٹنر رمیش ’سنی‘ بلوانی ان مبینہ جرائم کے وقت ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے تھے اور انھیں جذباتی طور پر قابو کر رکھا تھا جس سے ان کی ذہنی حالت مفلوج ہو کر رہی گئی تھی۔

56 سالہ سنی بلوانی ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ہومز

سیلیکون ویلی میں بازگشت

تجزیہ

جیمز کلیٹن، شمالی امریکی کے ٹیکنالوجی کے رپورٹر

الزبتھ ہومز نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مشینیں سینکڑوں بیماریوں کی جانچ کر سکتی ہیں۔ پر ایسا نہیں تھا۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ تھیرانوس کی بانی اور سی ای او تھیں آپ کو لگتا ہے کہ مقدمہ استغاثہ کے لیے ایک آسان جیت ہوگا۔ لیکن متعدد وجوہات کی بناء پر جرم ثابت ہونے کے فیصلوں کی پوری طرح یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

اس طرح کے تکنیکی فراڈ کے مقدمات کو ثابت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ججوں کو سینکڑوں دستاویزات پر غور کرنے اور درجنوں گواہوں کے شواہد دیکھنے کا کہا گیا۔

ہومز کے ہاں ابھی بچہ ہوا ہے اور کچھ تبصرہ نگاروں کا خیال تھا کہ ان کے متعلق ہمدردی پیدا ہو گی۔

ہومز کے خلاف کامیابی کے ساتھ مقدمہ چلانے میں دشواری فیصلوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ جیوری کے فیصلے ملے جلے نظر آتے ہیں۔

لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ وائٹ کالر فراڈ کے مقدمات کو چلانا کتنا مشکل ہے، حکومت اس فیصلے سے ہی خوش ہو گی۔

ان کے سابق ساتھی سنی بلوانی کو اب اگلے ماہ اسی عدالت میں اسی طرح کے الزامات کے لیے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بات کا امکان ہے کہ ہومز کو اس وقت تک سزا نہیں سنائی جائے گی جب تک کہ سنی کے خلاف بھی مقدمہ ختم نہیں ہو جاتا۔

یہ فیصلہ سیلیکون ویلی کے بانیوں کو ایک واضح اور صاف پیغام بھیجتا ہے کہ جب آپ سرمایہ کاروں کو ایسی باتیں کہتے ہیں جو درست نہیں ہوتیں تو اس کے اس طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

امریکی اٹارنی سٹیفنی ہائنڈز نے ججوں کا شکریہ ادا کیا جو 15 ہفتوں کے دوران ایک ’پیچیدہ کیس‘ کا جائزہ لینے کے بعد اپنے فیصلے پر پہنچے۔

error: