ایمنسٹی انٹرنیشنل: انڈین حکومت کی جانب سے ہراسانی، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم اپنے دفاتر بند کرنے پر مجبور

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرمیشنل نے اعلان کیا ہے کہ انھیں اپنے کام کی وجہ سے انڈیا کی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہ اس وجہ سے انڈیا میں اپنے آپریشن بند کر رہے ہیں۔

تنظیم نے انڈیا کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے خلاف ایک مہم چلا رہی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ہیں اور انھیں اپنے ملازمین کو فارغ کر کے ملک میں جاری اپنا تمام کام روکنا پڑا ہے۔

انڈیا کی حکومت نے اب تک ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے انڈیا میں سینیئر ریسرچ ڈائریکٹر رجت کھوسلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں حکومت کی جانب سے بے مثال ہراسانی کا سامنا ہے جس میں ’منظم طریقے سے کیے جانے والے حملے، دھمکیاں اور ہراسانی‘ شامل ہیں۔

’اس سب کی وجہ ہمارا انسانی حقوق کے لیے کام ہے اور صاف بات ہے کہ حکومت ہمارے سوالات کے جواب نہیں دینا چاہتی، چاہے وہ دہلی فسادات میں ہماری تحقیقات ہوں یا جموں و کشمیر میں آوازیں دبانے کی کوششیں۔‘

گذشتہ ماہ جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ دہلی پولیس نے فروری میں ہونے والے فسادات کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔ تاہم دہلی پولیس نے روزنامہ ہندو کو دیے گئے ایک بیان میں ان دعوؤں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایمنسٹی کی رپورٹ: ’یکطرفہ، متعصبانہ اور بدنیتی پر مبنی ہے۔‘

کشمیر
،تصویر کا کیپشنایمنسٹی نے انڈین حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے حراست میں لیے گئے تمام سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے

رواں سال اگست میں انڈیا کے زیِر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر ایمنسٹی نے انڈین حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ جموں کشمیر سے حراست میں لیے گئے تمام سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو رہا کرے اور خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت کو بحال کرے۔

سنہ 2019 میں ایمنسٹی نے جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق سے متعلق امریکی خارجہ امور کی کمیٹی میں ایک سماعت کے دوران کشمیر میں طاقت اور تشدد کے بےتحاشہ استعمال اور جبری نظر بندیوں کے حوالے سے اپنی فائنڈنگز (نتائج) پر روشنی ڈالی تھی۔

ایمنسٹی نے ماضی قریب میں بارہا انڈیا میں ’اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن‘ کی مذمت کی ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کا عمل جاری سلسلے کی آخری کڑی ہے۔

یاد رہے اگست 2016 میں ایمنسٹی انڈیا کے خلاف بغاوت کا کیس ان الزمات کے تحت درج کیا گیا تھا کہ (ایمنسٹی انڈیا) کی جانب سے منعقد کروائی گئی ایک تقریب میں انڈیا مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔

تاہم اس کیس کے درج ہونے کے تین برس بعد عدالت نے ’بغاوت‘ کے الزامات کو ختم کرنے کا حکم سنایا تھا۔

اکتوبر 2018 میں انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں واقع ایمنسٹی کے دفاتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چھاپے مارے تھے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا کام مالیاتی جرائم کی تحقیق کرنا ہے۔ اس وقت بھی ایمنسٹی کے بینک اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا گیا تھا تاہم عدالت کے احکامات کے بعد یہ بینک اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے تھے۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ سنہ 2019 کے اوائل میں انڈیا کے انکم ٹیکس محکمے کی جانب سے ان افراد کو نوٹسز بھجوائے گئے تھے جو ایمنسٹی کو چھوٹے پیمانے پر عطیات بھیجتے ہیں۔

سنہ 2019 میں ہی ایک مرتبہ پھر ایمنسٹی کے دفاتر پر ’سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن‘ کی ٹیموں کی جانب سے چھاپے مارے گئے۔ یہ چھاپے اس کیس کے سلسلے میں مارے گئے تھے جو انڈین وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایمنسٹی کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشن’ایمنسٹی انڈیا تمام مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کرتی ہے‘

انڈیا میں آنے والی حکومتیں غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے غیر منافع بخش گروپس خصوصاً انسانی حقوق کی تنظیموں سے نالاں رہی ہیں۔

سنہ 2009 میں بھی ایمنسٹی کو انڈیا میں اپنے آپریشنز اس وقت بند کرنا پڑے تھے جب اس تنظیم کی جانب سے بیرون ممالک سے فنڈز وصول کرنے کے لائسنس کو حکومت کی جانب سے بار بار مسترد کیا گیا۔ اُس وقت انڈیا میں کانگریس برسراقتدار تھی جو کہ اب اپوزیشن میں ہے۔

گذشتہ برسوں میں انڈین حکام کی جانب سے غیر ملکی رقوم کے حصول کے قواعد کو سخت کر دیا گیا ہے، اور ہزاروں غیر منافع بخش تنظیموں کے بیرون ممالک سے رقوم وصول کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

برسراقتدار بی جے پی کی حکومت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ ایمنسٹی کے خلاف تحقیقات ان شکوک و شبہات کی بنا پر کی جا رہی ہیں کہ کہیں یہ گروپ غیر ملکی مالی اعانت سے متعلق انڈین قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا ہے۔

رجت کھوسلا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک سفید جھوٹ ہے۔ ایمنسٹی انڈیا تمام مقامی اور بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کرتی ہے۔‘

رجت کھوسلا کہتے ہیں کہ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل 70 سے زائد ممالک میں کام کرتی ہے اور روس وہ آخری ملک تھا جس نے سنہ 2016 میں ایمنسٹی کو اپنے آپریشنز بند کرنے پر مجبور کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ دنیا بھر سے ذمہ داران بیٹھیں گے اور اس معاملے کا نوٹس لیں گے۔ ہم نے یہ فیصلہ بہت بوجھل دل اور غم کے گہرے احساس کے ساتھ لیا ہے۔‘

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا میں اپنے خلاف دائر ہونے والے قانونی کیسز کی پیروی جاری رکھیں گے۔

error: