ایوا گارڈنر اور ’بھوانی جنکشن‘ کے قصے جو لاہوریوں کے ذہن میں مدتوں تازہ رہے

32 برس قبل آج کے ہی دن برطانیہ میں وفات پانے والی اداکارہ ایوا گارڈنر کے کریڈٹ پر یوں تو ہالی وڈ کی کئی مشہور فلمیں ہیں لیکن برصغیر کے لوگ اور خصوصاً اہلِ لاہور آج بھی انھیں اُن کی فلم ’بھوانی جنکشن‘ کے لیے یاد کرتے ہیں جس کی عکس بندی مارچ 1955 میں لاہور میں ہوئی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں، جن میں سے ایک بہت بڑی تبدیلی، برصغیر میں آزادی کا سورج طلوع ہونا تھا۔ انگریزوں کو اس خطے سے جانا پڑا اور برصغیر چھوڑنے کے بعد کئی انگریزوں نے یہاں اپنے قیام کے بارے میں یادیں رقم کیں۔

کسی نے سوانح عمری لکھی، تو کسی نے ناول کی صورت میں اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اسی تعلق سے ایک ناول ’بھوانی جنکشن‘ کے نام سے منظر عام پر آیا جسے جان ماسٹرز نے تحریر کیا تھا۔

ممتاز صحافی خرم سہیل کے مطابق جان ماسٹرز 26 اکتوبر 1914 کو کلکتہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ وہ سٹاف کالج، کوئٹہ میں زیر تعلیم بھی رہے اور بعد ازاں برطانوی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ہندوستان سے وطن واپسی کے بعد انھوں نے خود کو قلمکار کے طور پر فعال کیا اور ہندوستانی طرزِ معاشرت کو اپنا موضوع بنایا۔

’بھوانی جنکشن‘ ان کا سب سے مشہور ناول ہے جو سنہ 1954 میں شائع ہوا تھا۔ یہ ناول دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے جن میں اُردو بھی شامل ہے۔

اس ناول میں 1940 کی دہائی کے آخری برسوں کا ہندوستان دکھایا گیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کا پس منظر ہے، چار مرکزی کردار دکھائے گئے ہیں، جن میں تین انگریز ہیں۔

مرکزی کردار ایک ایسی اینگلو انڈین خاتون کا ہے، جن کی والدہ ہندوستانی اور والد انگریز ہیں۔ وہ جنگ کے لیے انگریز فوج میں بھرتی ہوتی ہے، پھر اُن کی تعیناتی ہندوستان میں ہو جاتی ہے۔ یہاں وہ شادی کا فیصلہ کرنے کے لیے دوراہے پر کھڑی ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں ایک فرد کی زندگی میں خطے کی فضا کو چابک دستی سے ناول نگار نے بیان کیا ہے، کہیں کہیں اس کی اپنی زندگی کی پرچھائیاں بھی کہانی میں متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

اوا
،تصویر کا کیپشنایوا گارڈنر نے ایک ایسی اینگلو انڈین خاتون کا کردار ادا کیا، جن کی والدہ ہندوستانی اور والد انگریز ہیں۔ (فلم کا ایک منظر)

ناول میں خاتون کے مرکزی کردار کے لیے، ایک طرف اُن کا ہم نسل انگریز فوجی افسر ہے، جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہیں، دوسری طرف ایک انگریز فوجی، جو کم عمر ہیں، اور وہ خاتون سے یک طرفہ محبت کرتا ہے، جبکہ تیسری طرف ایک ترقی پسند ذہن رکھنے والا سکھ کلرک ہے، جس کی محبت میں یہ خاتون حادثاتی طور پر مبتلا ہو جاتی ہیں۔

فلم میں ایک ریلوے جنکشن کے اردگرد کہانی کے تانے بانے بُنے ہیں اور آزادی کے متوالے انقلابیوں کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔ یہ جنکشن ایک علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو انگریزوں کی طاقت، نقل و حرکت، رسد کی آمد سمیت کئی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتا ہے، اسی تناظر میں کہانی آگے بڑھ کر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

ناول کی اشاعت کے ایک سال بعد ہالی وڈ کے مشہور فلمساز ادارے ایم جی ایم نے اس ناول کو فلم کے قالب میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔ فلم کی کہانی کا تعلق ریاست جھانسی سے تھا، جس کو ناول نگار نے ’بھوانی‘ کا نام دیا۔

فلم میں کہانی کا اختتام کچھ بدل دیا گیا۔ امریکی فلم ساز اس فلم کو ہندوستان میں حقیقی مقام پر فلمانا چاہتے تھے لیکن ہندوستانی حکومت نے تعاون نہ کیا جس پر پاکستان میں اس فلم کو عکس بند کرنے کا فیصلہ ہوا، جس پر حکومت پاکستان نے ان کو خوش آمدید کہا۔

فلم کے ہدایتکارجارج کیوکر پہلے لاہور آئے اور شوٹنگ کے لیے مقامات کا انتخاب کیا، پھر اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ لاہور آئے اور فلم بنائی۔ دو مہینے تک فلم کی عکس بندی لاہور میں ہوتی رہی۔ اس کے مرکزی کرداروں میں شہرہ آفاق اداکارہ ایوا گارڈنر اور سٹیورٹ گرینجر شامل تھے۔

ایوا گارڈنر
،تصویر کا کیپشنایوا گارڈنر لاہور ریلوے سٹیشن پر

پاکستانی فلمی صنعت اس فلم کی یاد سے کئی برسوں تک مہکتی رہی، لاہور میں کئی لوگ ایواگاڈنرکے عشق میں مبتلا رہے اور اس سے ملاقات کی کہانیاں سُناتے رہے۔ فلمی صحافی اور مصنف علی سفیان آفاقی نے اپنے مشہور فلمی سلسلے فلمی الف لیلیٰ میں بھوانی جنکشن کی فلم بندی کا احوال تفصیل سے رقم کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں: ’سن پچاس کی دہائی میں لاہور میں ایک ایسا ہنگامہ خیز واقعہ رونما ہوا، جس نے پاکستان کی ننھی منی سی فلمی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ ہالی وڈ کی ایک مشہور فلم ساز کمپنی ایم جی ایم نے اپنی فلم ’بھوانی جنکشن‘ کی فلم بندی لاہور میں کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاہور والوں کی تو جیسے عید ہو گئی۔‘

’ہالی وڈ کی فلم کا یونٹ لاہور آنے والا تھا، جس میں اس دور کے سپرسٹار ایوا گارڈنر اور سٹیورٹ گرینجر مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔ ایوا گارڈنر اپنے حسن و جمال اور سکینڈلز کے باعث دنیا بھر میں مشہور تھیں۔ سٹیورٹ گرینجر کی بہت سی فلموں نے دھوم مچا دی تھیں۔ وہ اس زمانے کی ایک مشہور ہیروئن جین سمنز کے شوہر بھی تھے۔ اس فلم کے ہدایتکار جارج کیوکر تھے، جو ہالی وڈ کے صف اوّل کے ہدایت کاروں میں شمار کیے جاتے تھے۔‘

علی سفیان آفاقی کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کے روزنامے اس زمانے میں فلموں کی خبریں شائع نہیں کرتے تھے مگر ہالی وڈ کی فلم کی تو بات ہی اور تھی۔ پاکستان ٹائمز اور امروز سے لے کر آفاق جیسے اخبارات میں بھی بھوانی جنکشن کے حوالے سے خبریں شائع ہونے لگیں۔۔۔ اس فلم کی شوٹنگ کے لیے پہلے بھارت میں پروگرام بنایا گیا تھا اور فلم ساز کی خواہش تھی کہ ’بھوانی' کے اصل مقام پر تمام مناظر فلمائے جائیں، مگر بھارتی حکومت نے کانگرسیوں کے جذبات کو مجروح نہ کرنے کے پیش نظر وہاں فلم بندی کی اجازت نہیں دی۔‘

’فلم کا تمام منصوبہ مکمل ہو چکا تھا اور اس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔ اس منصوبے کو ملتوی یا منسوخ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کا حل یہی تلاش کیا گیا کہ فلم کی شوٹنگ بھارت کی بجائے پاکستان میں کر لی جائے۔ مناظر اور پس منظر کے حساب سے دونوں ملک ایک جیسے ہیں۔ لوگوں کی رنگت اور چہرے بھی زیادہ مختلف نہیں۔ رہی سہی کسر میک اپ اور ملبوسات سے پوری کر لی جائے گی چنانچہ یہ پراجیکٹ بھارت سے پاکستان منتقل کر دیا گیا۔‘

بھوانی جنکشن کا اردو ترجمہ سید قاسم محمود نے کیا
،تصویر کا کیپشنبھوانی جنکشن کا اردو ترجمہ سید قاسم محمود نے کیا

’پاکستان کی حکومت نے نہ صرف شوٹنگ کی اجازت دے دی بلکہ ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ بھی کر لیا۔۔۔ فلم کی ابتدائی تیاریوں کے سلسلے میں پہلے کچھ لوگ لاہور آئے۔ انھوں نے شوٹنگ کرنے کے لیے مناسب جگہوں کا انتخاب کیا۔ لاہور کا قلعہ اور آس پاس کے مقامات انھیں پسند آئے۔ فلم کے اہم مناظر ریلوے سٹیشن پر فلمائے جانے تھے۔ اس مقصد کے لیے ریلوے انتظامیہ نے لاہور ریلوے سٹیشن کے دو پلیٹ فارم اُن کے سپرد کر دیے۔‘

’یہ وہ انتظامیہ تھی جو پاکستانی فلم سازوں کو پلیٹ فار م پر ایک دو مناظر فلمانے کے لیے بھی بڑی مشکل سے اجازت دیتی تھی۔ سٹیشن کا پلیٹ فارم نمبر ایک اور پلیٹ فارم نمبر دو فلم یونٹ کے حوالے کر دیے گئے، جہاں انھوں نے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں کر لیں۔ لاہور کی جگہ پلیٹ فارم پر بھوانی جنکشن کا نام لکھ دیا گیا۔ چند روز کے اندر ہی انھوں نے لاہور کے ریلوے سٹیشن کے ایک حصے کا حلیہ ہی بدل کر رکھ دیا۔‘

علی سفیان آفاقی یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس فلم کے بارے میں عوام اور خواص سب میں ہی دلچسپی پائی جاتی تھی۔ ’ایسے میں جب ہالی وڈ کی ایک بہت بڑی فلم بھوانی جنکشن کو لاہور میں بنانے کا فیصلہ کیا گیا تو ایک چہل پہل سی پیدا ہو گئی۔ بھوانی جنکشن کے فنکاروں اور ہدایت کاروں کو پاکستان میں بہت شہرت اور مقبولیت حاصل تھی۔ اعلیٰ سرکاری حلقوں سے لے کر عوام اور اخبار نویسوں تک سبھی اس ایونٹ کے انتظار میں بیٹھ گئے۔

’بھوانی جنکشن کے لیے بہت وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے۔ مثال کے طور پر قریب قریب چالیس نوجوانوں اور ذہین لوگوں کو معاون ہدایت کار کے طور پر بھرتی کیا گیا، جن میں سے بعض آگے چل کر نامور ہدایت کار بنے۔ فرید احمد، قدیر غوری جیسے ہدایت کاروں کو اسی فلم میں پہلی بار فلم سازی کا تجربہ حاصل ہوا تھا۔‘

ایوا گارڈنر اور سٹیورٹ گرینجر فلم کے ایک سین میں
،تصویر کا کیپشنایوا گارڈنر اور سٹیورٹ گرینجر فلم کے ایک سین میں

’ان چالیس معاونین کے سپرد مختلف کام تھے۔ اس شوٹنگ کے لیے سینکڑوں بلکہ ہزاروں اداکاروں کی ضرورت تھی۔ انھیں فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی معاون ہدایت کاروں پر ڈال دی گئی۔ مقامی طور پر جتنے بھی کام ہو سکتے تھے، وہ سب پاکستانیوں کے سپرد کر دیے گئے۔ ‘

’اس فلم میں کام کرنے والوں نے ہمت افزائی کے بعد فلمی صنعت کے مختلف شعبوں میں کام کیااور بڑا نام پیدا کیا۔ نیلو نے پہلی بار اسی فلم میں ایک اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ بعد میں انھوں نے حوصلہ پا کر پاکستانی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار کیے۔ پھر وہ بہت بڑی اور مقبول ہیروئن بن گئی، اسی طرح کی اور بھی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔‘

’بھوانی جنکشن کے یونٹ کی پاکستان میں آمد تازہ ہوا کے جھونکے کے مانند تھی، جس کی تازگی نے بہت سے تعلیم یافتہ اور ذہین نوجوان ذہنوں کو فلمی صنعت کی طرف راغب کیا اور انھیں یہ احساس دلایا کہ فلم بھی ایک تخلیقی کام ہے۔‘

لاہور میں بھوانی جنکشن کی فلم بندی کا احوال مصنف اور ناول نگار مستنصر حسین تارڑ نے اپنے نیم سوانحی ناول ’راکھ‘ میں بھی بیان کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ’قدیم لاہور کی سب سے ہنگامہ خیز یاد ان دنوں کی ہے جب بھوانی جنکشن کی شوٹنگ اس کے گلی کوچوں میں ہوئی۔ جب ایوا گارڈنر مال روڈ کے فٹ پاتھ پر چہل قدمی کیا کرتی تھی اور اس کے بدن کی خوشبو لاہور کی ہواؤں میں دھومیں مچاتی تھی اور سٹیورٹ گرینجر ہماری گلیوں میں گھوما کرتا تھا۔۔۔۔‘

’بھوانی جنکشن کی آمد نے لاہور ریلوے سٹیشن کا چہرہ مہرہ بدل دیا۔ عمارت کے ماتھے پر تانگہ سٹینڈ کے عین اوپر لاہور کی بجائے بھوانی جنکشن پینٹ کر دیا گیا۔ جہاں سائن بورڈ تھے وہاں بھی اس نامانوس شہر کا نام لکھا گیا۔ پلیٹ فارموں پر ایکسٹرا اداکار لٹھے کی کھڑکھڑاتی دھوتیاں اور نہرو ٹوپیاں پہن کر انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے رہتے۔‘

جان ماسٹرز

’ایک روز لکشمی مینشن کے عین سامنے ایک عمارت کو آگ لگا دی گئی۔ بھوانی جنکشن کا ایک منظر۔ پریشان حال دھویں میں کھانستی ایوا گارڈنر چھت پر بھاگ رہی ہے اور مدد کو پکار رہی ہے۔ ادھر پورا مینشن اس اوپن ایئر ڈرامے کو دیکھنے کے لیے کوٹھوں پر امڈا ہوا ہے۔‘

صحافی اسلم ملک لکھتے ہیں کہ ’پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے کچھ عرصے بعد جب میں نے پاک ٹی ہاؤس اور انارکلی، ٹمپل روڈ، اچھرہ، نسبت روڈ اور لکشمی کے ریستورانوں اور چائے خانوں میں جانا شروع کیا تو ایسے کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کے بارے میں بتایا گیا کہ انھوں نے خود بتایا کہ انھوں نے انگلش فلم 'بھوانی جنکشن' میں ایوا گارڈنر کے ساتھ کام کیا ہوا ہے۔‘

’پھر ایوا گارڈنر کے حسن وجمال کے قصے چھڑ جاتے۔ ’باؤ جی سوہنی تے او رج کے سی۔‘ کوئی شیخی بگھارتا ’میں وی جوان ساں، میرے ول ویکھ کے ہسی سی۔‘ کوئی کہتا ’میں اک دن ہمت کر کے باقاعدہ ہتھ ملا لیا۔‘ (یہ معلوم نہیں ہوا کہ باقاعدہ سے کیا مراد تھی) اس وقت تو میں گپیں سمجھتا رہا لیکن بعد میں پتا چلا کہ ان میں سے بیشتر سچے تھے اور انھوں نے واقعی 'بھوانی جنکشن' میں کام کیا تھا۔

’یہ کام تھا کیا؟ مسافر، قلی، خوانچے والا، چائے والا، پانی والا، کوئی سادھو فقیر یا پھر محض ہجوم کا حصہ لیکن وہ اس کے قصے زندگی بھر سناتے رہے۔‘

تارڑ صاحب نے لکھا کہ ’بھوانی جنکشن کی شوٹنگ کے دورن ایوا گارڈنر فلیٹیز ہوٹل کے جس کمرے میں ٹھہری تھیں، مدتوں اس پر اس بارے میں تختی لگی رہی اور لوگ اسے بھی دیکھنے آتے رہے۔ بھوانی جنکشن کی ٹیم واپس گئی تو لاہور ایک مدت تک صدمے سے سنبھل نہ سکا۔ لاہور کے آسمان میں روشنی کم ہو گئی۔ مال روڈ پر چلنے والے تانگوں کے گھوڑے قدرے سست ہو گئے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.