ایمل کانسی: ’کاروبار‘ کے لیے امریکہ جانے والا پاکستانی شخص قاتل کیوں بن گیا؟

واشنگٹن ڈی سی میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی یعنی سی آئی اے کے مرکزی داخلی گیٹ کے سامنے ٹریفک سگنل پر ریڈ لائٹ جگمگاتی ہے اور گاڑیاں رُک جاتی ہیں۔ ان گاڑیوں میں سوار بیشتر لوگ اکیلے ہیں، ماسوائے ایک جوڑے کے جن کی حال ہی میں شادی ہوئی ہے۔

اسی دوران ایک مسلح شخص گاڑیوں کے پیچھے سے برآمد ہوتا ہے اور فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ چند ہی لمحوں میں سی آئی اے کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو جاتے ہیں۔ گاڑیوں میں موجود تین خواتین کو خراش تک نہیں آتی۔ حملے کے بعد یہ شخص اپنی گاڑی میں سوار ہو کر فرار ہو جاتا ہے۔ یہ واقعہ آج سے ٹھیک 28 برس قبل یعنی 25 جنوری 1993 کی صبح پیش آیا تھا۔

امریکہ پر نائن الیون کے حملے سے آٹھ سال قبل یعنی سنہ 1993 میں امریکہ کی انتظامیہ پر یہ اس وقت کا سب سے بڑا حملہ کہا جاتا تھا۔ مقامی پولیس، ایف بی آئی اور سی آئی اے تحقیقات میں شامل ہو جاتے ہیں اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد یہ تھی کہ یہ حملہ کسی کا ذاتی فعل تھا یا دہشت گردی کی منظم کارروائی۔

تحقیقاتی اداروں کو جائے وقوع سے 10 گولیوں کے خول اور بغیر چلی گولی ملتی ہے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حملہ آور کی بندوق جام ہو چکی تھی اسی لیے ایک گولی چل نہ سکی۔ حملے میں محفوظ رہنے والی خواتین کی مدد سے حملہ آور کا خاکہ تیار کیا گیا اور اخبارات میں اس کی تشہیر کی گئی۔ عام شہریوں سے معلومات کے حصول کے لیے ایک فون لائن وقف کر دی گئی۔

حملہ آور کی شناخت کیسے ہوئی؟

جائے وقوع سے ملنے والی گولیوں کے خول سے یہ معلوم ہوا کہ اس حملے میں ’اے کے 47‘ یعنی کلاشنکوف استعمال کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ فنگر پرنٹ کا پتہ لگایا گیا، لیکن ملزم کا کوئی ریکارڈ سرکاری سطح پر دستیاب نہیں تھا۔

ایف بی آئی کی جانب سے ایجنٹ بریڈلی گیرٹ تحقیقات کے لیے تعینات کیے گئے۔ گذشتہ سال ایپل پوڈ کاسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایجنٹ بریڈلی گیرٹ نے اس حملے کی تحقیقات کی کچھ تفصیلات بیان کی ہیں۔

گیرٹ کے مطابق ورجینیا اور آس پاس کی ریاستوں میں ایک سال کے اندر کتنی کلاشنکوف فروخت ہوئیں، ابتدائی طور پر اس کا ریکارڈ طلب کیا گیا۔ ایف بی آئی کو معلوم ہوا کہ اس عرصے میں ایک ہزار کے قریب کلاشنکوف فروخت ہوئی تھیں جن میں سے ایک کلاشنکوف حملے سے تین روز قبل خریدی گئی تھی، خریدار کا نام ایمل کانسی تھا۔

ایف بی آئی کے اہلکار درج پتے پر پہنچے اور ایمل کے روم میٹ سے ملاقات کی جو پاکستانی تھا۔ اس شخص نے اُنھیں بتایا کہ ایمل کسی دوسرے شخص کی وساطت سے اُن کا روم میٹ بنا تھا۔

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ کے مطابق کمرے کی تلاشی کے دوران چمڑے کے ایک بریف کیس سے پستول اور کلاشنکوف کی گولیوں سے بھرا ہوا ایک میگزین برآمد ہوا، مزید تلاشی کے دوران صوفے کے نیچے سے ایک پلاسٹگ بیگ میں لپٹی ہوئی کلاشنکوف بھی مل گئی۔

ایمل کے روم میٹ نے اسلحے سے لاعلمی کا اظہار کیا اور پارکنگ میں موجود گاڑی کی نشاندہی کی، جس سے ایف بی آئی کو یہ تصدیق کرنے میں مدد ملی کہ حملہ آور ایمل کانسی ہی ہیں جو حملے کے فوراً بعد پاکستان فرار ہو چکے تھے

ایمل کانسی کون تھے؟

ایمل کانسی کا پورا نام ایمل خان کانسی تھا۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ سکول اور شناختی کارڈ کے ریکارڈ میں اُن کا نام میر ایمل خان کانسی درج تھا لیکن اپنے نام کے برعکس وہ بلوچ نہیں بلکہ پٹھان تھے۔

ایمل کانسی نے ابتدائی تعلیم گرامرز سکول کوئٹہ سے حاصل کی تھی جبکہ گورنمنٹ ڈگری کالج کوئٹہ سے گریجویشن کے بعد بلوچستان یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

بلوچستان یونیورسٹی

قوم پرست رجحانات سے شدت پسندی تک

ایمل کانسی کا تعلق پشتون قوم پرست سیاسی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد پشتون قوم پرست رہنماؤں غفار خان اور عبدالصمد خان کے ساتھ رہے تھے۔

ان کے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ ایمل کانسی زمانہ طالب علمی سے پشتون قوم پرست سیاست کی جانب مائل تھے۔ یونیورسٹی میں داخلے کے کچھ عرصے بعد تک وہ عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے وابستہ رہے اور بعد میں وہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہو گئے۔

ایمل کانسی کے اس دوست کا تعلق اسلامی طلبا تنظیم سے تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی تنظیم کی خاطر دیگر تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دوستوں کے ساتھ کبھی بھی ناطہ نہیں توڑا۔

’یونیورسٹی جانے کے لیے میں ہر روز ایمل کانسی کی گاڑی میں اگلی نشست پر بیٹھا کرتا تھا۔ ایک دن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے مجھے پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے کہا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر نے انھیں میرے ساتھ چلنے پھرنے سے گریز برتنے کو کہا ہے، تاکہ کہیں ایمل پر میری تنظیم کی سوچ اثر انداز نہ ہو، تاہم ایمل کانسی نے واضح کیا کہ میں تم سے دوستی نہیں چھوڑ سکتا لیکن میں پی ایس ایف کے صدر کو بھی ناراض نہیں کر سکتا، اس لیے گزارش ہے کہ آپ کچھ وقت پیچھے بیٹھ جائیں۔‘

ایمل کانسی کے دوست کے مطابق چونکہ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اس لیے ان کا دل اور دستر خوان وسیع تھا۔ ’وہ اکثر اپنے کلاس فیلوز کو نہ صرف لیاقت بازار میں واقع اپنے ہوٹل بلکہ کوئٹہ کے دوسرے بڑے ہوٹلوں میں لے جا کر اچھا کھانا کھلاتے تھے۔ ہوٹل ہو یا یونیورسٹی کی کینٹین، بل کی ادائیگی میں کوئی بھی ایمل سے بازی نہیں لے جا سکا۔‘

طالب علمی میں امریکہ مخالف جذبات

ایمل کانسی کالج اور یونیورسٹی کے دنوں میں جمہوریت کی بحالی اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں بھی شریک رہے، بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے بتایا تھا کہ ایک بار جلوس پر شیلنگ بھی ہوئی تھی۔

ایمل کے دوست کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں بالخصوص افغانستان میں کشت و خون کا ذمہ دار امریکی پالیسیوں کو ٹھہراتے تھے۔ ’اُنھیں افغانستان میں افغانوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر بہت ملال تھا۔‘

ایمل کانسی

ایمل کے دوست کے مطابق ایک مرتبہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک امریکی پروفیسر کے اعزاز میں پروگرام مرتب کیا گیا۔ امریکی پالیسیوں کے سخت مخالف ہونے کی وجہ سے ایمل کانسی نے سخت احتجاج کیا، جس کے باعث یہ پروگرام منعقد نہیں ہوسکا اور امریکی پروفیسر کو خطاب کیے بغیر وہاں سے جانا پڑا۔

امریکہ روانگی

ایمل کانسی کے الفاظ میں وہ سنہ 1991 میں امریکہ آئے تھے۔ یہاں اُن کا ایک دوست امریکہ کا مستقل رہائشی تھا جو ورجینیا میں رہتا تھا۔ اُن کے یہاں آنے کا مقصد ملک دیکھنا تھا اور وہ اپنے ساتھ کچھ پیسے بھی ساتھ لائے تھے اور سوچا تھا کہ کچھ بزنس کر لیں گے۔

ایمل نے امریکہ میں سیاسی پناہ کی بھی درخواست دے رکھی تھی لیکن اُن کو یہ پناہ ملی نہیں تھی۔ ایمل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ امریکہ میں اکثر ویزے کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو ورک پرمٹ کے لیے پناہ گزین کی حیثیت سے درخواست دی جا سکتی ہے، اُنھوں نے پناہ گزین کے سٹیٹس کو صرف اسی مقصد کے لیے اپنایا تھا اس کے درپردہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں تھا۔

امریکہ میں قیام کے دوران انھوں نے کوریئر کمپنی سمیت مختلف نوعیت کی ملازمت کیں۔ اُن کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ سخت محنت والا کام پسند نہیں کرتے تھے۔

ایمل کے روم میٹ کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر خاموش رہتے لیکن جب عراق اور فسلطین وغیرہ میں مسلمانوں پر حملے دیکھتے تو چلانے لگتے تھے۔

ایمل امریکہ سے کہاں گئے؟

سی آئی اے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے اگلے روز ایمل پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے ایف بی آئی ایجنٹ بریڈلی گیرٹ پاکستان آئے۔ اُنھوں نے ایمل کانسی کے خاندان سے بھی ملاقات کی۔ اُنھوں نے اُنھیں بتایا کہ ان کی جنوری میں ایمل سے ملاقات ہوئی تھی، اور اُنھیں واقعے کے بارے میں بھی سی این این سے معلوم ہوا۔

بعدازاں ہونے والی تحقیقات اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایمل پاکستان سے افغانستان چلے گئے جہاں کچھ علاقوں میں اُن دنوں طالبان کی حکومت تھی۔ تحقیقات کے دوران اُنھوں نے اعتراف کیا تھا کہ اُنھیں طالبان نے پناہ دی تھی، اور وہ زیادہ تر قندھار میں رہے۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ایمل کانسی کا کہنا تھا کہ وہ قندھار اور صوبہ زابل کے دارالحکومت قلات کے علاقوں میں رہتے تھے، جبکہ کچھ عرصہ اُنھوں نے غزنی کے علاقے میں بھی گزارا۔ وہ زیادہ تر جنوبی افغانستان میں ہی رہے جہاں زیادہ تر پختون آبادی ہے، جب طالبان نے یہاں قبضہ کیا تو وہ کابل چلے گئے۔ وہاں کچھ طالبان بھی دوست بن گئے اور وہ ان کے ساتھ کچھ پولیس سٹیشنوں میں بھی رہے۔

بقول ان کے ان کا تعلق پشتونوں سے رہا اور وہ عربوں کے ساتھ رابطے میں نہیں تھے۔ ان کی صرف ایک بار اسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ قندھار میں کئی لوگ ایک شخص سے مل رہے تھے، وہ بھی ان سے جا کر ملے تو پتہ چلا وہ اسامہ بن لادن ہیں۔

امریکی سفارتخانے میں گھنٹی بج اٹھی

امریکی حکومت نے ایمل کانسی کی گرفتاری پر 20 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر دیا۔ ایف بی آئی ایجنٹ گیرٹ کے مطابق جب ملزم کسی اور ملک کا شہری ہو تو معاملہ کٹھن ہو جاتا ہے۔

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ کوئٹہ میں ایک مقامی کلرک نے کراچی میں امریکی سفارتخانے کے ساتھ رابطہ کیا اور بتایا کہ اُنھیں معلوم ہے کہ امریکہ کو ایمل کی تلاش ہے، ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے۔ ہم اس کو ایک مخصوص مقام پر لا سکتے ہیں مگر اس کے لیے رقم درکار ہو گی۔

گیرٹ کے مطابق جلد ہی وہ افغان قبائلی سربراہوں سے رابطے میں آ گئے۔ تصدیق کے لیے ایمل کی تازہ تصویر فراہم کی گئی اور اس کے بعد شیشے کا ایک گلاس امریکی حکام کو دیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس پر ایمل کے فنگر پرنٹ ہیں۔ اس گلاس کو امریکہ بھیجا گیا جہاں فارنزک ٹیسٹ میں تصدیق ہوئی کہ انگلیوں کے یہ نشانات ایمل کے ہیں۔

سی آئی اے سٹیشن چیف، ریجنل سکیورٹی افسر، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور ایف بی آئی نے پاکستانی حکومت کے ساتھ بات چیت شروع کردی۔ ان دنوں پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی۔

ساتھ ہی ساتھ آئی ایس آئی سے بھی ایف بی آئی نے رابطہ کیا۔ ایف بی آئی ایجنٹ گیرٹ کے مطابق آئی ایس آئی کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کے پاس ہیلی کاپٹر اور طیارے تھے اور وہ پاکستان میں کہیں بھی جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آئی ایس آئی کو بیک اپ سپورٹ کے لیے کہا گیا۔

ہاں یہ ہی ایمل ہے

مخبروں سے مل کر یہ طے کیا گیا کہ وہ ایمل کو ایک مخصوص جگہ پر لائیں گے۔ یہ جگہ ڈیرہ غازی خان کا ایک ہوٹل تھا۔

نواز شریف
،تصویر کا کیپشنایمل کانسی کے سی آئی اے ہیڈ کوارٹرز پر حملے اور انھیں سزا سنائے جانے کے وقت پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی اور اُن کے خلاف اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست اب تک زیر سماعت ہے

ایمل کانسی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے کچھ ساتھیوں نے اُنھیں کہا تھا کہ ڈیرہ غازی خان چلتے ہیں، وہاں پر ان کی بزنس ڈیل ہے، وہ کوئی سامان وغیرہ خریدنا چاہتے ہیں جبکہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں ہو گی۔ ’مجھے کہا کہ آپ پڑھے لکھے ہیں، اردو بھی جانتے ہیں، مجھے ان پر بھروسہ تھا سو میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ وہاں جا کر آدھی رات کو چھاپہ پڑا اور مجھے گرفتار کر لیا گیا۔‘

یہ 15 جون 1997 کی رات تھی۔

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ کے مطابق اُنھوں نے ایک مقامی جاسوس ہوٹل بھیج دیا جو وہاں کی خبر دے رہا تھا، ان سمیت ایف بی آئی کے چار اہلکاروں نے قمیض شلوار پہنی اور روانہ ہو گئے۔ جاسوس نے بتایا کہ وہ تیسری منزل کے کمرہ نمبر 317 میں ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ مرکزی دروازہ کھلا رہتا ہے اور گارڈ نہیں ہے۔

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا خیال تھا کہ صبح چار پانچ بجے کم لوگ ہوں گے لیکن یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کیونکہ یہ گرم علاقہ تھا اور لوگ صبح سویرے ہی کام شروع کر دیتے تھے، اس لیے سڑکوں پر کئی سو لوگ موجود تھے۔ قمیض شلوار میں ملبوس امریکی ان کی نظر میں آ گئے۔

وہ ہوٹل کے داخلی دروازے پر پہنچے تو وہ اندر سے بند تھا۔ انھوں نے دروازے پر دستک دی تو ایک گارڈ آیا۔ اُنھوں نے اس پر قابو پا لیا اور اوپر کی منزل کی طرف روانہ ہوئے، مطلوبہ دروازہ بجایا اور بتایا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ ایک دو بار دستک کے بعد دروازہ کھلا تو ایجنٹس اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود مشتبہ شخص کو چت کر دیا۔

اس شخص نے مزاحمت کی اور کچھ خراشیں آئیں۔ اس کے دونوں ہاتھ ہتھکڑیوں سے باندھ دیے گئے اور منھ میں کپڑا ٹھونس دیا گیا۔

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ کے مطابق شکل و صورت میں یہ مشتبہ شخص ایمل جیسا ہی لگتا تھا جس کے بعد انک پین کی سیاہی اس کے انگھوٹے پر لگائی اور پیپر پر لگایا میگنیفائی گلاس سے بھی مشاہدہ کیا، جس کے بعد تصدیق ہو گئی کہ یہ ہی ایمل کانسی ہے۔

آئی ایس آئی نے ملک چھوڑنے سے روک دیا

ایجنٹ بریڈلی گیرٹ کے مطابق جب ہوٹل سے نکلنے لگے تو اُنھوں نے ایمل کے ہاتھ باندھ دیے اور سر پر کپڑا ڈال دیا اور اس کو ایک گاڑی میں سوار کر دیا جو نصف گھنٹے چلتی رہی، جس کے بعد وہ ایک طیارے میں سوار ہوئے۔ بریڈلی کے مطابق یہ طیارہ آئی ایس آئی کے ایک جنرل کا تھا جس میں ہم راولپنڈی پہنچے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے واضح کر دیا کہ ہم ملک نہیں چھوڑ سکتے، جس کی وجہ سے ہمیں وہاں دو روز رکنا پڑا۔ گیرٹ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اُنھوں نے آئی ایس آئی کے جنرل کو کہا کہ آپ نے ایمل کی گرفتاری کی اجازت دی لیکن اب گرفتاری کے بعد میں یا میرا کوئی ایجنٹ اس کے ساتھ رہے گا تاکہ اس کو کوئی نقصان نہ پہنچائے یا پوچھ گچھ نہ کرے۔ وہ اس پر رضامند ہو گئے۔ ’اگلے دو روز ہم چار افراد چار، چار گھنٹے سیل کے باہر بیٹھتے تھے تاکہ ایمل کو کوئی تنگ نہ کرے۔‘

دو روز کے بعد اُنھیں بتایا گیا کہ صدر کلنٹن اور وزیرِ خارجہ میڈلن البرائیٹ کی اپنی ہم منصوبوں سے بات ہو گئی ہے اور ہمیں جانے کی اجازت ہے۔

یوں 17 جون 1997 کو اسلام آباد سے امریکہ کا فضائی سفر شروع ہو گیا۔ ایمل کانسی کے مقدمے کے تحریری فیصلے کے مطابق طیارے میں ایمل کا طبی معائنہ بھی کیا گیا اور ایجنٹ گیرٹ نے ذاتی معلومات اور امریکہ آنے کے مقصد کے بعد حملے کے بارے میں سوالات کیے۔

ایمل نے بتایا کہ فائرنگ سے کئی روز قبل تک وہ یہ سوچتے رہے کہ سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پر فائرنگ کریں یا اسرائیلی سفارتخانے پر۔ پھر اُنھوں نے سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کا انتخاب کیا کیونکہ سی آئی اے کے حکام مسلح نہیں ہوتے۔

اپنے بیان میں حملے کی وجہ بتاتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ انھیں غصہ تھا کیونکہ امریکی طیاروں نے عراق پر حملہ کیا تھا اور وہ سی آئی اے کی مسلم ممالک میں مداخلت کی وجہ سے بھی غصہ تھے۔ اس کے علاوہ انھیں امریکی اتحادیوں کی جانب سے پاکستانیوں کی ہلاکت پر بھی تشویش تھی۔

ایمل کانسی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ اُنھوں نے ایف بی آئی کو دیے گئے اقبالی بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اُنھیں بتایا تھا کہ اُنھوں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ حملہ کیا تھا۔

اُن کے بقول اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی خارجہ پالیسی خاص طور پر اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف احتجاج کرنا تھا جو اُن کے مطابق مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف تھی۔

ایمل کانسی
،تصویر کا کیپشنایمل کانسی کی قبر

ایمل نے اپنے تحریری بیان میں تصدیق کی کہ اُنھوں نے اے کے 47 کلاشنکوف اور 150 گولیاں خریدی تھیں۔ حملے والے روز اُنھوں نے اپنا ٹرک روکا اور جیسے ہی سرخ اشارے پر گاڑیاں رُکیں، تو اُنھوں نے گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ اُنھوں نے 10 گولیاں چلائیں اور پانچ افراد کو نشانہ بنایا، جن کے سینوں پر نشانہ لگایا۔ خواتین پر گولی نہ چلانے کے بارے میں کہا کہ اُن کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اقبالِ جرم سے انحراف

ایمل کانسی نے ایف بی آئی کو دیے گئے بیان میں رضاکارانہ طور پر اقبال جرم کیا لیکن بعد میں وہ اس سے دستبردار ہو گئے۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں امریکہ کے قانون وغیرہ کا نہیں پتہ تھا اور اُنھوں نے وکیلوں کے کہنے پر صحتِ جرم سے انکار کیا تھا۔

عدالت نے اُنھیں سزائے موت سُنائی تھی۔ اُنھوں نے جیوری پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ بی بی سی کو دیے گئے آخری انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف انتہائی متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا، عدالتی کارروائی بھی اسی علاقے میں کی گئی جہاں حملے کا واقعہ پیش آیا تھا اور قانون کے تحت یہ اقدام بھی غلط تھا۔

انھوں نے کہا کہ گرفتاری کے بعد ذرائع ابلاغ نے اُن کے خلاف انتہائی شدید پراپیگنڈا شروع کر دیا اور جیوری کے حضرات اس پراپیگنڈے سے اس قدر متاثر ہو چکے تھے، کہ اُنھوں نے اُن پر لگائی گئی ہر دفعہ کے فیصلے میں سخت ترین سزا تجویز کی، جن میں عمر قید، جرمانہ اور سزائے موت شامل تھیں۔

ایمل کانسی کی سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل امریکہ نے ممکنہ رد عمل پر اپنے پاکستان میں سفارتخانے کو الرٹ جاری کر دیا تھا، سزا سنائے جانے کے دوسرے روز 13 نومبر 1997 کو یونین ٹیکساس پیٹرولیم کے چار امریکی ملازمین کو کراچی میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دیا تھا۔

ایمل کانسی کی تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد 14 نومبر 2002 کو اُنھیں زہر کا انجیکشن لگا کر سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا۔ سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل اُن سے دو بھائیوں اور ایک پیش امام نے آخری ملاقات کی تھی۔

ایمل کانسی کی کوئٹہ میں نمازِ جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی تھی اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ان کے گھر جا کر تعزیت کی تھی۔

ایمل کانسی کی گرفتاری اور امریکہ منتقلی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت بھی ایک درخواست زیر سماعت تھی جس میں گزارش کی گئی تھی کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے پاکستانی شہری کی گرفتاری میں ساتھ دیا اور غیر قانونی طور پر امریکہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: