ایون فیلڈ ریفرنس: نیب کے پاس مریم نواز کے خلاف مزید شواہد ہیں تو پیش کریں، عدالت

پاکستان کی سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت کی درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب حکام کے سامنے سوال رکھا کہ اگر ان کے پاس برٹش ورجن آئی لینڈ کی جانب سے موصول ہونے والے خط کے علاوہ ایسے شواہد موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہو کہ مریم نواز ایون فیلڈ پراپرٹی کی بینیفیشل اونر ہیں، تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

ایف آئی اے کے سابق سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں پانامہ کیس کی تحققیات کرنے والی ٹیم کو باہمی قانونی معاونت کی مد میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی جو رپورٹ موصول ہوئی تھی اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مریم نواز ایون فیلڈ فلیٹس کی بینیفیشل اونر ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سنہ 2018 میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کو آٹھ سال قید اور بیس لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی اسی مقدمے میں گیارہ سال قید اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کا مقدمہ الگ کر دیا تھا۔

آج سماعت میں کیا ہوا؟

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے بریت کی ان درخواستوں کی سماعت کی تو عدالت نے کہا کہ باہمی قانونی معاونت کے تحت جو خط عدالت میں پیش کیا گیا اور جس کے تحت انھیں سزا دی گئی، کیا وہ قانون شہادت پر پورا اترتا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے جواب میں جو خط آیا، وہی مریم نواز کے خلاف ایک بنیادی ثبوت ہے؟

جس پر نیب پراسیکوٹر نے مریم نواز اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف تحققیات کرنے والی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کی طرف سے برٹش ورجن آئی لینڈ کو لکھے گئے خط کے جواب میں موصول ہونے والے خط کی کاپی عدالت میں پیش کی۔

کیپٹن صفدر/مریم نواز/نواز شریف

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ سے اس کمپنی کا نہ تو کوئی وکیل اس عدالت میں پیش ہوا اور نہ ہی کوئی برطانوی تحققیاتی افسر عدالت میں پیش ہوا۔

جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا کسی فلیٹ کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ایک خط کافی ہوتا ہے، جس پر نیب کے وکیل نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت کو اس بارے میں کوئی ابہام ہے تو نیب اس کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیب کی اس دلیل کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ملک میں رائج قانون شہادت نیا لکھنا پڑے گا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ برطانوی لا فرم اور اس کے وکیل کے بیان کے بغیر اس خط کو کیسے قانون شہادت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ محض ایک کاغذ کا ٹکرا پیش کرنے سے کام نہیں چلے گا، اس کے علاوہ مزید شواہد بھی عدالت میں پیش کرنا ہوں گے۔

بینچ میں موجود جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ مریم نواز کا اس مقدمے میں کیا کردار ہے اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔

نیب کے وکیل ٹرسٹ ڈید کا حوالہ دیتے رہے جس پر مریم نواز اور حسین نواز کے دستخط ہیں۔

نیب کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی اور انھوں نے یہ دستاویز پہلے سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور پھر اس کے بعد پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے پیش کی گئی۔

بینچ کے سربراہ نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ ان کی ہے جس کا نیب کے وکیل نے ہاں میں جواب دیا تو اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ تو پھر یہ جعلی تو نہ ہوئی بلکہ یہ پری ڈیٹیڈ ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس مریم نواز کے ایون فیلڈ کے فیلٹ مریم نواز کی ملکیت ہونے کے بارے میں کوئی اور شواہد ہیں تو وہ عدالت میں پیش کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ نیب کے وکیل جس ٹرسٹ ڈیڈ کا حوالہ دے رہے ہیں وہ سنہ 2012 کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ

عدالت نے نیب کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ان کے سوال کا جواب دیں کہ اس ریفرنس میں مریم نواز کا کیا کردار ہے اس کے بعد عدالت مریم نواز کے وکیل کو سنے گی۔

اس سے پہلے جب بریت کی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو مریم نواز کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس فائل ہونے سے اور سزا دینے کے عمل میں شفاف طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ سے بھی وہی غلطیاں ہوئی ہیں جو ماضی میں ہوتی رہی ہیں۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ محض کاغذ کے ایک پرزے پر کسی کو سزا دینا کس طرح قابل قبول ہو سکتا ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس میں برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر انصاف کے قتل کے دو مقدمات تھے جس میں پراسیکوشن نے پلانٹڈ شہادتیں دی تھیں تو عدالت نے ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

مریم نواز کے وکیل نے احتساب عدالت کے جج، جنھوں نے ان کی مؤکلہ کو سزا سنائی تھی، کا نام لیا تو عدالت نے انھیں دوبارہ ان کا نام لینے سے روک دیا۔