ایپل ’ایئر ٹیگ‘ کے ذریعے خواتین کی جاسوسی یا پیچھا کیے جانے کے واقعات

ایمبر نورسوردی امریکی ریاست مسیسپی میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

وہ 27 دسمبر کو دوپہر کے تین بجے اپنے گھر پہنچیں تو انھیں اپنے فون پر ایک نوٹیفیکیشن ملا۔ ’میرے فون سے ’ٹِنگ‘ کی ایک آواز آئی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔‘

اس نوٹیفیکیشن میں انھیں بتایا گیا کہ ایک نامعلوم ڈیوائس ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ 32 سالہ ایمبر نے اپنے آئی فون پر ’فائنڈ مائی‘ ایپ کھولی۔

یہاں ان کے اس دن کے پورے سفر کی کہانی موجود تھی، یعنی وہ کب کہاں گئیں، اس میں سب موجود تھا۔ ’اس میں کہا گیا کہ ’آخری بار اونر (مالک) نے آپ کی لوکیشن تین بج کر دو منٹ پر دیکھی‘ اور میں نے سوچا یہ تو وہی وقت ہے جب میں گھر پہنچی تھی۔‘

انھوں نے فوراً پولیس سے رابطہ کیا، جنھوں نے انھیں بتایا کہ انھیں معلوم نہیں اس پر کیا کارروائی درکار ہوگی۔ انھیں اب تک وہ ڈیوائس نہیں ملی جو ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ انھیں لگتا ہے کہ یہ کہیں ان کی کار میں موجود ہوسکتی ہے۔

ایپل سپورٹ کے حکام نے ایمبر کو بتایا کہ یہ ڈیوائس ایپل ایئر ٹیگ تھی۔ ’میں اب اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھتی ہوں۔‘

بی بی سی نے امریکہ میں ایسی چھ خواتین سے بات کی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کی جاسوسی ایپل ایئر ٹیگ کی مدد سے کی جا رہی تھی۔

بٹن کے سائز کی یہ ڈیوائس ایپل کے ’فائنڈ مائی‘ نیٹ ورک کے ساتھ کام کرتی ہے تاکہ گمشدہ چیزوں کو ڈھونڈا جاسکے۔ مگر امریکہ میں متعدد ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس ڈیوائس کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کی جا رہی ہے یا انھیں ٹریک کیا جا رہا ہے۔

ایپل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہم صارفین کے تحفظ کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں اور ایئرٹیگ میں پرائیویسی اور سکیورٹی کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

کمپنی کا کہنا ہے کہ حریف پروڈکٹس کی نسبت ایئرٹیگ میں سکیورٹی کی بہتر خصوصیات ہیں۔ تاہم اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایپل ایئرٹیگ کو امریکہ بھر میں جرائم کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایئر ٹیگ
،تصویر کا کیپشنایپل کے ایئر ٹیگ کو کسی چیز کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے تاکہ گم ہونے پر اسے تلاش کیا جاسکے

ایپل نے گذشتہ اپریل میں ایئرٹیگز کو متعارف کرایا تھا۔ ان کا سائز چھوٹا اور شکل گول ہے۔ بظاہر یہ ڈیوائس مارکیٹ میں موجود ایسی دوسری مصنوعات سے متاثر ہے، جیسے ٹائل۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ اسے اپنی گاڑی کی چابی یا سامان کے ساتھ لگا سکتے ہیں تاکہ گم ہونے پر انھیں باآسانی ڈھونڈا جاسکے۔

آپ ان کی مدد سے اپنی اشیا کو 0.1 فٹ کی دوری تک ٹریک کر سکتے ہیں۔ لیکن غلط ہاتھوں میں پڑنے پر یہ ڈیوائس غلط مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔

الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن میں سائبر سکیورٹی کی ڈائریکٹر ایوا گیلپرن نے کہا ہے کہ ’اگر آپ ایسی مصنوعات بناتے ہیں جو گمشدہ چیزوں کی ٹریکنگ میں استعمال ہوسکتی ہے تو یہ جاسوسی کے لیے بھی بہترین چیز بن جائے گی۔

’میں نے ذاتی طور پر ایسے کئی لوگوں سے بات کی ہے، جنھیں اپنے پاس سے (نہ چاہتے ہوئے) ایئر ٹیگز ملے ہیں۔‘

ایئرٹیگ متعارف ہونے سے کافی عرصہ پہلے بھی ایپل کو معلوم تھا کہ ایسی مصنوعات کو جرائم پیشہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ایپل نے انھیں متعارف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’ایئرٹیگز کو اشیا ٹریک کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ لوگوں کو ٹریک کرنے کے لیے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے صارفین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے ہیں تاکہ لوگوں کو جاسوسی سے بچایا جاسکے۔ اگر ایک غیر رجسٹرڈ ایئر ٹیگ لوگوں کے ساتھ سفر کر رہا ہو تو انھیں الرٹ کیا جاتا ہے۔ اگر ایئر ٹیگ کو اپنے مالک سے زیادہ دیر کے لیے الگ کیا جائے تو یہ ایک مخصوص آواز نکالتا ہے۔

دسمبر میں کمپنی نے ایک ایپ متعارف کرائی جو اینڈرائیڈ صارفین بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔

وہ صارفین جو آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم (یعنی آئی فون) پر موجود نہیں وہ بھی ’ٹریکر ڈیٹیکٹ‘ ایپ کے ذریعے یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ آیا کوئی ایئرٹیگ ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے۔

مگر کئی وجوہات کی بنا پر لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

جورجیا کی اینا ماہانی جب شاپنگ مال سے واپس آئیں تو انھیں الرٹ ملا کہ ایک نامعلوم ڈیوائس ان کا پیچھا کر رہی ہے۔

اینا
،تصویر کا کیپشناینا شاپنگ مال سے واپس آئیں تو انھیں الرٹ ملا کہ ایک نامعلوم ڈیوائس ان کا پیچھا کر رہی ہے

وہ کہتی ہیں کہ ’میں بہت گھبرا گئی اور اسے ڈِس ایبل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب بھی ایسا کرنا چاہا تو بتایا گیا کہ سرور سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔‘

وہ ایک ایپل سٹور گئیں، جہاں انھیں یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی لوکیشن سیٹنگز بند کردیں۔

جب وہ مقامی پولیس کے پاس گئیں تو انھیں پولیس نے بتایا کہ اس علاقے میں اسی طرح کی ایک اور شکایت بھی موصول ہوئی تھی۔ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ڈیوائس ان کی گاڑی کے اندر ہی موجود ہے۔

بی بی سی نے ایسی چھ خواتین سے بات کی ہے جن کا مؤقف ہے کہ ایئرٹیگز کے ذریعے ان کو ٹریک کیا گیا۔ ایک کا کہنا تھا کہ انھیں ایئرٹیگ اپنے بیگ کے اندر سے ملا جوکہ ٹیپ سے لگایا گیا تھا۔ جبکہ دوسری خواتین سرے سے اس ٹیگ کو تلاش کرنے میں ہی ناکام رہی ہیں۔

یہ تمام خواتین یہی پوچھتی نظر آ رہی ہیں کہ آخر ایپل اپنی مصنوعات کے ذریعے لوگوں کی جاسوسی کو روکنے کے لیے تسلی بخش کوششیں کر رہا ہے یا نہیں۔

ایپل کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ فون کے ساتھ کسی ڈیوائس کی حرکت کا پتا چلنے کے بعد ایئرٹیگز آٹھ سے 24 گھنٹے کے درمیان آواز پیدا کرے گا۔ لیکن ایئرٹیگ کو رجسٹر کرنا اور پھر اسے غیر فعال کرنا آسان ہے۔

اینا مہانی کہتی ہیں کہ ایپل سپورٹ نے انھیں بتایا کہ یہ اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ وہ ایئرٹیگ کو تلاش نہیں کر پائی ہیں۔ ’ایسا لگتا ہے جیسے ایئرٹیگ کا مالک شخص میرے گھر پہنچنے تک مجھے ٹریک کرتا رہا، اور پھر انھوں نے ایئرٹیگ کو بند کر دیا۔‘

ایپل کے ایئرٹیگ کے حفاظتی اقدامات میں یہ واحد ممکنہ خامی نہیں ہے۔ ایپل کی ایپ، جسے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک غیر ضروری ایئرٹیگ تلاش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، کو اینڈرائیڈ فونز کے صارفین کی بہت کم تعداد نے ہی ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔

بی بی سی نے ایپل سے اعداد و شمار مانگے کہ اینڈرائیڈ کے ڈیفالٹ ایپ سٹور گوگل پلے پر ایپ کو کتنی بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔ ایپل نے نہیں بتایا، لیکن گوگل پلے پر بتایا گیا ہے کہ تقریباً 100,000 صارفین نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت دنیا بھر میں تقریباً تین ارب فعال اینڈرائیڈ ڈیوائسز ہیں۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس آئی فون نہیں ہے تو لوگوں کو مطلع کرنے کے لیے ایک دوسرا حفاظتی اقدام موجود ہے، اور وہ ہے ’بیپنگ‘ کی آواز جو کسی غیر ضروری ایئرٹیگ کا پتا چلنے کے بعد بجتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ بھی مسائل ہیں۔

ایوا گیلپرن کا کہنا ہے کہ ایئر ٹیگز ایک مخصوص 60 ڈیسیبل کی بیپ کی آواز نکالتا ہے جسے دبانا کہیں زیادہ آسان ہے۔

ان کے مطابق ’میں صرف اپنی مٹھی میں بند کر کے اس کی آواز دبا سکتی ہوں۔ میں اس آواز کو صوفے کی گدیوں کے درمیان رکھ کر دبا سکتی ہوں۔ اسے اپنی کار کے بمپر کے نیچے رکھ کر بھی اس کی آواز کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔‘

لیکن یہ آواز بھی آٹھ گھنٹے بعد ہی آنی شروع ہوگی، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

امریکی ریاست الینوائے کے علاقے بلومنگ ڈیل میں پولیس نے مقامی باشندوں کو ایئرٹیگز کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ بلومنگ ڈیل پولیس میں پبلک سیفٹی کے ڈائریکٹر فرینک گیامریز کہتے ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ کمیونٹی کے لوگوں کو مطلع کرنا ضروری ہے کہ یہ کسی حد تک ایک مسئلہ ہے۔‘

Apple AirTag
،تصویر کا کیپشنایپل ائیرٹیگ

ان کے مطابق ’ٹیکنالوجی بہت اچھی ہے لیکن بدقسمتی سے۔۔۔ کچھ لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔‘

ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ ایپل کو غیر منصفانہ طور پر ہدف بنایا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر ٹریکنگ ڈیوائسز خریدنا آسان ہے۔

بی بی سی نے ایپل کی اس ڈیوائس کے بڑے حریف ’ٹائل‘ سے پوچھا کہ وہ اپنے آلات سے عوام کی جاسوسی روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ٹائل نے جواب دیا کہ وہ ’ایک حل تیار کر رہے ہیں‘ جس سے لوگوں کے قریب ایک نامعلوم ڈیوائس کی شناخت ممکن بنائی جا سکے گی۔ لیکن یہ حل ابھی تک سامنے نہیں آ سکا ہے۔

جوابی دلیل یہ ہے کہ ایئرٹیگز کو رجسٹرڈ آئی فون کے ذریعے آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

'فائنڈ مائی' نیٹ ورک پوری دنیا میں تقریباً ایک ارب ایپل ڈیوائسز استعمال کرتی ہیں۔ اور ان کی بلوٹوتھ کنیکٹیویٹی، درست اور طویل فاصلے تک ٹریکنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اینا مہانی کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی ہوں کہ ایپل ان ڈیوائسز کو ایسا بنائے کہ یہ آپ کا تعاقب کرنے سے پہلے آپ سے اجازت طلب کریں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’فائنڈ مائی فرینڈز‘ نامی ایپ کے ذریعے ’اگر میرے شوہر اجازت چاہتے ہیں تو مجھے اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔ اس بات کی کیا منتطق ہے کہ ایک اجنبی میرا پیچھا کر سکتا ہے لیکن مجھ سے کسی قسم کی اجازت نہیں لی جا رہی ہے۔‘

ایمبر کا خیال ہے کہ ایئرٹیگ کو اس وقت تک فروخت نہیں کیا جانا چاہیے جب تک کہ ایپل لوگوں کو بہتر طریقے سے آگاہ کرنے کے طریقوں پر کام نہ کر لے۔ ’انھیں کچھ وقت کے لیے اس کی فروخت بند کر دینی چاہیے جب تک کہ وہ حفاظتی اقدامات سے متعلق اپنا کام مکمل نہ کر لیں۔‘

ایوا کا خیال ہے کہ ایپل کو بہتر حفاظتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ’میں چاہتی ہوں کہ وہ گوگل کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ اینڈرائیڈ کو بیک گراؤنڈ میں خود بخود شناخت کی وہی سطح فراہم کی جاسکے، جیسا کہ ان کے پاس آئی فونز کے لیے پہلے سے موجود ہے۔‘

بی بی سی نے اس تنقید پر ایپل سے رائے لی تو کمپنی کا کہنا تھا کہ ’ہم کسٹمر کی حفاظت کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ایئرٹیگ سے متعلق رازداری اور سکیورٹی کے لیے پُرعزم ہیں۔ اگر صارفین کبھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے تحفظ کو خطرہ ہے، تو انھیں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، جو پھر مسئلے کے حل کے لیے ایپل کمپنی کے ساتھ مل کر اس کا کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ اور اس حوالے سے ایپل کمپنی نامعلوم ایئرٹیگ کے بارے میں کوئی بھی دستیاب معلومات فراہم کرے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.