ایٹمی بمباری اور سونامی کے بچوں پر اثرات

چند سال پہلے جاپان میں زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی تھی،اس خوفناک حادثے نے یہاں کے بچوں کو کیسے متاثرکیا؟نونہالوں کے مزاج اور شخصیت پر سونامی اور اسکے نتیجے میں برپا ہونے والی بربادی نے کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟پشاور سے تعلق رکھنے والی ہماری دوست خانم تسنیم قزلباش نے مجھ سے یہ سوال پوچھتے ہوئے،افغانستان کے بچوں کی مثال دی۔خانم کاکہنا تھاکہ ان کی بیٹی پشاور اسپتال میں ڈاکٹری کی ہاؤس جاب کررہی تھیں۔جن دنوں کابل اور گردونواح سے تقریباًروزانہ کی بنیاد پر زخمی پشاورلائے جاتے تھے۔ان زخمیوں میں اکثربہت سارے بچے بھی ہوتے تھے۔زیادہ تر واقعات میں شدیدزخمی ہوتے تھے،چونکہ معمولی زخمیوں کو توافغانستان کے اندر ہی ابتدائی طبی امدادکے بعد چھوڑ دیا جاتا تھا۔شدیدزخمی حالت میں جب یہ بچے اسپتال لائے جاتے تووہ بالکل خاموش ہوتے تھے۔ذرابھی رونا دھونانہیں کررہے ہوتے تھے۔ خانم کی ڈاکٹر بیٹی بتاتی ہیں کہ جب ان بچوں کو ڈرپ یاانجیکشن لگایا جاتاتوذرا بھی حرکت نہیں کرتے تھے،نہ تڑپتے،بے چین ہوتے اور نہ ہی روتے۔مکمل طور پرخاموش۔کھلی آنکھوں سے یہ سب کچھ پرسکون حالت میں دیکھتے رہتے تھے۔اپنے زخموں کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے تکتے رہتے بالکل بھی احتجاج یا چوں چراں نہیں کرتے اورنہ ہی روتے تھے۔مکمل سکوت کا عالم ہوتاتھا۔خانم کا یہ مشاہدہ اور سوال سن کر میں حیران رہ گیا۔اس حیرت کی وجہ حیران کن حدتک ایٹمی بمباری اورسونامی سے متاثر ہونے والے بچوں کی افغانستان سے آئے زخمی بچوں کے ساتھ مماثلت ہے۔ناقابل یقین حد تک ایٹمی بمباری کے مرگ انبوہ اور سونامی سے متاثر بچے بھی پیہم خاموش رہے۔بلکہ سالہاسال تک انہوں نے ان واقعات کے متعلق اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔کوئی احتجاج نہ شکایت،مکمل خاموشی۔خاص طورپرہیروشیمااورناگاساکی پرہونے والی امریکی ایٹمی بمباری کے عینی شاہدین اور متاثرین بچے تو کئی دہائیوں تک اپنی زبان پر ایک لفظ بھی اس واقعے کے متعلق لے کر نہیں آئے۔بہت سارے بچوں نے تواپنی قوت گویائی ہی کھو دی،ہمیشہ کے لئے۔کئی مگر ایسے تھے جنہوں نے دس سال بعد، بعض نے بیس سال بعداوربہت ساروں نے تو پچاس سال کے بعد اس واقعے کے متعلق اپنی زبان کھولی اور تفصیلات بیان کی ہیں۔اگست 1945میں ہونے والی امریکی ایٹمی حملوں کے بارے میں حال ہی میں ایک بزرگ نے اس واقعے کے ستر سال گزرنے کے بعد ایک کتاب لکھی ہے جس میں اپنی یاداشتیں پیش کی ہیں۔جس میں ہیروشیماپر ایٹم بن گرایاگیا۔ایک بچے کی آنکھ نے دیکھا کہ ایک جیتا جاگتا شہرکیسے آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا،مصنف نے شہر سے باہر دریا میں چھلانگ لگاکر جان بچائی کہ اس کے علاوہ تو ہر چیزایٹم بم کے شعلوں نے جلا کر بھسم کر دی تھی۔ماؤں کی جلی لاشوں سے لپٹ کر روتے ہوئے بچے،خون میں لتھڑے جابجاخون تھوکتے ہوئے لوگ۔
سونامی تو لفظ ہی جاپانی زبان کا ہے،بعدازاں پوری دنیامیں بلندسمندری لہروں اور طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کے اس عمل کو پورے عالم میں اسی نام یعنی”سونامی“کے طور پر اپنا لیاگیا۔بنیادی طورپرسمندرکے پیندے اورفرش پرزلزلے کے جھٹکوں سے سطح سمندرپراٹھنے والی بلندلہروں کوسونامی کا نام دیا جاتاہے۔جاپان میں چند برس پہلے آنے والے اس سونامی سے زیادہ خوف میں مبتلا کرنے والی چیزفوکوشیماکے ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج اوردھماکے کے خدشے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور تذبذب تھا۔یہ ایٹمی پلانٹ سونامی کے نتیجے میں شہرکے ساتھ ہی پانی میں ڈوب گیاتھا۔اس سارے واقعے کی بنیادمگرزلزلہ تھا۔سسمیک سکیل پراس کی شدت 9ڈگری تھی۔جس متعلق نذرجان کاکڑنے مجھ سے استفسارکیاتھاکہ کتنے سی سی کا زلزلہ ہے؟اس وقت ہم ری کنڈیشن گاڑیوں کے ایک آکشن ہاؤس میں بیٹھے تھے۔جب ہمیں ازن ملا کہ تمام لوگ باہر کھلی جگہ پرچلے جائیں۔اور بتی چلی گئی۔زمین جھول رہی تھی۔تبھی میں نے کہا کہ یوں لگتاہے جیسے دھرتی رقص کررہی ہے۔اس پر نذرجان لالہ کا کہنا تھاکہ ماڑا!تم پکا کیمونسٹ ہے۔کوئی خداخوفی کرو۔اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ کس عظیم تباہی نے دستک دے دی ہے۔گرچہ سونامی چند شہروں تک محدوداور ایٹمی اخراج کا معاملہ بیس کلومیٹرکے دائرے میں وقوع پذیر ہوا۔مگرنفسیاتی طورپر پوری قوم اوردنیا کے دیگر ممالک پر اس کے دیرپا اثرات تھے۔بے گھری کا شکار ہونے والے بچوں پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے بہت ساری سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں اب تک تحقیق کر رہی ہیں۔دوسری جنگ عظیم میں ایٹمی بمباری کا شکار ہونے کے بعد یہ جاپانی تاریخ کی دوسری بڑی تباہی تھی۔جس کا سامناکرناپڑا۔ان دونوں سانحات سے متاثر ہونے والے بچوں میں ایک چیزمشترک تھی اور وہ پیہم خاموشی ہے۔اتنی بڑی تباہی اور ہولناکی دیکھ کربچے رونا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔مجھے یہاں نوبل انعام یافتہ شاعرہ گبریلامسترال کی ایک نظم یاد آرہی ہے۔جس کا میں نے ہسپانوی سے براہ راست اردو زبان میں ترجمہ کیاہے۔نظم کا عنوان ”اس کا نام آج ہے“۔
ا س کا نام آج ہے۔ہم بہت سی غلطیوں اور خرابیوں کے ذمے دار ہیں مگرہماراسب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ہم نے بچوں کو نظراندازکررکھا ہے،زندگی کے چشمے کوبھلارکھاہے۔بہت سی چیزیں جن کی ہمیں ضرورت ہے،انتظارکرسکتی ہیں۔مگربچے انتظارنہیں کرسکتے ہیں۔یہی وقت ہے جب اس کی ہڈیاں بن رہی ہوتی ہیں،اس کا خون بن رہاہے اوراس کے حواس خمسہ تشکیل پارہے ہوتے ہیں۔اس کو ہم یہ جواب نہیں دے سکتے کہ”کل“کیونکہ اس کا نام ”آج“ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: